*ولادت رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم*
از قلم *کائنات فاطمہ*
جس ذات پاک کا ذکر آج کرنے والے ہیں وہ ذات کوئی عام ذات نہیں بلکہ یہ وہ ذات ہے جس کا ذکر کر تے میرا رب نہیں تھکتا ۔یہ ذات رب تعالی کی محبوب ترین ذات ہے ۔
*اللہ کا فرمان الم نشرح لک صدرک
منسوب ہے جس سے ورفعنا لک ذکرک
جس ذات کا قران میں بھی ذکر جلی ہے
وہ میرا نبی، میرا نبی، میرا نبی ہے*
میرے پیارے نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا خاندان بہت معزز اور پاکیزہ خاندان ہے ۔میرے نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا پورا شجرہ نسب ھی پاکیزہ اور پاک دامن ہے ۔
*نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا :آج تک میرے شجر نسب میں حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر حضرت عبداللہ تک کسی نے زنا نہیں کیا ۔*
آج تک کوئی نبی ایسا نہیں گزرا جس کا شجر نسب حضرت آدم علیہ السلام تک محفوظ ہو ۔مگر قربان جائیں میرے آقا علیہ الصلوۃ والسلام پر ان کا شجرہ نس آج بھی اسی شان و شوکت کے ساتھ موجود ہے ۔
*محمد بن عبداللہ بن عبدالمطلب بن ہاشم بن عبدی مناف بن قصی بن کلاب بن مرہ بن کعب بل لوی بن غالب بن فہر بن مالک بن نضر بن کنانہ بن خزیمہ بن مدرکہ بن الیاس بن مضر بن نذار بن معد بن عدنان بن ہمیسع بن سلامان بن عوض بن یوز بن قموال بن ابی بن عوام بن ناشد بن حزا بن بلداس بن یدلاف بنت بن جاحم بن ناحش بن ماخی بن عیفی بن عبقر بن بن عبید بن الدعا بن حمدان بن سمبر بن یژبی بن یحزن بن یلحن بن ارعوے بن عیضی بن دیشان بن عیصر بن اقناد بن ایہام بن مقصر بن ناحث بن زارح بن سمی بن مزی بن عوض بن عرام بن قیدار بن اسماعیل بن ابراہیم بن ازر بن نحود بن سروج بن رعو بن فلج بن ہود بن سلح بن ارفکسد بن سام بن نوح بن لمک بن متو سلح بن ادریس بن یارد بن محل ابیل بن قینان بن شیث بن آدم علیہ الصلوۃ والسلام*
اس شجرہ نسب سے متعلق ایک خوبصورت واقعہ بھی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت اسماعیل علیہ السلام گھر میں موجود نہ تھے تو ان کی غیر موجودگی میں حضرت ابراہیم علیہ السلام ائے اور دروازہ کھٹکھٹایا ۔اندر سے ایک عورت نکلی اور تھوڑے بدتمیزی والے لہجے میں پوچھا” کون ہے تو ؟”۔تو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے بولا “بزرگ ہوں، گزر رہا تھا، پانی کی طلب ہوئی تو اگیا “۔اس نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو پانی پیش کیا ۔جب حضرت ابراہیم علیہ السلام نے پوچھا کہ شوہر یعنی حضرت اسماعیل علیہ السلام کے ساتھ کیسا گزر بسر ہے تو اس نے شکایتیں شروع کر دی ۔جب حضرت ابراہیم علیہ السلام جانے لگے تو فرمایا کہ” جب شوہر ائے تو کہنا کہ اپنے گھر کی چوکھٹ بدل لو “۔
وہ چلے گئے جب حضرت اسماعیل علیہ السلام گھر واپس آئے تو ان کو محسوس ہوا کہ گھر میں کوئی آیا تھا۔ کیونکہ وہ نبی تھے ان کو اس بات کا غیبی علم ہو جاتا ہے ۔انہوں نے بیوی سے پوچھا کہ “کوئی آیا تھا ؟”تو بیوی نے جواب دیا کہ” ایک بزرگ آیا تھا “۔حضرت اسماعیل علیہ السلام نے پوچھا کوئی پیغام دے کے گئے وہ ؟تو ان کی بیوی نے جواب دیا کہ” انہوں نے کہا ہے کہ گھر کی چوکھٹ بدل لو “۔حضرت اسماعیل علیہ السلام بولے “کیا تم جانتی ہو کہ وہ کون تھے ؟”بیوی نے جواب دیا نہیں ۔تو حضرت اسماعیل علیہ السلام نے بتایا “وہ میرے والد تھے اور بول کر گئے ہیں کہ بیوی کو طلاق دے دو “۔
کچھ وقت بعد پھر حضرت ابراہیم علیہ السلام تشریف لائے اور حضرت اسماعیل علیہ السلام اس بار بھی گھر میں موجود نہ تھے۔انہوں نے دروازہ کھٹکھٹایا۔اب کی بار ایک دوسری عورت نے دروازہ کھولا بہت ادب کے ساتھ اندر بلایا اور آنے کی وجہ پوچھی۔پانی وغیرہ دیا۔حضرت ابراہیم علیہ السلام نے جب پوچھا کہ “شوہر کے ساتھ گزر بسر کیسا ہے؟” تو انہوں نے جواب دیا “میرے شوہر محنتی ہیں وہ وہ بہت محنت کرتے ہیں اور باقی اللہ کا شکر ہے وہ جس حال میں رکھے”۔جب حضرت ابراہیم علیہ السلام جانے لگے تو فرمایا کہ “جب شوہر ائے تو انہیں کہنا کہ یہ دہلیز اچھی ہے اس کو ایسے ہی ہمیشہ رکھنا “۔جب حضرت اسماعیل علیہ السلام ائے تو انہوں نے پوچھا “کوئی آیا تھا؟”تو ان کی بیوی نے جواب دیا “ایک بزرگ آئے تھے اور بول کر گئے ہیں کہ دہلیز اچھی ہے اس کو ایسے ہی رکھنا۔”حضرت اسماعیل علیہ السلام نے فرمایا “وہ میرے والد تھے اور بول کر گئے ہیں کہ ہمیشہ اپنی بیوی کا ساتھ نبھانا “۔
اس واقعے کو بتانے کا مقصد یہ تھا کہ جب میرے پیارے اللہ تعالی نے اس بات کو گوارا نہیں کیا کہ ایک ایسی عورت جس کو بولنے کا سلیقہ نہیں وہ آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی شجرہ مبارک میں رہے تو پھر کیا ہی شان اور پاکیزگی ہے اس شجر نسب کی جس سے پیارے نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا تعلق ہے ۔
زمزم کا کنواں جو اتنے سالوں سے بند پڑا تھا اس کو کھودنے کی سعادت بھی میرے پیارے نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے دادا جان کو ملی ۔حضرت عبدالمطلب کے سب سے چھوٹے اور سب سے خوبصورت بیٹے حضرت عبداللہ تھے ۔جن سے پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم پیدا ہوئے ۔اج سے *قریبا 1400 سال قبل* عرب کی سرزمین جاہلیت سے بھری تھی ۔مظلوم پر بے پناہ ظلم ڈھایا جاتا تھا ۔عمر کا لحاظ ختم ہو گیا تھا ۔لوگ ایک دوسرے کے جانی دشمن بن گئے تھے ۔حق چھینا لوٹ مار کرنا عام ہو گیا تھا ۔بیٹیوں کو زندہ دفن کر دیا جاتا تھا۔ تب خداوند عالم کی رحمت جوش میں آئی۔میرے پیارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت ہوئی ۔
*جب آئے زمین پر محمد ہمارے
فلک نے بچھائے زمین پر ستارے
اٹھے سرزمین عرب سے یہ نعرے
محمد ہمارے بڑی شان والے*
آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی تشریف اوری سے ظلمت کے اندھیرے ختم ہو گئے ۔آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم بے گھروں کا گھر بن کر بے سہاروں کا سہارا بن کر بے دروں کا در بن کر مظلوموں اور بے کسوں کی آواز بن کرتشریف لائے ۔آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی انے سے ہم عورتوں کو جو عزت ملی وہ آج تک کوئی مذہب نہیں دے سکا ایک بیٹی کی صورت میں رحمت بنایا ایک بیوی کی صورت میں خدا کی رحمت اور شوہر کے لیے باعث سکون بنایا اور ماں، ماں کو تو کیا اعلی درجہ دیا میرے پیارے نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے جنت جو کہ سدرۃ المنتہی پر تھی وہاں سے کھینچ کر ماں کے قدموں تلے رکھ دیا ۔سبحان اللہ۔میرے نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم عام الفیل سے چند روز بعد پیدا ہوئے ۔عام الفیل سے مراد ہاتھیوں کا سال ہے ۔اس سال ابراہ نامی حبشہ کے بادشاہ ابرہہہ نے خانہ کعبہ کو نعوذ باللہ گرانے کا ارادہ کیا۔مگر اللہ تعالی نے ابابیلوں کو بھیج کر اپنے گھر کی حفاظت فرمائی ۔ان ابابیلوں نے ابرہہہ کے ہاتھیوں کے لشکر پر کنکریاں برسائیں ۔جس کی وجہ سے ہاتھی حواس باختہ ہو کر دوڑنے لگے ۔اس طرح ابرہہہ کو شکست ہوئی ۔
*ولادت*
آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی امد بھی عجب ہے۔سارے حمل کے دوران حضرت آمنہ فرماتی ہیں” ایک دن بھی مجھے حمل کا بوجھ محسوس نہیں ہوا”۔ اور جس دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم پیدا ہوئے اپ کی والدہ کے سرہانے اپ کی لیڈی ڈاکٹر شفا بنت عمر یا شفا بنت اسد یہ حضرت رحمان بن عوف کی والدہ ہیں وہ موجود تھیں ۔عموما جب بچہ پیدا ہوتا ہے تو وہ سارا گندگی میں لتھڑا ہوا ہوتا ہے پھر اسے پکڑ کے دھوتے، ہیں نہلاتے ہیں، صاف کرتے ہیں ۔مگر میں قربان جاؤں میرے محمد مصطفی کی پاکیزگی پر ،طہارت پر آپ پیدا ہوئے نہلائے ہوئے ۔اپ کو باہر نہیں نہلایا گیا ۔جب آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم پیدا ہو گئے تو پورے کمرے میں روشنی پھیل گئی اور آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی ناف کٹی ہوئی تھی ۔دائی نے پکڑ کے ماں کے پہلو میں لٹایا تو ایک تو آپ کی عمر 15 20 منٹ تھی ۔جو ہی وہ لٹا کر پیچھے ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ایک دم پوری طاقت سے پلٹا لیا ۔الٹے نہیں ہوئے سجدہ کیا ۔لمبا سجدہ کیا ۔ماں بھی ڈر گئی دائی بھی ڈر گئی کہ یہ کیا معاملہ ہے۔اس کے بعد آپ نے سر اٹھایا ۔سینہ چوڑا کیا ۔بائیں ہاتھ کا سہارا لیا اور سیدھا ہاتھ اوپر کیا اور شہادت کی انگلی کو اٹھایا تو چاروں طرف نور ہی نور پھیل گیا ۔ماں نے گود میں اٹھا لیا تو اچانک گھر کی چھت کھل گئی اور ایک بادل اندر آگیا ۔ بادل کیا تھا جس سے ہم فوگ کہتے ہیں عربی میں اس کو غمام کہتے ہیں کہر کہتے ہیں ۔تو وہ پورے کمرے میں پھیل گئی ۔میرے نبی نظر نہیں آرہے تھے ماں کی گود میں تھے نظر نہیں آرہے تھے اور دھند میں سے آواز آئی
*اس بچے کو مشرق مغرب شمال جنوب میں پھرا دو اور ساری دنیا کو اس کی پہچان کرا دو اور بتا دو کہ ان کے پیچھے جو چلے گا وہ کامیاب ہوگا باقی سب ناکام ہوں گے*
اور آگے کیا خوبصورت کلام آیا ۔آواز آئی
*اسے آ دم کے اخلاق دو ،اسے شیث کی معرفت دو، اسے نوح کی بہادری دو، اسے ابراہیم کی دوستی دو ،اسے اسماعیل کی قربانی دو اسے سالح کی فصاحت دو،اسے لوط کی حکمت دو ،اسے اسحاق کی رضا دو ،اسے یعقوب کی بشارت دو ،اسے یوسف کا حسن و جمال دو ،اسے موسی کا جاہ و جلال دو ،اس سے دانیال کی محبت دو, اسے الیاس کا وقار دو,اسے ایوب کا دل دو ،اسے داؤد کی میٹھی زبان دو ،اسے یحیی کی پاک دامنی دو ،اسے یونس کی اطاعت دو ،اسے عیسی کا زہد دو ۔اس سے تمام نبیوں کا اخلاق اور تمام نبیوں کا علم اور تمام نبیوں کی صفات جو تقسیم ہوئی وہ ساری کی ساری اس بچے کے سینے میں اتار دو ۔*
جو بچہ آدھے گھنٹے میں ایک لاکھ 24 ہزار پیغمبروں کو جو ملا لے لیا ہو اور پھر آگے 63 سال اور جیا ہو۔ میں اسے بیان کروں گی میری تو بساط ہی نہیں کہ میں اس کو بیان کر سکوں۔
*حلیہ مبارک*
میرے پیارے نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم مکہ سے مدینہ تشریف لے جا رہے تھے۔ راستے میں بھوک لگی ۔ایک خیمہ دیکھا وہاں ایک بوڑھی عورت بیٹھی تھی ۔آپ نے ان سے کہا” ماں جی! کچھ کھانے کو ملے گا ؟پیسے ہم دیں گے “۔اس نے کہا بیٹا بارش نہیں ہوئی، کچھ بھی نہیں ہے، قحط ہے، نہ کھانے کو کچھ ہے نہ پینے کو کچھ ہے”۔تو ایک بکری کھڑی تھی بالکل کمزور سی اس کے جسم پر بس کھا لی تھی تو جب پیارے نبی نے اس بکری کو دیکھا تو وہ بولے “اس بکری کو دودھ نکال لوں؟”وہ بولی” دیکھ تو رہے ہو اس کے جسم پر صرف کھال ہے۔ کہاں سے نکالو گے دودھ ؟ “تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا” آپ مجھے اجازت دے دو بس”۔اب چونکہ ایک عجیب واقعہ ہو رہا تھا ۔ایک ایسی بکری سے دودھ نکالنے کی بات ہو رہی تھی جس کی جسم پر صرف کھال تھی تو وہ آپ کو بڑے غور سے دیکھ رہی تھی کہ یہ کون ہے جو اس مری ہوئی بکری سے دودھ نکالنا چاہتا ہے ۔تو آپ انکھوں میں سما گئے ۔پھر اس نے اس کو بیان کیا کہ کہ آپ نے بکری کے تھنوں کو ہاتھ رکھا تو وہ لٹک کر نیچے آگئے۔آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے بڑے برتن میں دودھ نکالا اپنے تینوں ساتھیوں کو دیا خود بھی پیا اور پھر برتن بھر کر اماں کو دیا اور چل دیے ۔بعد میں جب اس بزرگ عورت کا شور آیا تو اس نے پوچھا “یہ دودھ کہاں سے آیا ہے ؟”بزرگ عورت نے جواب دیا “اس بکری سے”۔تو شوہر نے کہا” تم پاگل ہو گئی، ہو یہ بکری کیسے دودھ دے سکتی ہے یہ تو چل بھی نہیں سکتی اس کی حالت تو دیکھو ۔” تو بیوی نے بتایا کہ اس طرح ایک نوجوان ایا اور اس نے دودھ نکالا ۔کہنے لگا” بتاؤ وہ شخص کیسا تھا ؟”بیوی نے کہا *میں تمہیں کیا بتاؤں میں نے ایک شخص دیکھا مجھے لگا جیسے چودویں کا چاند ہی کپڑے پہن کر زمین پر آگیا ،چمکتا چہرہ ،خوبصورت سر ،شدید سیاہ کالے بال ،سر خوبصورت گولائی میں ،کھلا ماتھا ،کلیوں جیسا خوبصورت رنگ چمکتا ہوا (پھول میں چمک تھوڑی ہو جاتی ہے کلی میں چمک زیادہ ہوتی ہے )،بائیں خوبصورت اور ان کے درمیان بال نہ تھے بلکہ وہاں ایک رگ موجود تھی (جب کبھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو غصہ آتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم غصہ نہ کرتے بلکہ برداشت کرتے۔تو رب تیزی سے حرکت کرنے لگتی تو اس سے پتہ چلتا تھا کہ اللہ کے نبی غصے میں بیٹھے ہیں )،آنکھ بڑی خوبصورت موٹی لمبی ،لمبی پلکیں ،بغیر سرمہ لگائے سرمہ لگا ہوا ,سیاہی سیاسی سفیدی سفید تھی (جب کبھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم انکھ اٹھا کے دیکھتے تھے تو کوئی آپ کی انکھوں میں انکھیں ڈال کے نہیں دیکھ سکتا تھا سب نظریں جھکا لیتے تھے )،ناک آنکھ کے قریب سے موٹا اور آگے سے پتلا تھا اور آنکھوں کے قریب نور چمکتا تھا،ہونٹ بڑے خوبصورت، کھلے ہوئے اور چوڑے منہ کے ساتھ ،دانت گولائی میں خوبصورت چمکتے ہوئے (جب کبھی آپ صلی اللہ علیہ ہ وسلم مسکراتے دیواروں پر آپ کے دانتوں کا نور پڑتا ہوا نظر اتا تھا ایسے حسین ڈالتے ہیں ہمارے پیارے نبی کے کہ نور دیواروں پہ پڑتا ہوا نظر ایا کرتا تھا )،داڑھی بڑی خوبصورت گھنی اور داڑھی اور سر میں 14 سفید بال تھے ،اپ کی گردن مبارک صراحی کی طرح لمبی اور خوبصورت گولائی میں اور آواز میں جادو تھا ، آواز میں کشش، آواز میں گرفت ،چوڑی چھاتی، کھلی جاتی، چوڑا سینہ،سینہ اور پیٹ برابر،سیدھا قد (آپ نے کبھی زندگی بھر پیٹ بھر کر نہیں کھایا ۔صبح کو کھاتے تو دن کا چھوڑ دیتے ہیں دن کا کھاتے تو رات کا چھوڑ دیتے اگر کھاتے تو دو تین نوالے ہی کھاتے اپ یاد تازہ کھانا کھاتے یا فاقہ کرتے )،سینے کے درمیان سے بالوں کا ایک تار شروع ہوتا تھا اور ناف تک جاتا تھا باقی چمکتا ہوا جسم تھا ،ہتھیلی چوڑی ،ہاتھوں کے پیچھے اس طرح گوشت تھا کہ رگ نظر نہیں اتی تھی اور جو حصہ آپ کا کپڑوں سے باہر نظر آتا وہ نور نور چمکتا ہوا نظر آتا،اور اپ پورا قدم اٹھا کر رکھتے تھے ، قدم چھوٹا اور چال میں تیزی،کندھے جھکا کر چلتے تھے اکڑ کر زندگی بھر نہیں چلے تھوڑی گردن بھی جھکی ہوئی تھوڑے کندھے بھی جھکے ہوئے اور ہمیشہ سلام میں پہل فرماتے تھے،اور اتنے عالی اخلاق کے کبھی کسی کو انگلی کے اشارے سے نہیں بلایا ہمیشہ پورا ہاتھ کا اشارہ کر کے بلایا اور اگر کبھی آپ کو کوئی بلاتا تو آپ پورا اس کی طرف مڑ جاتے تھے پورا سینہ دیتے تھے اس کو اور فرماتے تھے “جی بولیے “آپ سب کی بات پوری سنتے تھے اور جب کسی کی بات سنتے تھے تو اس کو پورا چہرہ دیتے تھے پورا رخ ادھر کرتے تھے،چھوٹوں کو بھی عزت دے دیتے تھے بڑوں کو بھی عزت دیتے تھے*
میرے اور میرے اللہ کی طرح درمیان یہ وہ راستہ ہیں یہ وہ رابطہ ہیں کہ مجھے اپنی زندگی کو اپنے محبوب کے طریقے میں ڈھالنا ہے جس نے میرے اللہ نے پسند کیا ہو ۔اے میرے پیارے عزیز دوستوں جہاں بھی رہو محمد کی محبت کو اپنا ساتھی بنا لو ۔











