امیر عباس خان کی بدلتی سیاست اور رانا جہانزیب علی خان رانا توقیر آصف جیسے کنگ میکرز

تحریر علی امجد چوہدری

پی پی 130 کی سیاست اتار چڑھاؤ کا شکار آج سے نہیں ہے بلکہ صوبائی اسمبلی کی تحلیل سے ہی ان مراحل سے گزر رہی ہے جس وقت اسمبلیاں تحلیل ہوئیں تھیں امیر عباس خان مقبولیت کی انتہا کو چھو رہے تھے یہ وقت بہترین فیصلے کرنے کا تھا کیونکہ عوامی غصہ سابقہ حزب اقتدار کے خلاف تھا مگر امیر عباس خان اپنے والد محترم مرحوم نجف عباس خان کے انتہائی زیرک اور قریبی ساتھیوں کی مشاورت سے دور ہوتے گئے اور ناتجربہ کار ساتھیوں کی مشاورت میں کچھ فاش غلطیاں کرتے گئے جس سے نہ صرف مقبولیت میں غیر معمولی حد تک کمی ہوئی بلکہ حلقے کے مضبوط سیاسی گروپ کے سربراہان کے درمیان اندیشے بھی جنم لینے لگے قسمت کی دیوی شاید ابھی امیر عباس خان سے مکمل روٹھی نہیں ہے اسی لیئے گزشتہ چند دنوں سے ان میں بڑی تبدیلی دیکھنے کو مل رہی ہے ان کے والد کے تجربہ کار ساتھی رانا جہانزیب علی خان رانا توقیر آصف اور سردار نزر عباس سرگانہ ان کی صفوں میں پہلی صف کے اندر آ چکے ہیں اور امیر عباس خان پھر سے مقبولیت کی طرف گامزن گامزن ہو چکے ہیں کیونکہ ان کے ایسے ساتھی جو ان کی وفاداری میں روزانہ کہچریوں میں دکھائی دیئے وراثتی زمینوں کے معاملات میں شدید پیچیدگیوں سے گزرے ان سے بڑھ کر امیر عباس خان کا خیرخواہ نہیں ہو سکتا
جب امیر عباس خان کا سایہ بھی ان سے خوفزدہ تھا تب بھی رانا جہانزیب علی خان رانا توقیر آصف اور سردار نذر عباس سرگانہ ان کے ساتھ چٹان کی طرح مضبوطی سے کھڑے رہے اور اب یہ تینوں شخصیات صرف سونا نہیں بلکہ کندن بن چکی ہیں اور کندن بہت ہی قیمتی ہوتا ہے جس کا احساس امیر عباس خان جیسے مخلص کو بخوبی ہو چکا ہے
علی امجد چوہدری