فلسطین کی مدد کرنی چاہیے
تحریر:اللہ نوازخان
فلسطین میں جاری جنگ بہت ہی زیادہ نقصان پہنچا رہی ہے۔فلسطینی مسلمان گاجر مولی کی طرف کاٹے جا رہے ہیں۔عرب میڈیا کے مطابق سو طیارے غزہ پر مسلسل بمباری کر رہے ہیں،اس کے علاوہ ٹینکوں اور زمینی ہتھیاروں سے بھی حملہ جاری ہے۔اسرائیلی بمباری سے غزہ کا کوئی کونہ محفوظ نہیں رہا،یہاں تک کہ ہسپتال بھی ان کے نشانے پر ہیں۔خوراک کا ذخیرہ ختم ہو چکا ہے۔جو وحشیانہ بمباری سے بچ رہے ہیں ان کو بھوک کی اذیت کا سامنا ہے۔یہ بھی نظرآ رہا ہے کہ فلسطین کواسرائیل مکمل طور پر مٹانے کے در پے ہے۔فلسطین کا مسلمان سسک سسک کر شہادت کے رتبے پر فاٸزہو رہا ہے۔واضح رہے کہ اسرائیل اس جنگ میں اکیلا نہیں بلکہ برطانیہ اور امریکہ سمیت کئی ممالک بھی اسرائیل کا ساتھ دے رہے ہیں۔وجہ کیا ہے کہ اسرائیل ایک غیر مسلم ریاست ہے اور فلسطین کےشہر غزہ میں مظلوم مسلمان رہائش پذیر ہیں۔مظلوم مسلمانوں کو اس لیے سزا دی جا رہی ہے کہ وہ مسلمان ہیں۔اگر کسی غیر مسلم ملک میں ایسا ہوا ہوتا تو پوری دنیا چیخ اٹھتی اور فوری طور پر امن بحال ہوگیا ہوتا۔امریکہ اعلانیہ طور پر مدد کر رہا ہے،حالانکہ اس کو اچھی طرح علم ہے کہ فلسطین پراسرائیل نے ناجائز قبضہ کر رکھا ہےبلکہ یہ کہنا درست ہے کہ فلسطین پر قبضہ کرانے میں برطانیہ اورمغرب کی خاص مددشامل رہی ہے۔افسوس ناک بات یہ ہے کہ پوری مسلم دنیا خاموش ہے،یہاں تک کہ او۔آٸ۔ سی کی طرف سے بھی خاموشی کا اظہار کیا جا رہا ہے۔سوشل میڈیا کے ذریعے ویڈیو اور تصاویر وائرل ہو رہی ہیں جن سے واضح طور پر نظر آتا ہے کہ مسلمانوں کو وحشیانہ طریقے سے نشانہ بنایا جا رہا ہے۔چھوٹے چھوٹے بچے جن کی عمریں بمشکل ایک دن سے لے کر ایک ماہ تک ہیں،وہ بھی شہادت کے رتبے پر فائز ہو رہے ہیں۔
پاکستان سمیت کئی ممالک میں احتجاج جاری ہے یہاں تک کہ انسان پسند ممالک میں بھی کئی جگہوں پر احتجاج دیکھا جا سکتا ہے۔بدقسمتی سے پاکستان میں احتجاج کو روکنے کی کوشش کی جاتی ہے۔اسلام اباد میں جماعت اسلامی کے اسرائیل کے خلاف احتجاج پر لاٹھی چارج ہوا،اس لاٹھی چارج کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔پاکستان کو چاہیے تھا کہ فوری طور پر فلسطینی بھائیوں کی مدد کے لیے پہنچتا اور اسرائیل کے خلاف اعلان جنگ کرتا،لیکن پاکستان کی طرف سے کوئی خاص مدد نہیں کی جا رہی۔آرمی چیف سمیت چند سیاستدانوں کے بیانات ریکارڈ پر موجود ہیں کہ وہ اسرائیل کی مذمت کر رہے ہیں۔مذمت سے بڑھ کر عملی مدد کرنی ہوگی۔ترکی میں بھی احتجاج ہو رہا ہے اور ایک بڑی احتجاجی ریلی سے ترک صدررجب طیب اردگان نے خطاب کیا۔ترک صدر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ جنگ صلییبی جنگ نہ بنائی جائے۔انہوں نے اس عزم کا اظہار بھی کیا کہ ترکی فلسطینیوں کی مدد کے لیے تیار ہے۔جس طرح امریکہ اور دوسرے ممالک اسرائیل کا ساتھ دے رہے ہیں،ترکی صدر نےان پر شدید تنقید کی ہے۔انہوں نے کہا کہ اسرائیل کا قبضہ درست نہیں لیکن پھر بھی اس کا ساتھ دیا جا رہا ہے۔ترک صدر کی آواز،ایک توانا آواز کہی جا سکتی ہے اور عملی طور پر بھی وہ فلسطین کی مدد کر رہا ہے۔ترک سمیت اگر تمام مسلم ممالک فلسطین کا ساتھ دیں توفوری طور پر فلسطینیوں کو اپنا علاقہ مل سکتا ہے۔افسوس ناک بات یہ ہے کہ اسلامی ممالک کے حکمران مغرب اور اسرائیل کے خلاف ہونا نہیں چاہتے۔حالانکہ ان کو اچھی طرح علم میں ہے کہ اسرائیل ان کے لیے بھی خطرہ ہے،جو یہ سمجھ رہے ہیں کہ وہ محفوظ ہیں۔اسرائیل جو فلسطینیوں کے لیے ایک دہشت بنا ہوا ہے،وہ دوسروں کے لیے بھی خطرناک ہو سکتا ہے۔اسرائیلی جارحیت میں لمحہ بہ لمحہ اضافہ ہو رہا ہے۔ہر اگلا لمحہ فلسطینیوں کے لیے دہشت ناک ثابت ہو رہا ہے۔فلسطینیوں کو مدد کی ضرورت ہے،فوری طور پر ان کا دست و بازو بننا چاہیے۔
یوکرین جنگ کی بھی مذمت کی جانی چاہیے کیونکہ جنگ بہتر نہیں ہوتی بلکہ تباہی و بربادی لاتی ہے،مگر یہاں مغربی دنیا کا دہرا معیار نظرآتا ہے۔وہ یوکرین جنگ کی تو مذمت کر رہے ہیں مگر فلسطین ان کو نظر نہیں آتا،الٹا فلسطین کے خلاف اپنی طاقت آزما رہے ہیں۔یوں کہنا چاہیے کہ فلسطینی مسلمان محدود سے علاقہ،محدود اسلحہ اور محدود تعداد کے ساتھ کافی طاقتوں کے ساتھ جنگ کر رہے ہیں۔اقوام متحدہ میں قرارداد پیش کی جا چکی ہے جس سے اسرائیل کوجنگ روکنے کا کہا گیا ہے لیکن اسرائیل انکار کر چکا ہے۔غزہ کو پہلے جیل کہا جاتا تھا اب تو مقتل گاہ کہاجارہا ہے۔مظلوم فلسطینی مسلمانوں کا قبرستان بنتا جا رہا ہے۔فلسطین پکاررہا ہے۔فلسطین کومدد کی ضرورت ہے ہمیں فوری طور پر اس کی مدد کرنی چاہیے۔عملی طور پر اگر مدد نہیں کر سکتے تو کم از کم احتجاج ہی کرنا چاہیے۔احتجاج کرنے سے یہ ہو سکتا ہے کہ آنےوالی نسلوں کو ہم فلسطینیوں کا درد دے سکتے ہیں،ہو سکتا ہے مستقبل میں ہماری آنے والی نسلیں ان کی مددگار بنیں۔
آزاد فلسطین ہر مسلمان کی ضرورت ہے،کیونکہ وہاں مسجد اقصی ہے،جہاں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے معراج کی رات نماز ادا کی تھی۔اس کے علاوہ انبیاء کی سرزمین بھی کہی جا سکتی ہے اور قبلہ اول ہونے کی وجہ سے بھی مسلمانوں کے ہاں فلسطین کی زمین کو تقدس حاصل ہے۔اس لیے اسرائیل کے قبضے سے فلسطین کوآزاد کرانا ضروری ہے تاکہ قبلہ اول کے ساتھ مسجد اقصی بھی آزاد ہو سکے۔مسلمانوں کی خاموشی افسوسناک ثابت ہو رہی ہے۔اسرائیل جو مسلمانوں کا قتل عام کر رہا ہے اور اس کو نہ کوئی پوچھنے والا ہے اور نہ کوئی ٹوکنے والا ہے،حالانکہ پوری دنیا کو علم ہے کہ اس کا قبضہ ناجائز ہے۔دنیا کو اس کا ناجائز قبضہ واضح طور پر تسلیم کرنا ہوگا۔عالمی برادری کو اس بات کا اعتراف کرنا ہوگا کہ اسرائیل دہشت گرد ہونے کے ساتھ ایک ناجائز ریاست بھی ہے،جس نے غاصبانہ قبضہ کر رکھا ہے۔فلسطینیوں کوکم از کم بنیادی حقوق تو ملنے چاہیے لیکن وہ حقوق بھی نہیں مل رہے۔یہ واضح ہو چکا ہے کہ عالمی برادری کا کوئی ارادہ نہیں کہ فلسطینیوں کوآزاد ریاست دی جائے۔ضروری ہے کہ امت مسلمہ متحدہو کراسرائیل کے خلاف عملی اقدامات کرے۔مسلمانوں کا اتحاد وقت کے فرعونوں کو خاک چٹا سکتا ہے۔افسوس ناک بات یہ ہے کہ مسلمان آپس میں الجھے ہوۓ ہیں اور غیر ان کوذلیل و خوار کر رہا ہے۔اسرائیل کاوحشیانہ پن روکنے کے لیے ضروری ہے کہ فوری طور پر اس کے خلاف اٹھنا چاہیے۔










