پاکستانی سیاست میں غیرملکی مداخلت بندہونی چاہیے

تحریر:اللہ نوازخان

ایک خبر ہے کہ امریکی سفیر ڈونلڈ بلوم نے مختلف سیاستدانوں سے ملاقاتیں کی ہیں،جن میں نواز شریف،جہانگیر ترین اور یوسف رضا گیلانی وغیرہ شامل ہیں۔اس کے علاوہ برطانوی ہائی کمشنر نے بھی مختلف سیاستدانوں سے ملاقاتیں کی ہیں۔اس وقت جب انتخابات کی تاریخ مقرر کی جا چکی ہے،امریکہ اور برطانیہ کے سفیروں سے ملاقاتیں کئی شبہات کو جنم دے رہی ہیں۔پاکستانی قوم اچھی طرح جانتی ہے کہ امریکہ کاتعلق پاکستان سے کبھی بھی خلوص بھرا نہیں رہا بلکہ امریکہ نے ہمیشہ پاکستان کو نقصان پہنچایا ہے اوراپنامفاد زیادہ سمیٹا ہے۔یہی حال برطانیہ کا بھی ہے،لیکن امریکہ زیادہ بدنام ہے۔روس اور افغانستان کی جنگ میں امریکہ کی ہدایات پرپاکستان نے افغانستان کا ساتھ دیا تھااور لاکھوں افغانیوں کو پاکستان میں پناہ بھی دی اور ان کی دوسری بنیادضروریات بھی پوری کیں۔یہ اور بات ہے کہ پاکستانی حکمرانوں کو کافی فنڈزامریکہ کی طرف سے ملے۔نتیجے میں پاکستان کوکافی خسارہ اٹھانا پڑا۔دہشت گردی،کلاشنکوف اور ہیروئن کی وبا پاکستان میں تیزی سے پھیلی۔9/11کے بعد جب افغانستان کوامریکہ نے دہشت گرد قرار دیااور اس پر حملے کی تیاری کی توامریکہ کو زمینی اور فضائی سپورٹ کے لیے پاکستان کی ضرورت پڑی،توامریکہ نے ہر قسم کی سہولت پاکستان سے حاصل کر لی۔پاکستان کو اس سہولت کے بدلے کافی نقصان اٹھانا پڑا،یہ نقصان جانی کے علاوہ مالی نقصان بھی تھا۔ابھی تک پاکستان یہی زخم چاٹ رہا ہے۔پاکستانی قوم سمجھتی ہے کہ امریکہ نےپاکستان سے فائدہ اٹھایا اور بدلے میں پاکستان کو نقصان اٹھانا پڑا ہے۔امریکی مداخلت پاکستان کے لیے زہر قاتل ہے۔اب امریکی سفیر کی ملاقاتیں پاکستانی قوم کے لیے پریشان کن ہیں۔پاکستانی قوم اچھی طرح سمجھتی ہے کہ امریکہ پاکستان کا کبھی خیر خواہ نہیں ہو سکتا۔امریکہ نے ماضی میں بھی سیاست دانوں کو اپنے مفاد کے لیے استعمال کیا ہے۔سی ائی اے اور امریکی حکومت پرامن دنیا کے لیے ہمیشہ خطرہ بنتی رہی ہے۔اب امریکی سفیراوربرطانوی ہاٸ کمشنر ملاقاتیں کر رہے ہیں ان کا مدعا یہ بتایا جا رہا ہے کہ سیاست پراور چند دوسرے مسائل پر بات چیت ہو رہی ہے،لیکن افواہیں پھیل رہی ہیں کہ پاکستانی سیاست پر غیر ملکی طاقتیں اثر انداز ہو رہی ہیں۔اس وقت جب سیاسی عدم استحکام پاکستان میں پریشانی کا سبب بنا ہوا ہے،برطانیہ اور امریکہ کے طاقتور افراد سے ملاقاتیں تنقیدی نظر سے دیکھی جا رہی ہیں۔اس بات سے کوئی انکار نہیں کہ سیاستدان ملاقاتیں کرتے رہتے ہیں،سیاستدان امریکہ کے ہوں یا سعودی عرب کے یا کسی اور ملک کے، ان کی دوسرے ممالک کے سیاستدانوں اور سفیروں کے علاوہ سربراہان سے بھی ملاقاتیں ہوتی رہتی ہیں،لیکن وہ ملاقاتیں قوم کو اعتماد میں لے کر کی جاتی ہیں اور قوم کو امید بھی ہوتی ہے کہ ان کے مفاد کے لیے ملاقاتیں کی جا رہی ہیں۔پاکستان میں امریکی اہلکاروں کی ملاقاتوں کوبہتر نہیں سمجھا جاتا۔یہ ایک اصولی بات ہے کہ کوئی ملک نہیں چاہتا کہ ان کے ملک میں غیر ملکی مداخلت ہو،امریکی مداخلت کئی ممالک میں ثابت بھی ہو چکی ہے۔امریکہ فلسطین اور اسرائیل کی جنگ میں کھلم کھلا اسرائیل کا ساتھ دے کر مسلمانوں کے زخموں پر نمک چھڑک رہا ہے۔امریکی امداد مسلمانوں کا قتل عام کر رہی ہے۔یہ ثابت ہوچکا ہے کہ اسرائیل کی بدمعاشی کے پیچھے امریکہ کاسب سے زیادہ ہاتھ ہے۔پاکستانی سیاست دانوں کو سوچنا چاہیے کہ امریکہ سے تعلق ہمیشہ نقصان کا سبب بنتا ہے۔
پاکستان سیاسی عدم استحکام کے علاوہ معاشی عدم استحکام کا بھی شکار ہے۔معاشی طور پرپاکستان امریکہ کا محتاج رہا ہے۔امریکہ اور ائی ایم ایف کے ذریعے جو معاشی مدد کی جاتی ہے،اس نے بھی پاکستان کو کئی کمزوریوں کا شکار بنا دیا ہے۔یہ الگ بات ہے کہ پاکستان کو قرض بھاری سود کے ساتھ ادا کرنا پڑتا ہےاور اس کے نتیجے میں پاکستان کوامریکہ اور ائی ایم ایف جیسے اداروں کی ناگوار شرائط بھی قبول کرنی پڑتی ہیں۔ان کی شرائط ایسی ہوتی ہے جس سے پاکستان ہمیشہ پریشانی کا شکار رہتا ہے۔پاکستانی سیاست دانوں کی کمزوریاں ملک کو ترقی کرنے سے روک رہی ہیں۔پاکستانی سیاست دانوں کوامریکہ سے جان چھڑانی ہوگی۔امریکہ پاکستان میں کافی حد تک دخل انداز ہو رہا ہے۔امریکہ کی دخل اندازی پاکستان کو اپنے پیروں پر کھڑا نہیں ہونی دے رہی،بلکہ سخت پریشانی میں دھکیل رہی ہے۔امریکہ ہو، برطانیہ ہو،کوئی بھی ملک یا ادارہ ہو،پاکستان کو ان سے ڈکٹیشن لینے سے گریز کرنا ہوگا۔پاکستان کی سالمیت اور مضبوطی کے لیے ضروری ہے کہ پاکستانی قوم اپنے فیصلے خود کرے۔سیاستدان بھلے ملاقاتیں کریں لیکن قوم کو اعتماد میں لینا ضروری ہے۔الیکشن کی تاریخ تو مقرر ہو چکی ہے،مگر انتخابی مہم میں وہ سرگرمی نظر نہیں آرہی جو ماضی کا حصہ رہی ہے۔حالات پہلے بھی خرابی کی طرف بڑھ رہے ہیں،برطانوی اور امریکی مداخلت پاکستان کے لیے خطرناک ثابت ہوگی۔سیاستدانوں کو بھی سوچنا ہوگا کہ امریکی مداخلت کا رد عمل پاکستانی عوام کی طرف سے سخت آسکتا ہے۔بہتر یہ ہے کہ عام ملاقاتیں تو ہوں لیکن کسی قسم کی مداخلت نہ ہو۔پاکستانی قوم سمجھتی ہے کہ امریکہ پاکستان کا خیرخواہ نہیں ہے،بلکہ نقصان کا سبب بنتا ہے۔ظاہر بات ہے ہر ملک یا فرد اپنے مفاد کو پیش نظر رکھتا ہے لہذاان سے شکوہ شکایت کرنے کی بجائے خود کو سدھارنا ہوگا۔بہت ہی بہترہوگاکہ غیر ملکی مداخلت بند ہو جائے۔