کاش ایسا نہ ہو
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تحرہر ۔۔مقبول احمد چشتی

ہمارا نظام کچھ اس طرح کا ہے کہ پہلے اصل اور بے گناہ مشتبہ افراد گرفتار ہوں گے، چھتر پریڈ ہوگی ، پھر کچھ پولیس تشدد کے ڈر سے اعتراف کرلیں گے ، با اثر ضمانتیں کروالیں گے ، مقدمہ چلے گا تو موقعہ کا گواہ کوئی نا ہو گا، اگر کوئی جانتا ہو تو عدم تحفظ یا پیسے لے کر چپ ہوجائے گا، تشدد زدہ خاتون تفتیشی افسران کے واہیات سوالات کے ذریعے بار بار رسوا ہونے کے خوف سے کیس کی پیروی میں دلچسپی نہ لے گی ، اصل مجرمان موقع پاکر اپنے سیاسی آقاوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں میں موجود ہم پیشہ افسران کے تعاون سے روپوش یا بیرون ملک فرار ہوجائیں گے۔ تفتیشی بار بار تبدیل ہوں گے، شناخت پریڈ میں پہلے سے طے شدہ کرائے کے گواہ شناخت سے انکار کردیں گے، معزز طبی ماہرین سے مل کر من پسند رپورٹیں حاصل کی جائیں گی۔فرانزک رپورٹوں کی تکنیکی خامیوں کو بنیاد بنا کر طویل جرح ہوگی، ورثا وکلا کے ہاتھوں اور مجرموں کے خوف سے تھک ہار کر گھر بیٹھ جائیں گے ، مغربی امداد پر پلنے والی این جی اوز کے گماشتے چند دن کی بیان بازی کے پیسے لے کر اگلے واقعہ کا بے چینی سے انتظار کریں گے ، مجرموں کو فوری پھانسی اور قانون کے مطابق سزا دینے کے جذباتی مشورہ باز چند روز کی فیس بکی ٹر ٹر کے بعد پھر اپنے سیاسی لیڈروں کی پاک دامنی ثابت کرنے اور دینی کارکن مقدسات اسلام کے نام پر اپنے اپنے دینی پیشواؤں کی قیادت میں جہاد باہمی میں مصروف ہوجائیں گے۔ طویل خاموشی کے بعد عدالت عالیہ تفتیشی افسران کی نااہلی ثابت کرکے اصل یا بے گناہ ملزموں کو کچھ عرصہ جیل کاٹنے کے بعد استغاثہ پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے عدم ثبوت کی بنا پر بری کردے گی۔ یہ ہے اس اسلامی جمہوریہ پاکستان کا نظام عدل و انصاف ۔ ہمارے تعاون سے یہ جمہوری تماشا یو نہی جاری رہے گا۔

آئیے اپنے چہروں پر کالک مل کر اور با آواز بلند جھوم جھوم کر ناچیں گائیں:
کرنیل نی جرنیل نی۔۔۔۔۔
جئے بھٹو۔۔۔
میاں دے نعرے وجن گے۔۔
آئے گا جب عمران ۔۔۔۔۔