انصاف کا منتظر شہید ارشد شریف
تحریر کلیم اللہ طور
ڈپٹی جنرل سیکرٹری سٹی پریس کلب
جس دھج سے کوٸی مقتل کو گیا
وہ شان سلامت رہتی ہے.
شہید ارشد شریف
ایک بہادر، انمول اور بے خطر صحافی اور محب وطن پاکستانی تھے۔ وہ اشرافیہ کو ایکسپوز کرنے میں پیش پیش رہے، وہ ہمیشہ ملک میں انصاف اور قانون کی بالادستی کی بات کرتے رہے مگر طاقت کسی کی روادار نہیں ہوتی وہ اپنے راستے میں آنے والی ہر دیوار کو گرانا جانتی ہے۔ اطالوی فلاسفر میکاولی نے کہا تھا
“طاقت اخلاقیات کی قائل نہیں ہوتی”
مگر دوسری طرف سقراط کی قبیل سے تعلق رکھنے والے ارشد شریف ایسے لوگ بھی Die with honor کے قائل ہوتے ہیں۔
حق اور سچ کی پاداش میں اپنے لٸے مشکلات کے ڈھیر لگاتے ہیں۔
سرکش گھوڑے کی طرح ڈورنا چاہتے ہیں۔ ایسے لوگ Self-Destructive ہوتے ہیں
جو طاقتور کے سامنے سیسہ پلائی دیوار بن کر کھڑے ہونا جانتے ہیں۔ جھکنا انہیں آتا نہیں ہے۔ارشد کے قریبی دوستوں کے مطابق وہ اکثر کہا کرتے تھے۔
Heroes die young
اور وہ جوان ہی چل دۓ۔
بقول اردو کے منفرد اور ممتاز ناول نگار اقبال دیوان صاحب
“ایسے لوگ دل کے ٹوٹے برتن میں یادوں کی تاحال سلگتی راکھ چھوڑ جاتے ہیں۔”
طاقت کا کیا جاتا ہے؟
ابتدائے آفرینش سے Might is right ہے
قیامت تک یہی اصول رہے گا۔
مگر جو بہادر کردار طاقت کے سامنے جھکنے سے انکاری ہو جاتے ہیں, وہ طاقت کے خلاف امید کا استعارہ بن کر تاریخ میں زندہ رہتے ہیں۔
اور شہید ارشد انہیں میں سے ایک تھے۔
ارشد خوش قسمت اور ہدایت یافتہ کو کہتے ہیں۔ اس لحاظ سے پاکستان کا ارشد خوش قسمت ہے اس کو شہادت کا جام پینا نصیب ہوا۔اور پاکستان کا ارشد اس لحاظ سے بھی خوش قسمت ہے کہ اسکو راہ عزیمت میں سچائی اور ہدایت کے راستے پر استقامت نصیب ہوئی ۔اس لحاظ سے بھی خوش قسمت ہے کہ اس نے حق پرستی کو اپنا زیور بنایا ہجرت کی۔پاکستان کی قسمت ارشد شریف ہی تھا جیسے ارشد لفظ کا مطلب خوش قسمت تھا اسی طرح اسکے افکار کو پاکستان کو خوش قسمتی کی راہ پر گامزن کرنے کے لئے تھے۔ اسکے نظریات ہدایت یافتہ افراد کے لئیے تھے۔پاکستان کا مقدر عجیب ہے۔پاکستان غلاموں کی وہ جاگیر ہے جس میں غلام لوگ فکر نان جبیں میں اس قدر مشغول ہیں کہ تاریخ اپنی غلطیاں دہراتی ہے مگر وہ اسکو مستقبل کی روشن تعبیر سمجھتے ہیں۔اس سوراخ میں ہاتھ ڈالتے ہیں جہاں کچھ عرصہ قبل وہ سانپ دیکھ چکے ہوتے ہیں ۔ مگر جب زہر کا تریاق زہر کا اثر کم کر دیتا ہے تو دوبارہ ہاتھ ڈالتے ہیں ۔زہر کا تریاق بھی غلاموں کو وہی دیتا جو غلاموں کو اپنی خدمت اور مزدوری کے لئے زندہ رکھنا چاہتا ہے ۔اور اگر وہ مزدوری سے لاغر ہوکر گر جائیں انکو آقاوں کی خدمت کا فکر لاحق ہوتا ہے اور وہ ان کو خدمت واسطے پھر تیار کرتے ہیں تریاق دیتے ہیں۔ ارشد شریف ان غلاموں کے لئے انقلاب کی روشنی جلا رہا تھا ۔غلام تو غلام ہوتے ہیں ان میں حضرت موسی کو بھی معجزات دیکھا دیکھا کر جذبہ حریت جگانا پڑا تھا ۔ارشد تو اپنی قسمت پاگیا مگر پاکستانی قوم کو ابھی غلامی سے اٹھنے میں وقت لگے گا کیونکہ قوموں کا زوال جب آتا ہے تو بہت لمبے وقت تک قومیں زلت کا شکار رہتی ہیں۔
بڑی مشکل سے چمن میں دیدہ ور پیدا ہوتا ہے۔
آج ارشد شریف شہید کی شہادت کو ایک سال مکمل ہو گیا مگر ابھی تک ان کو انصاف نہیں ملا نہ ہی ان کے قاتل گرفتار ہوسکے اللہ تعالیٰ ان کے درجات کو بلند کرے اور جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے










