دکھ اور کامیابی!

تحریر مبشر نور کمیانہ

اکثر کسی کامیاب انسان کی زندگی میں کوئی دکھ بھری داستان ضرور ہوتی ہے اور زیادہ تر دکھ بھری داستان کا انجام کامیابی ہوتی ہے۔ اِس لیے کسی بھی سانحے سے دوچار ہو کر بکھرنے کی بجائے خود کو مضبوط کر کے کامیاب انسان بننے کی ممکن کوشش کرنی چاہیے۔ دکھوں اور مشکلات سے سبق سیکھ کر زندگی میں کوئی بڑا کارنامہ سرانجام دینے اور معاشرے میں تغیر پیدا کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ زندگی میں مشکلات اور دکھوں سے گھبرانے کی بجائے ہمت و حوصلہ اور خود اعتمادی پیدا کرنے کی کوشش کرنی چاہیے اور دنیا میں کامیاب انسان بننے کے لیے خود کو تیار کرنا چاہیے۔
۔۔۔
انسانی زندگی دکھوں سے بھری پڑی ہے۔ زندگی میں نشیب و فراز آتے رہتے ہیں بعض اوقات ایسے مواقع پیدا ہو جاتے ہیں جب حالات انسان کی توقع کے بالکل خلاف ہو جاتے ہیں لیکن ایسے کٹھن حالات میں جو انسان ہمت ہار گیا سمجھیں وہ ڈوب گیا۔ جیسے ایک مصرع زدِعام ہے کہ “جو ڈر گیا، وہ مر گیا” لہذا ڈر کو بھگا دو، بےخوف ہو کر زندگی جیو۔ زندگی کا مزہ دکھوں کے ساتھ ہی ہوتا ورنہ اگر انسان ساری زندگی خوش و خرم رہے کبھی کوئی دکھ تکلیف غم نہ دیکھا ہو تو اسے کیا احساس ہو گا کسی بھوکے انسان کا، کسی غمزدہ انسان کی تکالیف کا، اسے کیا پتہ غم دکھ تکلیف رنج و الم مصیبت یہ سب کیا ہے کیونکہ اس نے کبھی دکھ دیکھا ہی نہیں۔ اس نے تو ہمیشہ خوشیاں ہی دیکھی ہیں تو اسکو کیا پتہ دکھ کیا ہوتا ہے۔
۔۔۔
اگر ایک کاروباری شخص ساری زندگی منافع اکٹھا کرنے میں مصروف رہے، کبھی اس نے نقصان نہ دیکھا ہو تو اسے کیا پتہ نقصان کیا ہوتا ہے کیونکہ وہ تو ہمیشہ نفع دیکھنے کا عادی ہو چکا ہوتا ہے لہذا زندگی میں دکھ تکالیف آنے کے باوجود ہمت و حوصلہ مت ہارو۔ یہ دکھ غم نقصانات انسان کو ڈھارس بندھاتے ہیں، یہ دکھ انسان کے ساتھی اور بُرے وقت کے دوست ہوتے ہیں۔ جو سبق انسان ان دکھوں سے سیکھتا ہے وہ سبق کوئی بھی دوست یا کوئی رشتہ دار نہیں سکھا سکتا * سوائے دھوکہ کے” کیونکہ جب تک کوئی لمحہ کسی انسان پر خود نہ بیتے تب تک اسکو کیا احساس کہ دکھ غم کیا ہوتے ہیں، ان دکھوں سے خود کو کیسے نکالنا ہے اور ان سے سبق سیکھ کر کیسے خود کو ایک کامیاب انسان بنانا ہے، کیسے ایک خوشگوار زندگی کا آغاز دوبارہ سے کرنا ہے، کیسے ایک کامیاب انسان بن کر جینا ہے۔
۔۔۔
لہذا دکھ و غم کے باوجود زندگی میں کامیاب انسان بننے کی بھرپور کوشش کرنا چاہیے۔ کامیاب انسان بننے کے لیے اپنی نظر ہمیشہ اپنی منزل پر رکھو اور کام اپنا محنت سے جاری رکھو۔ انشاءاللہ منزل ضرور ملے گی۔ یہ قدرت کا قانون ہے جو انسان اپنے کام سے سچی محبت سچی محنت کرتا ہے اللہ تعالی اسکو اُس کی منزل تک پہنچنے کا موقع ضرور عطا کرتا ہے بشرطیکہ کہ وہ شخص محنتی ہو اور باصلاحیت ہو۔ آگے بڑھنے اور ترقی کرنے کی جستجو و تمنا اور ساتھ عمل ضرور ہو صرف باتوں اور خوابوں خیالوں سے تو منزل نہیں مل جاتی۔
۔۔۔
زندگی میں کامیاب انسان بننے کے لیے عشق ضروری ہے
عشق چاہے تو آپ کو اپنے آپ سے ہو یا اپنے کام سے ہو، اپنے شعبہ سے ہو یا اپنی منزل سے ہو، اپنی بیوی سے ہو لیکن عشق ہونا ضروری ہے کیونکہ یہ عشق آپ کو خوش رکھتا ہے، یہ عشق آپ کو نئی نئی منزلیں تلاش کرنے کی طرف اُبھارتا ہے، یہ عشق آپ کو نئے سپنے نئے خواب دکھاتا ہے اور انکو پورا کرنے کے لیے جستجو اور تڑپ پیدا کرتا ہے۔ یہ عشق آپ کو منزل تک لے کے جانے کا درد پیدا کرتا ہے تاکہ آپ اپنی منزل کی جانب گامزن رہیں۔ کامیابی حتمی اور ضروری نہی، ناکامی مہلک اور قسمت کا لکھا نہیں، آپ اس وقت کامیاب نہیں ہو سکتے، جب آپ کوشش کرنا چھوڑ دیتے ہو۔ کامیابی کا شمار مسلسل ہمت اور کوشش سے ہے۔ عمران خان کا ایک قول ہے ( مسلسل محنت اور جدوجہد سے مسلط ہوتی ہوئی شکست بھی فتح میں تبدیل ہو جاتی ہے )۔
انسان کی زندگی میں بیش بہا دکھ غم آتے ہیں۔ کبھی کوئی کاروباری نقصان ہو گیا، کبھی نوکری سے ہاتھ دھو بیٹھا، کبھی مقروض ہو گیا، کبھی کوئی اپنا قریبی عزیز رشتہ دار فوت گیا، سگا بھائی، بیٹا، ماں باپ بھی، کبھی کوئی دوست زندگی میں بے وفا اور دھوکے باز نکل آیا، کبھی کسی اپنے نے زندگی کے انتہائی مشکل اور بوسیدہ حالات میں مدد نہ کی، کبھی مُلکی خراب معاشی حالات زندگی پر اثرانداز ہو جاتے ہیں لیکن اس سب کے باوجود انسانی زندگی میں کچھ دکھ عارضی ہوتے ہیں اور کچھ دیر پا ہوتے ہیں جو زیادہ لمبے عرصہ تک انسان کا پیچھا نہیں چھوڑتے۔ کوئی دکھ انسان کو کمزور بنا دیتے ہیں کوئی دکھ انسان کو مضبوط بنا دیتے ہیں۔
دکھ ہر انسان کی زندگی میں آتے ہیں لیکن ان میں سے نکلنا کیسے ہے یہ کام ہر کوئی نہیں کر پاتا اصل کام یہی کرنے والا ہے جو ہم شائد عمدہ طرز سے نہیں کر پاتے۔ ہم کو اپنی پریشانی دکھ کی اصل تہہ تک جا کر اس مسلے کی اصل وجہ تلاش کرنی چاہیے اور اسکا اصل حل تلاش کرنا چاہیے تب ہی ہم اس غم دکھ الم سے شائد نکلنے میں کامیاب ہو سکتے ہیں اور ثابت قدم رہ سکتے ہیں۔ اپنے دکھوں کو روتے رہنا پریشان رہنا افسردہ رہنا غمگین رہنا یہ سب عام اور فطری باتیں ہیں۔ ہمیں ان سے نکل کر کچھ بڑا سوچنا ہو گا، کچھ نیا کارنامہ سرانجام دینا ہوگا، زندگی کی نئی داستان رقم کرنا ہو گی۔ اگر آپ یونہی دکھوں غموں کو لے کر سوچتے رہیں گے، ماضی کو لے روتے رہیں گے، خود کو بے سکون کر کے جیتے رہیں گے تو آپ کی موجودہ زندگی ماضی سے بھی بدتر اور مشکل ہو جائے گی۔ آپ کا ماضی تو دکھی تھا ہی پر اب حال اور مستقبل بھی خراب ہو جائے گا۔
لہذا! رونا دھونا بند کرو۔ چُپ کر کے اپنے آنسو پونچھو اور خود کو ایک کامیاب انسان بنانے میں مصروف ہو جاؤ۔ بھول جاؤ ماضی میں تمہارے ساتھ کیا ہوا تھا۔ بھول جاؤ کس نے کیا کہا تھا۔ بھول جاؤ ان لوگو کو بھی جو مشکل وقت میں تمہیں اکیلا چھوڑ گئے بلکہ آپ کو ان لوگوں کا شکر گزار ہونا چاہئے جنہوں نے آپ کو لات ماری جبکہ آپ مشکلات کے بوجھ تلے دبے تھے تو وہ لوگ آپکو اکیلا چھوڑ کر چلتے بنے تو اب آپ خود کو ایک عظیم انسان بنا کر سب داغ دھو ڈالو۔ یہ وقت یہ دولت یہ پیسہ یہ دنیا آپ کی منتظر ہے۔ بس آپ کی محنت کی ضرورت ہے تو یہ سب آپ کے قدموں میں ڈھیر ہونے کو تیار ہیں۔ بس آپ نے ہمت و حوصلہ نہیں ہارنا۔ آپ کی تھوڑی سی کوشش سے تھوڑی سی ہمت سے تھوڑی سی محنت سے آپ کا مستقبل سنور سکتا ہے۔ آپ کا ماضی جیسا روشن تھا وہ دوبارہ سے روشن ہو سکتا ہے اور آپ ایک قابل رشک انسان سکتا۔
اللہ تعالی نے قرآن پاک میں فرما دیا۔ مفہوم ( اور انسان کے لیے وہی کچھ ہے جس کی وہ کوشش کرتا ہے )۔ اس لیے اللہ نے انسان کو بااختیار پیدا کیا۔ آپ بااختیار ہیں فیصلہ لینے کی قوت ارادہ آپ کے اختیار میں ہے تو زندگی میں کوئی بڑا فیصلہ لیں۔ بڑے خواب سوچیں ان کو پورا کرنے کی سعی کوشش کریں، انسانیت کے لیے کچھ کر کے دکھائیں، معاشرے میں کوئی تغیر پیدا کریں، کوئی ادارہ بنائیں جہاں کمزور ذہنوں کی آبپاری ہو، نشوونما ہو، باصلاحیت نوجوانوں کی نئی کھیپ پیدا کریں۔ بس اللہ سے مدد مانگتے رہیں اللہ محنت کا صِلہ ضرور عطا کرتا ہے اور آپکی منزل آپ کو ضرور ملے گی۔
زندگی کے راستوں میں کبھی کبھار ہمیں کچھ مشکلات اٹھانی پڑتی ہیں لیکن یاد رہے کہ زندگی میں کچھ بھی ممکن ہے۔ ہماری محنت، استقلال اور ایمان کے ساتھ، ہم کامیابی کی طرف بڑھتے ہیں اور مسلمان کبھی مصیبت میں گھبرایا نہیں کرتا۔ آخر پر میری طرف سے کچھ الفاظ قارئین کی نظر کرتا ہوں۔ بھائیو اور بہنو۔۔۔ اِن آنسوؤں سے کہہ دو، اب آنکھوں سے بہنا چھوڑ دیں۔ اِن لبوں سے کہہ دو، اب خاموش رہنا چھوڑ دیں۔ اپنی چِنگاری کی لو کو جلاؤ دوستو، دل میں جو بارود ہے، اُسے جلاؤ دوستو۔