مسجد نبوی سے میدان کربلا تک
تحریر معروف کالم نگار غلام شبیر منہاس

۔۔۔
یوں تو اسلام کی تاریخ قربانیوں اور شہادتوں سے بھری پڑی ھے۔ اور اگر آپ دین اسلام کے اوائل دن سے آج تک کی پوری تاریخ پر ایک طائرانہ نظر بھی ڈالیں تو آپکو پورے سال میں ایک لمحہ بھی ایسا نظر نہیں آئے گا جب دین اسلام کی ترویج و آبیاری اور احیائے اسلام کیلئے سرفروش اسلام قطار در قطار اپنی جان خود اپنے ہی ہاتھ میں لے کے مقتل گاہ میں نہ کھڑے ہوں۔ یہ عشاق گاجر مولی کی طرح کٹ کر اس عارضی زندگی سے رخصت پاتے اس دائمی زندگی کیطرف جارھے ہیں جو کبھی نہ ختم ہونے والی ھے اور جس زندگی میں پہنچ کر بھی یہ جانباز نہ صرف زندہ رہیں گے اور اپنے رب کے ہاں سے رزق کھایئں گے بلکہ وہ دوبارہ ایسی شہادت کی خواہش کا اظہار بھی کریں گے۔ بلاشبہ دین اسلام کی مضبوط عمارت آج تک انہی شہدآء کے پاکیزہ خون کے طفیل ہی پوری آب و تاب سے کھڑی ھے۔
مگر یہ چونکہ محرم الحرام کا محترم مہینہ ھے جو کہ اسلامی سال کا پہلا ماہ بھی ھے۔ اور اس ماہ مقدس میں جن دو برگزیدہ شخصیات نے اپنے خون سے دین اسلام کی آبیاری کی ھے آج انہی کو خراج عقیدت پیش کرنا مقصود ھے۔
ان میں پہلی عظیم ترین ہستی وہ ھیں جس کو میرے اور آپکے نبی محترم صلی اللہ علیہ وسلم نے کعبے کا پلو پکڑ کے اپنے رب سے مانگا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رب کے حضور اسلام کی سربلندی کیلئے دو شخصیات میں سے کسی ایک کو دینے کی درخواست پیش کی تو رب نے خطاب کے بیٹے کے حق میں فیصلہ فرمایا اور یوں دعائے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کے ثمر کے طور پہ قدرت نے اس عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی جھولی میں دے دیا جو گھر سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل کرنے کا ارادہ لے کے نکلے تھے۔ یہ اسلام کی تاریخ کا ایک ٹرننگ پوایئنٹ تھا۔ عمر آئے تو نہ صرف کعبے کا در کھلا۔۔مکہ کے درودیوار نے نعرہ تکبیر کا واشگاف نعرہ سماعت کیا بلکہ مسلمانوں کے جھکے ہوئے سر سیدھا ھونے شروع ھوگئے۔ خطاب کے بیٹے نے جس لمحہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ پہ اپنا ہاتھ رکھ کر بیعت کرلی اور کلمہ پڑھ لیا تو اس کے بعد پھر ساری زندگی یوں اسلام کی خدمت کی کہ انگریز مورخ بھی یہ لکھنے پہ مجبور ھوگئے کہ اگر اسلام کو ایک اور عمر فاروق میسر ہوجاتا تو دنیا میں کہیں بھی کفر کا کوئی نشان باقی نہ رہ پاتا۔
خلیفہ اول حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے وفات پاجانے کے بعد جب آپ منصب خلافت پہ آئے تو نہ صرف فتوحات کا ایک عظیم سلسلہ شروع ہوا جو ساڑھے بایئس لاکھ مربع میل تک پھیل گیا بلکہ آپ نے بے شمار ایسی اصلاحات بھی کیں جن سے آج بھی دنیا استفادہ کررہی ھے۔
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کئی مواقعوں پہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو زبردست خراج تحسین پیش کیا۔ ایک موقعہ پہ فرمایا کہ اگر میرے بعد نبوت کا دروازہ بند نہ ہوتا تو عمر نبی ہوتا۔ اسی طرح ایک اور موقعہ پہ فرمایا عمر تیرے سائے سے بھی شیطان بھاگتا ھے۔ ان گنت اوصاف کے مالک۔۔ جن کے مشوروں کی تایئد میں کئی بار وحی کا نزول ہوا۔۔جنھوں نے فوج اور پولیس سمیت کئی محکموں کی بنیاد رکھی۔ جنھوں نے سپاہ کی تنخواہیں ۔۔راشن اور چھٹیاں متعارف کروایئں۔ جنھوں نے دریائے نیل کو خط لکھ کر ایسا رواں کروایا کہ وہ دوبارہ خشک نہ ہوا۔۔جنھوں نے دنیا میں ایسا نظام انصاف متعارف کروایا کہ زلزلہ آیا تو زمین پہ اپنا درہ مار کے فرمایا کانپتی کیوں ہو کیا عمر نے تجھ پہ انصاف نہیں کیا۔۔اس عظیم المرتبت صحابی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ۔۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سسراور مراد۔۔علی رضی اللہ عنہ کے داماد۔۔اور مسلمانوں کے دوسرے خلیفہ کا اسی ماہ محرم کی پہلی تاریخ کو یوم شہادت ھے۔ زوالحجہ کی آخری تاریخوں میں مسجد نبوی میں امامت کے دوران ابولولوفیروز مجوسی نے زہر آلود خنجر سے آپ پہ حملہ کیا جس کے نتیجہ میں اسلام کا یہ عظیم فرزند اسلام کے پہلے ماہ کی پہلی تاریخ کو جام شہادت نوش کرتے ہوئے خالق حقیقی کے حضور جا پہنچا۔ اور آج نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ روضہ انور میں آرام فرما ھے۔
اسی ماہ محرم کی دس تاریخ کو نواسہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ۔۔جگر گوشہ بتول۔۔لخت جگر شیر خدا حضرت حسین رضی اللہ عنہ نے بھی اپنے کنبے سمیت قربانیوں کی وہ لازوال تاریخ رقم کی جس کا تزکرہ قیامت تک ہوتا رھے گا۔۔نانا کے شہر سے دور کربلا کے ریگزاروں میں اس شہزادے نے جس جرات جس جواں مردی جس دلیری اور جس شجاعت و استقامت سے حالات کا مقابلہ کیا وہ اپنی مثال آپ ھے۔
حضرت علی المرتضی رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد جب حضرت حسن رضی اللہ عنہ نے جب حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کی حکومت کی بیعت کرلی تع تمام عالم اسلام نہ صرف متحد ھوگیا بلکہ کوئی فتنہ نے سر بھی نہ اٹھا سکا۔۔یوں عالم اسلام کی سب سے بڑی سلطنت قائم ہوئی جس کو دیکھ کر یہ شہزادے میں مطمعن و خوش رھے۔ مگر جب معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کی وفات کے بعد یزید کا دور اقتدار آیا تو اس وقت امام نے محسوس کیا کہ اب مجھے میدان عمل میں اترنا ھوگا۔ کیوں کے ان کے اقدامات سے میرے نانا کا دین خطرے میں پڑ جائے گا۔ چناخچہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ مدینہ سے 28 رجب کو اپنا پورا کنبہ لے کے مکہ کیلئے روانہ ہوئے اور ایک لمبا سفر طے کرنے کے بعد 3 شعبان 60 ہجری کو مکہ مکرمہ پہنچے جہاں آپ نے چار ماہ قیام کیا۔ ایام حج شروع ہونے پر حج کی نییت سے احرام باندھا مگرکوفہ کے سفر کی وجہ سے آپ نے احرام حج کو عمرہ میں تبدیل کیا اور 8 زوالحجہ 60 ھ کو مکہ سے کوفہ روانہ ھوگئے۔
نبی کے اس لاڈلے نواسے۔۔جنت کے نوجوانوں کے سردار۔۔فاطمہ رضی اللہ عنہا بنت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے اس لاڈلے لخت جگر کو۔۔امت کے اس شہزادے کو جس کو دیکھ کر میرے نبی خطبہ چھوڑ دیا کرتے تھے۔۔جو کائنات کے امام کی پشت پہ سوار ہوتے تو سجدہ لمبا کرنے کا حکم آجاتا۔۔عرب کے اس حسین و جمیل شہزادے کو۔۔اسی سفر میں محرم الحرام کی 10 تاریخ کو کربلا کے ریگستان میں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کیطرح بھوکا پیاسا زبح کردیا گیا۔ یوں جہاں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بوسہ دیا کرتے تھے وہاں وقت کے یزیدوں نے خنجر پھیر کر امام کو ہمیشہ کیلئے سرخرو اور اپنے آپکو بدبختی و ضلالت کی گھاٹیوں میں گرا لیا۔
یہ اسلامی سال کے پہلے ماہ میں دوسری بڑی قربانی تھی جس کو تاریخ اگر چاہے بھی تو فراموش نہیں کرپائے گی۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دنیا سے پردہ فرما جانے کے بعد اسلام کے دوسرے فیز میں۔۔ مسجد نبوی سے یکم محرم کو ابولو فیروز کے ہاتھوں حضرت عمررضی اللہ عنہ کے مقدس خون سے شہادتوں کے جس سفر کا آغاز ہوا تھا وہ ابن سباء کے ہاتھوں قرآن کی تلاوت کرتے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی مظلومانہ شہادت۔۔اور کوفہ کی مسجد میں ابن ملجم کے ہاتھوں حضرت علی رضی اللہ عنہ کی شہادت سے ہوتا ہوا کرب وبلا میں شہادت سیدنا حضرت حسین رضی اللہ عنہ پہ آکر رکا۔ مگر رکا کہاں۔۔یہ سلسلہ آج بھی جاری ھے۔۔اور یہ اسلام کا تیسرا اور آخری فیز ھے جو قیامت تک جاری رھے گا۔
بس ضرورت اس امر کی ھے کہ مسلمان اپنی صفوں میں اتحاد و یگانگت پیدا کرتے ہوئے۔۔وقت کے ابولولو۔۔ابن سباء۔۔ابن ملجم۔۔اور شمر و یزید پہ نظر رکھیں۔۔یہ آج بھی گلی کوچوں میں گھات لگائے بیٹھے ہیں۔۔یہی یکم محرم کا درس بھی ھے اور یہی دس محرم کا سبق بھی۔
والسلام دعاوں کا طلبگار غلام شبیر منھاس












