سانحہ لاھور موٹروے ھولناک کربناک دردناک شرمناک واقعہ
تحریر رانا شاہد نذیر گڑھ مہاراجہ
جھنگ
قارئينِ اکرام؛؛اسلام علیکم
جنت داغدار ہو گئی بچوں کے سامنے
خدایا ! کسی فرشتے کو ہی بھیجا ہوتا
لاھور موٹروے پہ پیش آنے والے ھولناک کربناک دردناک شرمناک واقعے کی جتنی مذمت کی جاۓ کم ھے؛
سمجھ سے بالاتر ھے کہ کس کس کرب و بلا پہ ماتم کیا جاۓ کس کس یزید پہ لعنت کی جاۓ کس کس ظلم پہ انسان نوحہ کناں ھو کس کس ظالم کے خلاف برسرپیکار ھو؛
یہ ستر سالوں سے کیا ھو رھا ھے پاکستان میں نہ حوا کی بیٹی محفوظ نہ پھول جیسے اس کے بیٹے محفوظ نہ کلی جیسی زینب محفوظ؛؛ محفوظ ھے تو بس ظالم محفوظ ھے سفاک درندے محفوظ ھیں؛؛
اگر 25سال پہلے سو بچوں ریپ اور قتل کے ملزم جاوید اقبال کو بجائے جیل کے اندر مارنے کے سرعام چوک میں پھانسی لٹکا کر عبرت بنایا ھوتا تو قصور میں نہ سات بچوں کا ریپ ھوتا نہ زینب موت کے منہ میں جاتی؛؛
بیس پچیس سال پہلے مختاراں مائی کو ھائی لائٹ کرنے کے گارڈ اور پجارو دینے کے بیرونِ ملک حکومتی ایماء پر دورے کروانے کے یورپ ملکوں کی شہریت لے کر دینے کے دنیا کی این جی اوز سے ڈالرز لے کر دینے سے بہتر تھا کہ مختاراں مائی کے ملزمان کے لیے خصوصی عدالتی بنچ بنا کر فوری سزاۓموت سنائی جاتی اور فوری سزا پہ عمل درآمد ھوتا تو آج نہ موٹروے پہ بچوں کے سامنے ممتا کی عزت تار تار ھوتی نہ ملک بدنام ھوتا نہ اداروں پہ لعن طعن ھوتی نہ ججوں کی طرف انگلیاں اٹھتیں نہ پولیس کو موردِ الزام ٹھہرایا جاتا؛؛
لیکن اس بار بھی ایسا کچھ نہیں ھونا اس بار بھی ملزمان بری ھوں گے اس بار بھی وکلاء بھاری فیسوں کے عوض ملزمان کو بے گناہ ثابت کرنے کی کوشش کریں گے اس بار بھی ججز ثبوت کم ھونے کا بہانہ بنا کر ملزمان کو رعایت دیں گے کیونکہ لٹنے والی شاید نہ کسی جج کی بیٹی ھے نہ کسی وکیل کی نہ کسی جنرل کی بیٹی ھے نہ کسی سیاستدان کی وہ تو بس دو معصوم بچوں کی ماں ھے وہ تو فرانس سے آئی ھوئی اسلامی کلچر سے محبت کرنے والی خاتون ھے وہ تو فرانس کی پر امن زندگی کو چھوڑ کر پاکستان کی محبت میں وطن آئی تھی 😭 جسے ھم کچھ عرصہ بعد بھول جائیں گے اور مجرمان بری ھو جائیں گے
ربا کاش قیامت کی تاریخ مقرر ھوتی جو عدالتی تاریخوں پہ تلوار کی طرح لٹک رہی ھوتی تو میرے دیس کے جج وکیل پولیس کبھی یہ نہ سوچتے کہ قیامت کس نے دیکھی ھے.
محمدشاھدنذیر،
سینئرممبر یوتھ کمیٹی گڑھ مہاراجہ جھنگ









