سابق وفاقی وزیر مہر ارشاد سیال اور مخدوم زادہ بلال عابد بخاری کی راہیں مبینہ طور پر جدا
تحریر علی امجد چوہدری
یہ 2017 تھا شاید اور میری صحافتی طالبعلمی کا بھی آغاز تھا صحافت کا زیادہ تر محور مقامی مسائل ہوا کرتا تھا جوانہ بنگلہ میں کوئی شناسائی خاص نہیں تھی مگر ملتان جاتے ہوئے دیواروں پر مخدوم زادہ بلال عابد بخاری اور مہر ارشاد سیال کی تحریریں دیکھنے کو ملا کرتی تھیں نام سے شناسائی ضرور تھی مگر یہ رابطہ 2018 کے عام انتخابات تک نہ ہو سکا 2018 کے بعد بلاول بھٹو زرداری مظفر گڑھ آئے تو ان کی کال آئی ان کے پٹرول پمپ پہنچا تو حیران کن مناظر تھے چکفرازی سے چالیس گاڑیوں اور سات بسوں کا قافلہ یہ ایسا منظر تھا جس کا میں تصور بھی نہیں کر سکتا تھا کیونکہ اس سے قبل ایک پسماندہ یونین کونسل سے اس طرح کے استقبالیہ جلوس سے میں نا آشنا تھا استفسار کیا کہ اتنی گیدرنگ مخدوم بلال عابد بخاری فوری بولے یہ میرے بھائی مہر ارشاد سیال کی عزت کا معاملہ ہے اور اپنے وسائل اپنے بھائی سے پیارے نہیں کر سکتا جب مہر ارشاد سیال حزب اختلاف میں تھے تب اپنی زاتی جیب سے رقم خرچ کرکے مہر ارشاد سیال کی تشہیر کا میں عینی شاہد ہوں ماضی میں میرا خیال تھا کہ مہر ارشاد سیال اور مخدوم زادہ بلال عابد اہک سکے کے دو رخ ہیں اور یہ کبھی جدا نہیں ہو سکتے مگر زرائع کے مطابق مخدوم زادہ بلال عابد بخاری مہر ارشاد سیال سے اپنی راہیں جدا کر چکے ہیں اس میں کتنی حقیقت ہے اس بارے ابھی وثوق سے تو نہیں کہا جا سکتا تاہم زرائع یہی رپورٹ کر رہے ہیں
علی امجد چوہدری









