زنانہ و مردانہ بانجھ پن کیا ھے،وجوہات،علاج

بچہ چاہئے تو مرد کے ٹیسٹ پہلے ہوں گے.
یہ ہے وہ جملہ جو بانجھ پن کے شکار میاں بیوی سے کہا جاتا ہے۔ وجہ واضح ہے ۔ ایک ہی ٹیسٹ کرنا ہے، اگر وہ نارمل تو مرد کی چھٹی ۔
سیمن یا تولیدی مادہ چیک کروانے سے پہلے کچھ باتوں کا خیال رکھنا چاہئیے۔
سیمن چیک کروانے اورجنسی تعلق یا ماسٹر بیشن میں تین یا چار دن کا وقفہ ہو ۔
سیمن جس لیبارٹری سے چیک کروانا ہو ، اسی میں ماسٹربیشن سے لیا جائے۔
اگر پہلا ٹیسٹ ابنارمل ہے تو نتیجہ اخذ کرنے کے لیے ایک بار اور سیمن کا ٹیسٹ کروانا لازم ۔
سیمن ہے کیا ؟
سیمن وہ مادہ ہے جو مرد جنسی تعلق کے نتیجے میں خارج کرتا ہے ۔ ایک بار کے خروج میں اس کی مقدار ایک چائے کے چمچ کے برابر ہوتی ہے۔ زیادہ تر لوگوں کے خیال میں اگر سپرمز کی گڑبڑ ہو تو اس مادے میں بھی کمی بیشی ہونی چاہیے۔ یہ خیال غلط ہے ۔ یہ مادہ بنیادی طور پر پراسٹیٹ گلینڈ اور کچھ اور غدودوں کی مدد سے بنتا ہے چاہے اس میں سپرمز ہوں یا نہ ہوں ۔
ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن نے بانجھ پن کے حوالے سے semen کے نارمل ہونے کی خصوصیات اس طرح سے ترتیب دی ہیں۔
سپرم کی تعداد – 15 سے 20 ملین/ ملی میٹر
سپرم کی تیزی سے آگے بڑھنے کی صلاحیت – 40 پرسنٹ
سپرم کی نارمل شکل – 4 پرسنٹ
یہ ہے وہ رپورٹ جسے پڑھ کر کوئی بھی دیکھ سکتا ہے کہ یہ نارمل ہے کہ نہیں ۔ ایک بات یاد رکھیے نارمل رپورٹ میں پیپ والے سیلز نہیں ہونے چاہئیں۔
جب بھی سیمن کی رپورٹ میں کچھ گڑبڑ ہو ، اسے ایک خاص نام سے لیبل کیا جاتا ہے تاکہ سمجھنے اور علاج کرنے میں آسانی ہو ۔
اولیگوسپرمیا:جب سپرم مقررہ تعداد سے کم ہوں ۔
ایزو سپرمیا: جب سپرمز سرے سے غائب ہوں ۔
ایسپرمیا: جب سیمن ہی موجود نہ ہو ۔
ہائپوسپرمیا: جب سیمن کی مقدار کم ہو ۔
ٹریٹوسپرمیا: جب سیمن کے مادے میں ابنارمل شکل والے سپرمز پائے جائیں ۔
ایستھینوسپرمیا: جب سپرمز کی حرکت کم ہو ۔
نیکروسپرمیا: جب سیمن میں سارے سپرمز مردہ ہوں ۔
لیوکوسپرمیا: جب سیمن میں پیپ والے سیلز کافی مقدار میں پائے جائیں ۔
کیا کیا جائے ؟
اگر سیمن نارمل ہے تو مرد کی چھٹی ۔ لیکن اگر نارمل نہیں تب صاحب کے بہت سے اور ٹیسٹس کروانے کی ضرورت ہے ۔
1-خون میں ہارمونز کی مقدار
2-کروموسومز
3-خصیوں کا الٹرا ساؤنڈ
4-خصیوں کی بائیوپسی
کس کو دکھایا جائے ؟
مردانہ بانجھ پن کا علاج مستندمعالج سے کروائیں ۔ بنیادی طور پہ علاج اس وجہ کا کیا جاتا ہے جو سب ٹیسٹ کے نتیجے میں سامنے آئے ہوں۔ اس کو کہا جاتا ہے ، Treat the cause –
لگے ہاتھوں Azospermia یعنی سپرمز کی غیر موجودگی کے اسباب بھی سن لیجیے۔
‏Azospermia دو طرح کا ہوتا ہے رکاوٹ بھرا اور رکاوٹ کے بنا۔
رکاوٹی Azospermia میں جیسا کہ نام سے ظاہر ہے سپرمز بنتے تو ہیں لیکن کسی پیچیدگی کی وجہ سے سیمن تک نہیں پہنچ پاتے۔ جب بھی خصیوں اور ان کی ملحقہ نالیوں میں کوئی انفیکشن ہو، ضرب لگی ہو ، کوئی پرانا آپریشن ہوا ہو یا نالیوں کی رطوبات گاڑھی ہو جائیں، سپرمز باہر نہیں نکل سکتے۔ نتیجتاً مادہ تو نکلے گا لیکن بیج سے خالی!
رکاوٹ کے بغیر Azospermia کے اسباب کی ایک لمبی فہرست ہے۔ جس میں پیدائشی طور پہ خصیوں کی غیر موجودگی، ابنارمل کروموسومز سے خصیوں کا چھوٹا رہ جانا، پیدائش کے وقت خصیوں کا پیٹ میں ہونا ، خصیوں کی رسولی، ریڈی ایشین، ہارمونز کی کمی بیشی، کن پیڑوں کی انفیکشن، خصیوں کا زندہ یا نارمل سپرمز نہ بنا سکنا، خصیوں سے خون لے جانے والی نالیوں کا ایب نارمل پھیلاؤ، ذیابیطس اور گردے کی بیماریاں شامل ہیں۔
مردانہ بانجھ پن میں سپرمز بہتر نہ ہوں اور حمل نہ ٹھہرے تب ھم سے رابطہ کریں سو فی صد شافی علاج کیا جاۓگا۔
یہ سب ضرور کریں بہتری ہو گی۔
وزن کم کیجیے خاص طور پہ پیٹ ۔
ورزش شروع کیجیے ۔
سگریٹ نوشی چھوڑیے ۔
سادہ کھانا ( بنا تیل اور چینی ) کھائیے ۔
اگر الکحل کا استعمال ہے تو چھوڑ دیجئے۔

ڈاکٹرمحمد اقبال ندیم ملانہ (گولڈمیڈلسٹ)