گردوں میں پتھری کی وجوہات،علامات اور علاج

تحریر ڈاکٹر اقبال ندیم ملانہ گولڈمیڈلسٹ

گردے میں پتھری کی وجوہات میں کم پانی کا پینا،زیادہ چینی یا نمک والے کھانے،موٹاپا،کھانے پینے کی بگڑی ہوئی عادات شامل ہیں۔اگر آپ پانی کی مقدار کم کردیں یا بہت زیادہ نمک کھائیں تو گردوں پراس کے منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔گردے کی پتھری کا سائز چند ملی میٹر سے سے کر گالف کی بال تک ہوتا ہے۔
اس کی علامات میں پیشاب کی رنگت میں تبدیلی شامل ہے،پیشاب کا رنگ گلابی،سرخ یا براﺅن ہوجاتا ہے۔اس کے علاوہ جی متلانا اور قے کی شکایت رہتی ہے،پیشاب کی حاجت بار بار محسوس ہونابھی گردوں میں پتھری کی ایک علامت ہے۔
گردے کی پتھری کی اقسام
کیلشیم آکسلیٹ: یہ سب سے زیادہ ہونے والی قسم ہے جس میں کیلشیم آکسلیٹ کے ساتھ مل کر پتھری بناتا ہے۔یہ بہت زیادہ چپس، چاکلیٹ، پالک، چقندر اور مونگ پھلی کھانے سے بنتی ہے۔
یورک ایسڈ:یہ قسم زیادہ تر مردوں میں پائی جاتی ہے جس میں بہت زیادہ سرخ گوشت اور شیل فش کھانے سے ہوتی ہے۔
سٹرووائٹ:یہ زیادہ ترخواتین میں پائی جاتی ہے اور گردوں میں انفیکشن کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے۔
سسٹائن:یہ بہت ہی کم لوگوں میں ہوتی ہے اور اس کی وجہ جنیاتی بتائی جاتی ہے۔
گردے کی پتھری سے نجات کے لئے کئی نسخے مل جاتے ہیں لیکن آسان اور مؤثر نسخہ سیب کا سرکہ سمجھا جاتا ہے۔اس میں تین طرح کے ایسڈ ہوتے ہیں اور جب یہ جسم میں داخل ہوتا ہے تو اس کی تاثیر الکیلائن یا اساسی ہوجاتی ہے جو کہ جسم کے لئے بہت مفید ہے۔اس میں موجود ایسٹک ایسڈ کی وجہ سے گردوں کی پتھری تحلیل ہوجاتی ہے اور اس کا ثبوت ایک تحقیق میں بھی دیا گیا ہے۔
دو بڑے چمچ سیب کاسرکہ لیں اور اسے ایک گلاس پانی میں ڈالیں۔اس تناسب کے ساتھ اس مشروب کو دن بھر استعمال کریں،اگر آپ کو سرکے کی کڑواہٹ یا کٹھاس کا مسئلہ درپیش ہوتو اس میں شہد ملالیں۔اس مشروب کے دن میں چار سے پانچ گلاس پینے سے افاقہ ہوگا۔

ڈاکٹرمحمد اقبال ندیم ملانہ(گولڈمیڈلسٹ)