”نظریہ ضروت“ کودفن کرناہوگا
تحریر:اللہ نوازخان
میڈیا کی خبروں کے مطابق ”نون لیگ” اور“ایم کیو ایم“ نے اتحادکا اعلان کر دیا ہے۔ظاہر بات ہے یہ اتحاد ان کے اپنے مفاد میں ہے،نہ کہ ملک و قوم کے مفاد کے لیے ہے۔ایک اور بیان بھی نظروں سے گزرا ہے کہ نون لیگ دوسری سیاسی جماعتوں کے ساتھ بھی بات کرنے والی ہے۔یہ اتحاد کوئی ”نظریہ“ نہیں،بلکہ“نظریہ ضرورت“کے تحت کیا جا رہا ہے۔”نظریہ ضرورت“ قیام پاکستان کے وقت ہی وجود میں آگیا تھااور عدلیہ کے ذریعے اس کا جواز بھی تسلیم کر لیا گیا تھا۔یہی نظریہ ضرورت پاکستانی قوم کومسلسل رگڑے لگا رہا ہے۔ویسے پاکستان میں“نظریہ“کو بھی عجیب طرح سے پیش کیا جاتا ہے۔کبھی کوئی پارٹی نظریاتی ہونے کا اعلان کر دیتی ہے اور کبھی دوسری پارٹی اعلان کر دیتی ہے کہ وہ ایک نظریاتی جماعت ہے۔یہاں تک کہ سیاست دانوں کو بھی نظریہ کا نام دے کرعجیب قسم کے دعوے کیے گئے۔مریم نواز کئی دفعہ کہہ چکی ہیں کہ نواز شریف ایک نظریے کا نام ہے۔یہ اور بات ہے کہ مخالفین کی نظر میں ان کا مقام کچھ اور ہے۔اب جو جماعتیں متحد ہو رہی ہیں،شاید پی ڈی ایم قسم کا کوئی اور اتحاد وجود میں آ رہا ہے۔اب یہ اتحاد کون سا رنگ لاتا ہے،قبل از وقت کہنا درست نہیں لیکن محسوس یوں ہوتا ہے کہ پھر اپنے اپنے مفاد کی بازیاں کھیلی جا رہی ہیں۔پاکستانی قوم کی سمجھ میں آچکا ہے کہ وہی حکمران ان کی قسمت میں ہیں جن کووہ کئی دہائیوں سے برداشت کر رہے ہیں۔سیاستدان بھی وہ جو نسل در نسل حکومت کرتے آرہے ہیں اور پاکستان ان کو وراثت میں مل چکا ہے۔پاکستان میں سیاست وراثت کے طور پر کی جاتی ہے نہ کہ کسی میرٹ کو دیکھا جاتا ہے۔بلاول بھٹو زرداری کی مثال دی جاسکتی ہے کہ وہ اس لیے پارٹی چیئرمین ہیں کہ وہ محترمہ بے نظیر بھٹوکے صاحبزادے ہیں۔اب پیپلز پارٹی اگر جیت جاتی ہے تو وہ کنفرم وزیراعظم بن جائیں گے۔یہی حال نون لیگ کا ہے کہ نون لیگ اگر الیکشن جیت جاتی ہے تو وزیراعظم نواز شریف ہی ہوں گے۔حالانکہ میاں نواز شریف شدید تنقید کی زد میں ہیں۔نون لیگ کے رہنما جس طرح بیانیہ عوامی حلقوں کے سامنے بیان کر رہے ہیں،یوں محسوس ہوتا ہے کہ ان کو یقین ہے کہ وہ حکومت سنبھال لیں گے۔اس طرح کی بیان بازی سے الیکشن کی شفافیت پر سوالات اٹھ جائیں گے۔اب نون لیگ اور ایم کیوایم کا اتحادکس طرح ہوگا؟سیٹ ایڈجسٹمنٹ کا کیا طریقہ کار ہوگا؟ایم کیو ایم کو کراچی اور حیدراباد کی سطح تک کھیلنے کا موقع ملے گا یا پاکستان کے دوسرے علاقوں میں بھی وہ الیکشن لڑ سکی گی؟مذاکرات جاری ہیں اورکامیاب بھی ہو جائیں گے کیونکہ ان کی مجبوری ہے کہ متحد ہو کر الیکشن لڑیں،بلکہ یہ کہنا درست ہے کہ تمام جماعتوں کی مجبوری ہے کہ آپس میں سیٹ ایڈجسٹمنٹ کر کے الیکشن لڑیں،بصورت دیگر وہ ناکامی کا منہ دیکھیں گے کیونکہ پی ٹی آٸ ان کے لیے اکیلا میدان نہیں چھوڑے گی۔پی ٹی آٸ ویسے رہنماؤں کے لحاظ سے توبانجھ ہو چکی ہے لیکن عوامی سطح پر مقبولیت ابھی بھی باقی ہے۔پی ٹی آٸی کے چیئرمین عمران خان عدالتوں کا سامنا کر رہے ہیں اوریہ توقع ہے کہ الیکشن میں بھی حصہ لے سکیں گے۔الیکشن کا میدان تمام سیاستدانوں اورسیاسی جماعتوں کواپنی اوقات دکھلا دے گا۔پاکستانی اس الیکشن کے لیے کافی پر جوش دکھائی دے رہے ہیں۔
ہرسیاسی جماعت اس بات کی دعوے دار ہے کہ وہ مخلص بھی ہے اور نظریاتی بھی ہے۔یہ اور بات ہے کہ ان کا خلوص اور نظریاتی ہوناپاکستانی تسلیم ہی نہیں کرتے۔پاکستان کے حالات اس بات کا تقاضا کرتے ہیں کہ مستحکم پارٹیاں ہی اقتدار سنبھالیں۔نام نہاد نظریے اپنے پاس رکھیں۔ایک اور مسئلہ بھی پاکستانیوں کودرپیش ہے کہ وہ مخصوص پارٹیوں کوہی ووٹ دینے کے لیے مجبور ہیں،اس کے علاوہ ان کے پاس کوئی اورآپشن ہی نہیں۔جے یو ائی،پی پی پی،نون لیگ،ایم کیو ایم اور دیگر جماعتیں الیکشن میں حصہ لیں گی لیکن کسی ایک پارٹی کا بھاری اکثریت لینا مشکل ہے۔مستقبل میں پھر مخلوط حکومت بننے کاقوی امکان ہے۔حکومت حاصل کرنے کے بعد نظریاتی جماعتیں اپنے اپنے مفاد کے لیےپالیسیاں بنانا شروع کر دیں گی۔عوام سمجھنے سے قاصر ہے کہ کئی دہائیوں سے مسلط یہ جماعتیں پاکستان کے لیے کچھ نہیں کر سکیں توآئندہ کے لیے کیا کر سکیں گی؟بہرحال جو بھی پارٹیاں ہیں،ان سب کو موقع ملنا چاہیے کہ وہ الیکشن میں عوام کے ذریعے منتخب ہو سکیں۔یہ افواہیں بھی پھیل رہی ہیں کہ الیکشن منصفانہ ہوں گے یانہیں؟اگر 60 سے 70فی صد افراد نے اپنا ووٹ کاسٹ کرلیاتو دھاندلی کا امکان مشکل ہو جائے گا،کیونکہ اتنے بھاری مینڈیٹ کے ساتھ دھاندلی نہیں کی جا سکتی۔اس مینڈٹ کے بعدآنے والی حکومت اس بات کی حقدار ہوگی کہ وہ حکومت سنبھال لے۔لیکن ایک سوال باقی رہ جائے گا کہ نظریہ کہاں دفن ہو جائے گا۔نظریہ ضرورت کےتحت بننے والی پارٹیاں اور حکومتیں پاکستانیوں کے لیے نقصان دہ ثابت ہوتی ہیں۔ماضی میں کئی پارٹیاں نظریہ ضرورت کے تحت وجود میں آٸ ہیں،جن کا خمیازہ پاکستانی قوم کو بھگتنا پڑا ہے۔اب بھی نظریہ ضرورت کے تحت وجود میں آنے والی پارٹیاں پاکستانی قوم کے لیے نقصان دہ ثابت ہوں گی۔
پاکستانی قوم بے چینی سے انتظار کر رہی ہے کہ کب نظریہ ضرورت دفن ہوگا؟نظریہ ضرورت پاکستان کو کافی نقصان پہنچا چکا ہے۔یہی نظریہ ضرورت تھا جس نے پاکستان کو دولخت کیا۔یہی نظریہ ضرورت تھا جس نے ایک آمر جنرل ایوب خان کوحکومت کرنے کا جواز بخشا۔یہی نظریہ ضرورت مختلف قسم کی پارٹیاں بنانے کا سبب بن رہا ہے۔یہ نظریہ ضرورت کب پاکستانیوں کی جان چھوڑے گا تاکہ وہ یکسو ہو کر فیصلے کر سکیں۔اپنے مفادات کو نظریہ کا نام دے کرپاکستانی قوم کو بےوقوف بنایا جاتا ہے۔پاکستان نے اگر ترقی کرنی ہے اور پاکستانی چاہتے ہیں کہ وہ کامیابی کی منازل طے کریں تو زبردستی ان کو” نظریہ ضرورت“ دفن کرنا ہوگا۔نظریہ ضرورت اگر زندہ رہا تو پاکستانی قوم اس طرح سسک سسک کر زندگی گزارنے پر مجبور ہوگی۔پاکستان حقیقی دو”قومی نظریہ“ کے تحت وجود میں آیا تھا۔اب بھی ضرورت ہے کہ حقیقی نظریہ پاکستان میں لاگو ہونا چاہیے۔










