یاد رفتگاں
بہار گلستان
*میرے دادا و دادی جان
تحریر۔: سعد ابن مسعود
میرے دادا ابو اور دادی اماں نے جس نظم و ضبط اور بردباری سے اپنے گھر کو چلایا اور سنبھال کے رکھا وہ اپنے آپ میں ایک مثال ہے کیونکہ جس طرح انہوں نے اپنے آٹھوں بچوں کی صرف تربیت ہی نہیں کی بلکہ ان کو دینی و دنیاوی تعلیم دونوں سے نوازا اور انہی کی دعاؤں اور محنتوں کے ثمر سے اللّٰہ تعالٰی نے ان کی اولاد کو اس طرح نوازا کہ وہ معاشرے میں ایک عزت و احترام کی زندگی بسر کررہے ہیں ۔ میں اپنے دادا ابو سے زیادہ کچھ سیکھنے سے محروم رہا کیونکہ میں غالباً سات یا آٹھ سال کا تھا جس وقت وہ اس دنیا کو خیر آباد کہہ چکے تھے ، انا للّٰہ وانا الیہ راجعون . لیکن میں اس معاملے اپنے آپ کو خوش قسمت سمجھتا ہوں کہ میں نے قاعدہ یسرنا القرآن کے کچھ حرف ان سے سیکھے ، اور وہ یسرنا القرآن کا قاعدہ بھی دادا جان کی جلد سازی اور ان کی لکھائی والا ہوا کرتا تھا کیونکہ دادا جان جہاں سے قاعدہ پھٹ جاتا وہ اس کے ساتھ دوسرا کاغذ لگا کہ لکھائی کر دیتے تھے مجھے آج بھی وہ منظر یاد ہے جب ہم میں بڑے بھائی احمد و عبداللہ ساتھ بیٹھے مسجد ایک کونے میں دادا ابو سے قرآن مجید کی تعلیم رہے ہوتے تھے اور دوسری طرف مسجد کے دوسرے بچے قاری صاحب سے قرآن مجید پڑھ رہے ہوتے تھے میں اور غالباً میرے بڑے بھائی خوش ہوتے تھے کہ ہم جلدی جلدی باقی بچوں کی نسبت جو مسجد میں قاری صاحب سے قرآن مجید پڑھ رہے ہوتے تھے جلدی فارغ ہو کر گھر چلے جائیں گے۔ میں اور عبداللہ تو زیادہ کچھ ان سے پڑھ نہ سکے لیکن بھائی احمد کو قرآن مجید کا زیادہ حصہ ان سے پڑھنے کا یا یوں کہوں کہ سارا قرآن دادا جان سے پڑھنے کا شرف حاصل ہوا تو شاید غلط نہ ہوگا۔ دادا جان کے دنیا سے جانے کے بعد دادی جان نے گھر کو بڑی ہمت سے سنبھالا۔ دادی اماں کو میں نے دادا ابو کی نسبت زیادہ دیکھا ۔ میں بارہ یا تیرہ سال کا ہوگا مجھے شدید بخار تھا ( مجھے بچپن میں بخار کافی ہوا کرتا تھا ) تقریباً 102 پر تو کیونکہ گھر پر صبح کوئی نہیں ہوتا تھا تو گھر والے مجھے دادی اماں کے گھر چھوڑ گے اور دادی اماں نے مجھ کو دھوپ پر کیوں کہ سردیوں کا موسم تھا چارپائی اور رضائی ڈال کر دی اور ساتھ گرم دودھ اور سر پر تیل مالش کی اس سے پہلے چاچو امتیاز مجھے دوائی دے کر گے تھے۔ تو میں سو گیا اور بعد میں کافی پسینہ آیا تو مجھے بخار میں افاقہ محسوس ہوا کیوں کہ بخار اتر چکا تھا اور میں تھوڑی بہت کمزوری محسوس کررہا تھا اور مجھے کچھ چٹ پٹا کھانے کا دل کر رہا تھا تو اسی وقت باہر مجھے گول گپے والے کی آواز آئی تو میں دادی اماں سے اجازت لے کر دس روپے کے گول گپے لے آیا دادی اماں کو چھٹکارے کھانے پسند تھے تو دونوں دادی پوتا نے گول گپے مزے کے ساتھ کھائے ۔ اس کے بعد عصر میں چاچو امتیاز نے بازار سے گاجر کا جوس پیلایا اور مجھے گھر چھوڑا کیونکہ میرا بخار اتر چکا تھا ۔ لوگ دنیا چھوڑ کر چلے جاتے ہیں لیکن ان کی یادیں دل میں رہ جاتی ہیں اللّٰہ سبحانہ وتعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ میرے دادا و دادی جان کی مغفرت فرمائے اور انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے ۔آمین !













