قانون کو دھکاپولیس ملازمین کو بھی دھکے

تحریر مظہر حسین باٹی بارہ میل خانیوال

ایسی صورتحال اکثر و بیشتر دیکھنے کو ملتی ہیں،،،،،،،،،،،،،،،،،، ان کے پیچھے اصل حقائق کیا ہوتے ہیں اگر کسی کو معلوم ہوتو براہ مہربانی کمنٹس میں جواب ضرور دیں،،،،،،،،،،،،،،،،،،،
پولیس کا کام عوام کو تحفظ فراہم کرنا ہوتا ہے کسی ناخوشگوار واقعات کو کنٹرول کرکے معاشرے میں امن و امان کی فضا کو قائم کرنا تاکہ معاشرے میں منفی اثرات کم ہو جائیں،،،،،،،،،،،،،،،،،
اسمبلی میں پولیس کے لیے ہر اجلاس میں کروڑوں روپے کی خطیر رقوم جاری کی جاتی ہیں تاکہ پولیس زیادہ سے زیادہ بڑھ چڑھ کر عوام کو سہولیات و تحفظ فراہم کرسکے،،،،،،،،،،،،
لیکن یہاں پر صورتحال یکسر مختلف ہے حکومت کی طرف سے جاری شدہ پولیس کے لیے فنڈز دفاتر میں ہی تقسیم ہوجاتے ہیں فنڈز ہڑپ کرنے والا مافیا عرصہ دراز سے ہے جو کہ اعلی افسران کو بھی راضی کرلیتے ہیں یوں کروڑوں میں سے چند لاکھ ڈی پی او آفس تک آن پہنچتے ہیں ان پہنچنے والی رقم کو ڈی پی او آفس کے بھی ملازمین بہتی گنگا میں ہاتھ دھو لیتے ہیں باقی کچھ رقم بچ جاتی ہے جو کہ متعلقہ تھانوں میں بھیج دی جاتی ہے جسکی وجہ سے لاکھوں کا کام ہزاروں سے ناممکن ہوتا ہے،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،
اکثر تھانوں میں بنیادی سہولیات نہ ہونے کے برابر ہیں، سونے کا مناسب انتظام، پینے کا صاف پانی،،،کھانے کا بھی انتظام نہ ہونے کے برابر،،،، تفتیش کے لیے بھی جگہ نہیں ہوتی جہاں پر بیٹھ کر کریمینل قسم کے ملزمان کی تفتیش کی جاسکے،،،،،،،،،،،،،،، اکثر تھانوں کی عمارتیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں جسکی وجہ سے کسی بھی وقت کو بڑا سانحہ ہوسکتا ہے،،،،،،،،،، جبکہ اس کے برعکس پولیس کے اعلی افسران ہائی سکیل ملازمین بادشاہوں جیسی زندگی گزار رہے ہیں،،،،
اس صورتحال میں ملازمین کرپشن کے تمام ریکارڈ توڑ دیتے ہیں کیونکہ ان کو پتہ ہوتا ہے کہ سرکاری طور پر تو کوئی سہولت میسر نہیں ہونی چلو،،،، #اپنڑی #مٹی #اپنڑے #سر #وچ،،،،،، کے تحت کام چل سکے،،،،،،،،،،
پولیس کے اعلی افسران کو سہولیات بھی بہت زیادہ ہوتی ہیں اور وہ کرپشن بھی ہائی لیول پہ کرتے اور ان کی شکایت بھی کوئی نہیں کر سکتا کیونکہ شکایت کنندہ کو پتہ ہوتا ہے کہ اس کا کھمیازہ بری طرح ادا کرنا پڑے گا،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،، جبکہ چھوٹے ملازمین اگر بیچارے کہیں سے کچھ لے لیں تو ان کی شامت آئی ہوتی ہے،،،،،،،،،،،،، اگر اعلی افسران کی طرف سے سہولیات مکمل مل جائیں تو نظام بہتر چل سکتا ہے،،،،،،،،،،،،،،
تحصیل جہانیاں کے ڈی ایس پی نے باریش سفید داڑھی والے بزرگ کو تھپڑ رسید کیا سوشل میڈیا پر ساری سٹوری بریک کی گئی لیکن چند ہی گھنٹوں بعد محکمانہ پریشر پر بیان تبدیل ہوگیا ایک کہاوت سنتے آئے ہیں کہ چھوٹی مچھلی بڑی مچھلی کو کھا نہیں بلکہ نگل جاتی ہے،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،
اگر ایمانداری سے ہر تھانے میں حکومت کی طرف سے جاری کردہ فنڈز کی ترسیل کی جائے تو کوئی بھی تھانے کا ملازم اپنی گاڑی کو دھکا نہ لگائے بلکہ گاڑی ملازمین کو دھکا دے کر جرائم والی جگہوں پر پہنچائے اس سے یہی ظاہر ہوتا ہے کہ کرپشن نے ادارے کو دیمک کی طرح چاٹ لیا ہے،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،
اعلی حکام نوٹس لیں،،،،،،،،،