عظیم شہادت حسین ؓابن علیؓ
تحریر معروف کالم نگار : زبیر احمد صدیقی

اسلامی تاریخ شہادتوں سے بھری پڑی ہے تاریخ کے اوراق پلٹے جائیں تو انبیاء علیہ سلام اور ان کے امتیوں کی شہادتیں ملتی ہیں بنی اسرائیل کے یہودیوں نے انبیاء علیہ سلام کونا حق قتل کیا حضرت زکریا علیہ سلام کو آرے سے دوٹکڑوں میں تقسیم کردیا گیا حتٰی کہ یوسف علیہ سلام کو ان کے بھائیوں نے دھوکہ سے شہید کرنے کی کوشش کی رعل زکوان کے قبیلے کے لوگوں کو شہید کردیا گیا ک اما م کائنات نبی مکرم ﷺکی زندگی میں ستر قاری القرآن کو شہدکیاگیا پھر خلیفہ دوم حضرت عمرفاروق ؓ کو ایک شقی القلب نے خنجر کے وار سے شہید کیا اور بلوائیوں نے حضرت عثما ن غنی ؓ کومد ینہ رسول ﷺ میں بڑی بے دردی سے شہید کیاپھر شیر خدا مولا علی ؓکو مسجد کے اندر ابن ملجم نے شہید کردیا بیشک شہید ہونا بہت بڑی فضلیت ہے دل میں خواہش رکھتے ہوئے ہمارے پیارے آقامولا محمد کریم ﷺ بھی اللہ سے دعا مانگتے اے اللہ میرا دل چاہتا ہے کہ میں شہید ہوجاؤں پھر اٹھایا جاؤں پھر شہید ہوجاؤں پھر اٹھایا جاؤں پھر شہید ہوجاؤں کیونکہ شہادت کا مقام ہی ایسا ہے جس کی خواہش ہر مومن کے دل میں ہونی چاہیے یہی تمنا لیے نواسہ رسول ﷺ حسین ابن علی ؓ بے وفا کوفیوں اور یذیدی لشکر کو للکارتے ہوئے لڑتے لڑتے میدان کربلا میں شہادت کے اعلی منصب پر فائزہوگئے اپنے نانا رسول ﷺکی پیشن گوئی کے مصداق بن گئے شہید حسین ابن علیؓ کے متعلق پہلے ہی سرور کائنات نے امت کو اگاہ کردیا تھا۔سیدنا علی ؓ سے رو ا یت ہے کہ ایک دن میں نبی ﷺ کے پاس گیا تو دیکھا آپﷺ کی آنکھوں سے آنسوبہے رہے ہیں۔میں نے کہا اے اللہ کے نبی ﷺ کیا کسی نے آپ کو ناراض کردیا ہے؟آپ ﷺ کی آنکھوں سے آنسو بہے رہے ہیں آپﷺ نے فرمایا میرے پاس ابھی جبرئل علیہ سلام اٹھ کرگئے ہیں انہوں نے مجھے بتایا ہے کہ حسین ابن علی ؓ کو فرات کے کنارے قتل (شہید) کیا جائے گا (مسند احمد،سنن ابی داود)سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنھما سے روایت ہے کہ میں نے ایک دن دوپہر کو بنی ﷺ کو خواب میں دیکھا،آپ کے بال بکھرے ہوئے اور گرد آلود تھے،آپ کے ہاتھ میں خون کی ایک بوتل تھی،میں نے پوچھا میرے ماں باپ آپ ﷺ پر قربان ہوں، یہ کیا ہے؟آپ ﷺ نے فرمایا یہ حسین ؓ اور ان کے ساتھیوں کا خون ہے، میں اسے صبح سے اکٹھا کر رہا ہوں (مسند احمد)اس سے معلوم ہوا کہ نبی ﷺ اپنے نواسہ حسین ابن علی ؓ کی شہادت پر سخت غمگین تھے سیدنا عبداللہ بن عمررضی اللہ عنھما سے کسی عراقی کوفی نجدی نے پوچھا اگر کوئی شخص احرام کی حالت میں مچھر ماردے تو اسے کفارہ دینا پڑے گا؟ اس کے جواب میں سیدنا عبداللہ بن عمرؓ نے ارشا د فرمایا اسے دیکھو یہ عراقی کوفی نجدی مچھر کے خون کے بارے میں پوچھ رہا ہے اور انہوں نے نبی ﷺکے بیٹے (نواسے)کو قتل (شہید)کیا ہے (بخاری:۴۹۹۵،۳۵۷۳)اس لیے نبی ﷺ نجدیوں کے حق میں دعا کرنے سے انکار کردیتے آپﷺ عراق نجد کے بارے فرمایا وہاں سے شیطان کا سینگ ظاہر ہوگا فتنے نکلے گے وہاں زلزلے ہوگے جب سیدنا حسین ابن علی ؓ کی شہادت کی خبر عراق سے آئی تو امہ سلمہ ؓ نے فرمایا عراقیوں پر لعنت ہو عراقیوں نے آپ کو قتل کیا اللہ انہیں ذلیل کرے ان کے گھروں اور قبروں کو آگ سے بھردے بنی کریم ﷺ کی زوجہ امہ سلمہ ؓ خود غم کی شدت سے بے ہوش ہوگئی امہ سلمہ ؓ فرماتی ہے کہ میں نے جنوں کو حسین ؓ کی شہادت پر روتے ہوئے سنا ہے۔ (مسند احمد، تاریخ دمشق،المجم الکبیرالطبرانی)امام حسین ابن علی ؓ کی شہادت کا المناک واقعہ بے وفا کوفیوں،عراقیوں کے دھوکہ بازیوں تدلیسانہ،مکارانہ چالبازیوں سے پیش آیا حضرت امام حسین ؓ کے مکہ پہنچنے کے بعد کوفہ والوں نے بلاوے کے خطوط لکھے ہزاروں کی تعداد سے لکھے وعدے وفا لکھے پھر عمائد کوفہ نے خود آکر درخواست کی اور آپ نے چچیرے بھائی مسلم بن عقیل کو حالات کی تحقیق کے لیے کوفہ روانہ کیامسلم کے پہنچتے ہی اٹھارہ ہزار بے وفا کوفیوں نے پہلی مجلس میں ہی بیعت کرلی حضرت مسلم نے حالات سے مطلع کیا تو آپ نے کوفہ جانے کا مصمم ارادہ کرلیا عبداللہ بن مطیع اور عبداللہ بن عباس ؓ نے کہا خداکے لیے فریب کار کوفیوں اور عراقیوں کے بھرے میں نہ آئیے لیکن خدا کو شہادت ہی منظور تھی آپ 10 ذی الحجہ کو مکہ سے چلے اور راستے کی تیس منازل کے حساب سے 6 محرم الحرام کو حسین ابن علی ؓ القرعا کے مقام پر پہنچے اور 7 محرم کو العذیب 8 محرم کو ذوحسم وقصرمقاتل اور ۹محرم الحرام کو کربلا پہنچے دوسرے روز ۰۱محرم کو جب کوفیوں نے د یکھاکہ اب ہماری چالبازیوں اور دھوکہ بازیوں کے پول کھولنے لگے ہیں وہ کوفہ والے جنہوں نے مسلم بن عقیل کے ہاتھ پر ہزاروں نے بیعت کی تھی ان کے ہاں جائے پناہ نہیں ملتی تھی اگر پناہ ملی بھی تو بمشکل ام ہانی کے گھر میں پناہ ملی اور وہ بھی معقل کی سراغ رسانی سے مسلم اور ہانی کو قتل کردیا گیا اب حسین ابن علی ؓ کو دیکھ کر کوفیوں پر سناٹا طاری ہوگیا اس زمانہ میں کوفہ کی آبادی لاکھو ں میں تھی مگر نہ جانے ان لوگوں کے خمیر کس مٹی سے بنے ہوئے تھے ان کو معلوم نہیں تھا کہ ہمارے پاس آنے والا ابن رسولﷺ ہیں جس کے بارے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ حسن و حسین رضی اللہ عنھما سے محبت رکھنا اللہ اور اس کے رسول سے محبت رکھنا ہے ان سے بغض و عداوت رکھنا اللہ اور اس کے رسول سے بغض و عداو ت رکھنے کے مترادہے جس کے بارے فرمایا کہ حسن وحسین رضی اللہ عنھما یہ دونوں دنیا میں میرے پھول ہیں اہل جنت کے نوجوانوں کے سردار ہیں اب اگر کوئی شخص حسین ؓ سے بغض و عداو ت رکھے اور انہیں قتل کرنے سے بھی دریغ نہ کرے جیسے انہوں نے نہایت،شقاوت اور سنگدلی اور بے رحمی سے آپ کو شہید کردیا میرے اساتذہ کرام میں سے اور نہایت واجب تکریم بزرگ ڈاکٹر ابوجابر عبداللہ دامانوی حفظ اللہ تعالی مصنف کتب کثیرہ جنہوں نے حضرت حسن و حسین ؓ کے فضائل اور مناقب پربھی کافی مضامیں لکھیں وہ اپنی تحریر میں اہل ایما ن سے یہ سوال کرتے ہیں؟یزید کو حسینؓ کے مقابلے میں کھڑا کرکے حسین ؓ کو باغی کہنے والے کس زمرے میں شامل ہیں؟جن کوفیوں،عراقیوں نجدیوں نے حسین ؓ کو شہید کیا یا قتل کا حامی ہو ا تو پھر ان کی کیسے بخشش اور مغفرت ہوگی سیدنا حسن ؓ و حسین ؓاور سیدنا علی رضی اللہ عنھم سے محبت رکھنا تو معیار ایمان اور ایمان کی کسوٹی قرار دیا گیا ہے اب بتایا جائے کہ ان سے بغض وعنا د رکھنے والے اور ان کے قاتلین کس زمرے میں شامل ہیں؟اور کیا کوئی اہل ایما ن حسین ؓ کے مخالفین کے گروہ میں اپنے آپ کو شامل کرنا پسند کرتاہے؟پسند اپنی اپنی۔ انجنٗیر محمد علی مرزا بھی اپنے پمفلٹ میں تحریر کرچکے ہیں۔انتخاب اپنااپنا صحیح بخاری اور صحیح مسلم کے بنیادی راوی اور محدث سیدنا ابراھیم نخی تابعی ؒ کا قول ہے ”اگر (بالفرض)میں اُن لوگوں میں ہوتا جنھوں نے سیدنا حسین ؓ کو قتل (شہید)کیا تھا،پھر (قیامت کے دن)میری مغفرت بھی کردی جاتی،اور میں جنت میں داخل بھی ہوجاتا،تو اس وقت جنت میں رسول اللہ ﷺ کے پاس گزرنے سے بھی شرم کرتا کہ کہیں آپ ﷺ میری طرف دیکھ نہ لیں (کہ تودنیا میں حسینؓ کے قاتلوں کا حامی تھا)(المجعم الکبیر للطبرانی:حدیث نمبر 2829۔۳ /۲۱۱)سیدناحسین ابن علی ؓ ۲۷کا قافلہ لے کر کربلا کے میدان میں کس مقصد کے لیے گیے اور ان کو وہا ں پر کیوں رکنا پڑا اور اپنے ننھے معصوم پھول جیسے بچوں سمیت جوانوں تک لاشوں کو اٹھانا پڑا دشمنوں کے سامنے چٹان کی طر ح ڈٹ گئے۔اور اپنی جان عزیز قربا ن کی ان کی عظیم قربانی تو خود اس با ت کا ثبوت ہے کہ وہ اس مقصد کو جان سے بھی زیادہ عزیز رکھتے تھے مگر ہم اس مقصد کے لیے کچھ نہ کریں بلکہ اس کے خلاف کام کرتے رہے حسین ابن علی ؓ اتنی عظیم قربانی دے ہم یزید یت کو آرٹ بنا کر چاپلوسی کو اپنا شیوہ بنا لیں غریبوں،یتیموں بیواؤں،مسکینوں کا ناحق مال کھا جائیں شراب مزے لے کر پیئے مسلمانوں بھائیوں بہنوں کی عزتوں کو پامال کرتے جائیں کیا سیاستدان ایوانوں،اسمبلیوں میں سرعام جھوٹ نہیں بولتے جس مقصد کے لیے حسین ؓ نبردآزما ہوئے تھے وہ آج عروج پر ہے کیا کوئی یہ بدگمانی کرسکتا ہے کہ حسین ابن علی ؓ اپنی زات کے لیے اقتدار حاصل کرنے کی خاطر مسلمانوں کی خون ریزی کرسکتے تھے؟ ہم دس محرم الحرام کاعشرہ سن کر کربلامیں خانوادہ رسولﷺ کی قربانیوں سے وہ سبق حاصل نہ کیا جس مقصد کے لیے عظیم شہادت پیش کی گئی۔

🌹🌹والسلام زبیراحمد صدیقی چئیرمین پریس کلب چونڈہ🌹

0307/6317006
0331/6707140 🌹