مولانا ڈاکٹر محمد عادل خان شہید
آپ نے 1957 میں پاکستان کے سب سے بڑے مذہبی علمی خاندان اور استاذالکل شیخ الحدیث مولانا سلیم اللہ خان رحمۃ اللہ علیہ کے گھر میں آنکھ کھولی
آپ نے ابتدائی تعلیم درس نظامی و قرآن کریم اپنے والد کے مدرسہ جامعہ فاروقیہ سے حاصل کی
1973 میں آپ نے مدرسے سندِ فراغت حاصل کی اور جامعہ فاروقیہ میں ہی تدریسی خدمات سر انجام دینے لگے
آپ علوم کے دل دادہ اور رسیا تھے عالم اور معلم ہونے کے ساتھ ساتھ پروفیسر ڈاکٹر اور مفکر بھی تھے
آپ کی زندگی جہدِ مسلسل سے عبارت تھی
آپ نے 1967 میں کراچی یونی ور ورسٹی میں بی اے ہیومن سائنس 1978 میں ایم اے عربی جب کہ 1992 میں تہذیب اسلامی میں پی ایچ ڈی مکمل کی
آپ کا تعلیمی سفر یہیں ختم نہیں ہوجاتا مدرس ہونے کے باوجود طلبِ علم کا جذبہ اس قدر کوٹ کوٹ کر بھرا تھا کہ اس کے علاوہ بھی آپ بیسیوں ڈگریوں کے حامل تھے
مادری زبان پشتو اور قومی زبان کے علاوہ سندھی عربی انگریزی کے ساتھ ساتھ کئی زبانوں پر آپ کو عبور حاصل تھا
آپ قرآن،حدیث،فقہہ،تعارف اسلامی، اسلامی دنیا،اسلامی معاشیات،مقاصد شریعہ،تاریخ،خاص طور پر تاریخ اسلام اور پاکستان میں گہری دل چسپی رکھتے تھے
آپ تحریک سوادِ اعظم میں اپنے والد بزرگ وار مولانا سلیم اللہ خان کے شانہ بشانہ رہے
آپ 1986 سے 2010 تک جامعہ فاروقیہ کے جنرل سیکرٹری رہے
اس دوران آپ نے اپنے والد کی حیات میں ہی اپنی تعلیمی اور تعمیری صلاحیتوں کے جوہر دکھاتے ہوئے جامعہ فاروقیہ کو عروج بخشا
آپ 2010 میں بیرون ملک منتقل ہوگئے
کچھ عرصہ امریکہ میں رہنے کے بعد ملائیشیا کو اپنا مسکن بنالیا
آپ جہاں بھی گئے دینِ حنیف کی سربلندی آپ کا اولین مقصد رہی آپ نے ملائیشیا میں اپنے مدرسے کی بنیاد رکھی اور علوم دین کی خدمت کا سلسلہ دوبارہ شروع کیا
ملائیشیا میں آپ کے ساتھ آپ کی صاحب زادی 2 بیٹے مولانا زبیر اور مولانا حسن بھی تھے
2017 میں والد کی وفات کے بعد آپ پاکستان تشریف لائے جامعہ فاروقیہ کے مہتمم منتخب ہوئے
پاکستان منتقل ہونے کے بعد آپ نے اسی طرح خدمات شروع کیں جیسے پہلے تھے
محرم الحرام 2020 میں جب چند ناعاقبت اندیشوں نے سرِ راہ سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی شان میں گستاخی کی تو آپ میدان میں اترے کراچی کے علماء کی بیٹھک بلائی چوٹی کے علماء پر مشتمل کمیٹی تشکیل دی گئی اور آپ نے ایکشن کا مطالبہ کردیا
آپ کی سربراہی میں ستمبر 2020 میں کراچی کی تاریخ کے سب سے بڑے مارچ کا انعقاد ہوا
10۔9 اکتوبر کی درمیانی رات آپ دارالعلوم کراچی گئے جہاں آپ نے مفتی تقی عثمانی صاحب سے ملاقات کی اور مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا
وہاں سے واپس آتے ہوئے 8 بج کر 15 منٹ پہ شاہ فیصل کالونی نمبر 2 میں آپ نے شمع شاپنگ سینٹر سے میٹھائی خریدنے کے لئے گاڑی روکی
آپ کے بیٹے مولانا انس عادل آپ کو ڈرائیور کے ساتھ گاڑی میں چھوڑ کر دکان میں گئے کہ پیچھے نامعلوم مسلح موٹر سائیکل سواروں نے پہلے ڈرائیور پھر آپ پر فائرنگ کردی اور فرار ہوگئے آپ کو فوری طور پر لیاقت نیشنل اسپتال منتقل کیا گیا جہاں ابتدائی معائینے کے بعد ڈاکٹر نے آپ کی شہادت کی تصدیق کردی
انا للّٰہ وانا الیہ راجعون
آپ کی نماز جنازہ 10 اکتوبر بروز اتوار جامعہ فاروقیہ میں آپ کے بھائی مولانا عبید اللّہ خالد کی امامت میں ادا کی گئی نماز جنازہ کے بعد آپ اپنے والد کے پہلو میں سپرد خاک ہوئے
یوں خانوادہ شیخ الحدیث میں پہلے شہید کا سہرا آپ کے سر بندھ گیا
آپ اسلامی یونی ورسٹی ملائیشیا کے پروفیسر بھی رہے آپ کی تصنیف کردہ 3 کتابیں وہاں کے نصاب کا حصہ ہیں آپ کو 2018 میں ملائیشین صدر نے تصنیف و تحقیق میں عرق ریزی پر فائیو سٹار ریکنگ صدارتی ایوارڈ سے نوازا
آپ نے سندھ میں سب سے پہلے کورونا کی بے جا پابندیاں توڑیں اور یومِ علی رضی اللہ عنہ کے جلوس کے بعد عید الفطر کے کھلے اجتماعات کا اعلان کیا
آپ نے جامعہ بنوریہ عالمیہ کے مہتمم مفتی نعیم کے جنازے کے اجتماع سے خطاب میں مدارس کو کورونا وبا کی وجہ سے ہونے والے نقصانات کا تذکرہ کیا اور اس کے حل کے لئے فوری طور پر مدارس کھولنے کا اعلان کیا
آپ وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے سینئیر رکن وفاق کی امتحانی اور نصابی کمیٹی سمیت کئی کمیٹیوں کے سربراہ تھے
آپ نے زندگی کے آخری ایام میں ناموسِ صحابہ و اہل بیت کے دفاع کا بیڑا اٹھایا جو آپ کی شہادت کی وجہ بنا
آپ کی شہادت کو ابتدائی طور پر بھارتی تخریب کاری قرار دیا گیا
آپ نے چار بیٹوں مفتی انس مولانا عمیر مولانا زبیر مولانا حسن ایک بیٹی بیوہ دو بھائی مولانا عبید اللّہ خالد اور مولانا عبد الرحمٰن کو سوگوار چھوڑا
حال ہی میں پاس ہونے والا ناموسِ صحابہ واہل بیت بل آپ کی قربانی کا ثمرہ ہے










