موٹر وے پر پیش آنے والا واقعہ اور پاکستانی لبرلز
صاحبزادہ مبشر علی صدیقی
گجر پورہ کے قریب موٹر وے پر پیش آنے والے نہایت شرمناک واقع کی جتنی مزمت کی جائے کم ہے دل بہت دکھی ہے ہمارا مطالبہ ہے کہ مجرموں کو اسلام کے مطابق قرار واقعی سزا دی جائے اور نشان عبرت بنایا جائے جیساکہ وزیراعظم صاحب نے عزم کا اظہار کیا
ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے مستقل حکمت عملی وضع کی جائے
اس وقوعہ کے بعد شتر بے مہار شوشل میڈیا کے بے لگام لبرلز نے ہمیشہ کی طرح اپنے خبث باطنی کو ظاہر کرتے ہوئے یہ تبصرے کرنے شروع کر دیے کہ عورت کو اکیلے نکلتے ہوئے سوچنا چاہیے تھا کہ یہ نمازیوں ، حاجیوں اور زکوۃ دینے والوں کا ملک ہے وغیرہ وغیرہ
گویا کہ ان کا مطلب ہے جس معاشرے میں حاجی ، نمازی اور زکوۃ دینے والے ہوتے ہیں وہاں ایسے واقعات پیش آتے ہیں آئیے دیکھتے کہ اکثر عرب مسلم ممالک اور ترکی وغیرہ ہم سے صدقات و خیرات اور نماز پڑھنے میں بہت آگے ہیں کیا کبھی ایسے واقعات اتنی تعداد میں وہاں بھی وقوع پذیر ہوتے ہیں جتنے ہمارے ہاں ہو رہے ہیں ؟ معاملہ در حقیقت کچھ اور ہے یہ لبرلز ہر ایک برائ کو اسلام اور پاکستان کے نام منسوب کرنا اپنا فرض عین سمجھتے ہیں کیونکہ ان کی کمائ کا واحد ذریعہ ہی یہی ہے ایسا نہیں کریں گے تو کھائیں گے کہاں سے ؟
اسلام اور پاکستان کا تشخص خراب کرنے کا کوئی موقع اپنے ہاتھوں سے نہیں جانے دیتے
اب ہم ان کے آقاؤں کے ممالک میں عورتوں اور بچوں کے جنسی تحفظ کی خبر لیتے ہیں وہ ہم سے کئ گنا زیادہ جنسی تحفظ دینے میں ناکام ہیں مگر ادھر کبوتر کی طرح آنکھیں بند ہیں مجال ہے آپ کبھی ان سے اپنے آقاؤں کے خلاف ایک لفظ بھی سن سکیں
امریکا اس وقت ” ریپ زدہ” ممالک میں سر فہرست ہے۔ نیشنل وائلنس کی رپورٹ کے مطابق امریکا میں ہر چھ میں سے ایک عورت اور ہر تینتیس میں سے ایک مرد جنسی زیادتی کا شکار ہے اور یہ درج ہونے والے مقدموں کا سولہ فیصد ہے جو مقدمات درج نہیں ہوتے وہ الگ ہیں ۔ جنوبی افریقا کو دنیا میں ” ریپ کا دار الحکومت ” کہا جاتا ہے۔ صرف 2012 میں 65،000 سے زیادہ جنسی تشدد کی واقعات پیش آئے۔ میڈیکل ریسرچ کونسل کی تحقیقات کے مطابق دنیا میں بچوں کے ساتھ زیادتی کا سب سے زیادہ اوسط جنوبی افریقا میں ہی ہے ۔ آپ جنت نظیر اور دنیا کی ہر عیاشی سے مالا مال سوئیڈن کو لے لیں جہاں ہر چوتھی خاتون یا لڑکی ” ریپ شدہ ” ہے۔ صرف 2009 میں 15،700 خواتین کو جنسی تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور یہ تعداد 2008 کے مقابلے میں آٹھ فیصد زیادہ ہے۔ پچھلے دس سالوں میں سوئیڈن میں جنسی تشدد کے واقعات میں 58 فیصد تک اضافہ ہوا ہے۔
آپ *نام نہاد اور سیکولر ریاست* کا راگ الاپنے والے بھارت کی بات کرلیں جہاں ہر بائیس منٹ پر ایک عورت جنسی تشدد کا نشانہ بنائی جاتی ہے اور کبھی اپنے بھائی، باپ یا رشتے داروں کے ہاتھوں ہی یہ کارنامہ سر انجام پاتا ہے۔ نیشنل کرائم رپورٹ بیورو کی رپورٹ کے مطابق صرف 2012 میں 24،923 خواتین کے ساتھ زیادتی کی گئی جن میں سے 24،470 کو ان کے اپنے ہی رشتے داروں یا پڑوسیوں نے نشانہ بنایا۔ یاد رہے بھارت دنیا کا وہ واحد ملک ہے جہاں مردوں کو تعداد خواتین سے زیادہ ہے کیونکہ روزانہ سینکڑوں بچیاں دوران حمل یا پیدائش کے فوراً بعد مار دی جاتی ہیں۔ برطانیہ اور جرمنی جنسی زیادتیوں کے حوالے سے سخت پریشان ہیں کیونکہ برطانیہ کی ہی وزارت انصاف کے مطابق 2013 میں 85000 خواتین کی عصمتیں زبردستی پامال کی گئیں۔ برطانیہ میں ہر پانچویں عورت اپنی عزت سے ہاتھ دھو چکی ہے اس معاشرے میں خواتین کی کتنی ” *عزت* ” ہے؟ اس کے لیے آپ یو آن ریڈلے کی کتاب ” *ان دی ہینڈز آف طالبان* ” پڑھ لیں۔ فرانس میں صرف 10 فیصد شکایتوں کے مطابق ایک سال میں 75000 خواتین کو جنسی تشدد کا نشانہ بنایا گیا کیونکہ ہم بھی ان ہی تمام اقوام کی ذہنی اور عملی غلامی کا شکار ہیں اس لیے پچھلے سال سات سو سے زیادہ واقعات پاکستان میں بھی ریکارڈ کیے گئے ہیں۔
سوال یہ ہے کہ جانوروں سے زیادہ جنسی خواہشات کی آزادی دیے جانے کے باوجود یہ سب کیوں؟ آپ ” صبح سے لے کر شام تک اور شام سے لے کر رات تک اسلامی جمہوریہ پاکستان کے ہر *ٹی وی چینل* پر سوائے بے ہودگی اور بد معاشی کے اور کونسا ڈھنگ کا کام وقوع پذیر ہو رہا ہے؟ *پہلے آپ معصوم بچیوں کو قندیل بلوچ بنائیں پھر اس کا قتل کروائیں، اس پر ماتم کریں اور پھر ڈرامے بنا کر اس کو ” مادر ملّت ” بنا دیں*۔ تمام کے تمام ٹی – وی چینلز سوائے عاشقی معشوقی، اس کی لڑکی اس کے ساتھ اور اس کی بیوی فلاں کے ساتھ بھاگنے کے ڈرامے دکھائیں۔ *لباس کو تنگ سے تنگ اور چھوٹے سے چھوٹا* کر کے ملک کے نوجوانوں کو ہوس زدہ اور حواس باختہ کردیں۔ اس کے بعد 4 روپے 99 پیسے میں “لگے رہو ساری رات” کے اشتہارات چلائیں۔ ایسے شاندار اور اخلاق یافتہ اشتہارات جس میں فون پر بات کر کر کے لڑکے کے کان تک پر نشان پڑ جائے اور پھر شادی کو مشکل ترین کر کے ” گرل فرینڈ ” کو آسان بنادیں۔
لفظ مولوی کو گالی بنا کر دین، اسلام، مذہب اور قرآن کو اپنے میڈیا، شوبز حتیٰ کے تعلیمی اداروں تک سے نکال کر باہر پھینک دیں اور پھر انتظار کریں کوئی حسن بصری اور امام بخاری پیدا ہوجائے ؟ ہم احمقوں کی جنت میں رہتے ہیں، ہم پاگلوں کے دیس کے باسی ہیں؟
ریپ اور بچوں کے ساتھ جنسی تشدد کو آڑ بنا کر اسلامی ملک میں لبرل ازم کی بنیاد رکھیں اور سیکس ایجوکیشن کا نفاز کروانے کے لیے کوششیں کریں اور سمجھیں کہ اسطرح ایسے واقعات کی روک تھام ہو جاۓ گی صریحاً خود کشی ہے اور یہی ایجنڈا ان ممالک کا ہے جن کی آنکھ کو پاکستان کا وجود چبھتا ہے
یاد رکھیں جب تک آپ زنا کی سزا ” رجم ” اور 100 کوڑے نہیں رکھتے ہیں، شادی کو آسان اور زنا کو مشکل نہیں کرتے ہیں، ۔حلال کو آرام دہ اور حرام کو دشوار نہیں کریں گے یہ واقعات مسلسل ہوتے رہیں گے۔ قرآن کے نظام میں برکت ہے، شریعت میں عزت ہے، آپ ہر چوک اور چوراہے پر بھی کیمرہ لگادیں تب بھی یہ سلسلہ نہیں رکے گا۔ ہمیں ماننا پڑے گا کہ سوائے اسلامی نظام کے نفاذ کے اور کوئی دوسرا راستہ ہمارے پاس نہیں ہے
لیبل ایجنڈہ جاری کر کے اس قوم کے اندر سے رہی سہی غیرت اور شرم کا جنازہ نکالا جانا مقصود ہے.
اب یہ طے کرنا قوم کا کام ہے کہ قرآن کی برکتیں درکار ہیں یا پھر کوئی اور ؟
موٹر وے پر پیش آنے والا واقعہ اور پاکستانی لبرلز۔۔۔۔۔۔۔ حقائق پر منبی کالم۔۔۔۔۔۔۔مبشر علی صدیقی۔۔۔۔ کے قلم سے۔۔۔۔ سٹار نیوز پر
617








