عجاٸب_گھروں_کی_عجب_دنیا
آئیں دیکھیں بہاولپور
تحریر میاں احمد رمضان
کے مشہور یوٹیوبر وقاص خان کے ہمراہ ????✍️
بہاولپور میوزیم ؛
تقسیم سے پہلے ریاست بہاولپور اپنے وقت کی ایک خوشحال اور امیر ترین ریاست تھی جس کا اپنا سِکہ، ریلوے کا نظام، نہری نظام، ڈاک کا نظام،بینک، ٹکسال اور فوج تھی۔محلات کا شہر کہلایا جانے والا بہاولپور آج شاید تاریخ میں کہیں گم ہو چکا ہے لیکن اس شہر نے اپنے تاریخی اہمیت پر آنچ نہیں آنے دی جس کی جیتی جاگتی مثال اس شہر کا میوزیم ہے۔
ایک عام سی عمارت میں واقع بہاولپور میوزیم سینٹرل لائبریری کے بالکل پہلو میں بہاول وکٹوریہ اسپتال کے ساتھ واقع ہے۔
اس عجائب گھر کا قیام لگ بھگ 1976 میں بہاولپور کی ضلعی انتظامیہ کے زیر نگرانی عمل میں آیا۔
گیٹ سے اندر داخل ہوتے ہی جو چیز آپ کا استقبال کرتی ہے وہ ایک بڑے چبوترے پر نمائش کے لیئے رکھی گئی نواب صاحب کی گاڑی ہے جس کے قریب ہی ایک صدی پرانا سٹیم انجن کھڑا ہوا ہے جو ابتدائی طور پر بنگال ریلوے کے لیئے تیار کیا گیا تھا۔ تاریخ کے مطابق اسی انجن کو پھر ہیڈ پنجند کی تعمیر میں استعمال ہونے والے سامان کی ترسیل کے لیئے کام میں لایا گیا۔ 1931 میں ہیڈ پنجند کی تعمیر کے بعد اسے ورکشاپ میں کھڑا کر دیا گیا۔ 2004 میں اسے پنجند سے بہاولپور میوزیم منتقل کر دیا گیا جو اب تک یہیں ہے۔
ٹکٹ لے کر میوزیم کے اندر داخل ہوں تو پہلی گیلری میں تین مختلف اقسام کی توپیں اور دیگر جنگی سامان نظر آتا ہے۔ یہ توپیں ریاست بہاولپور کے شاہی توپ خانے سے لائی گئی ہیں۔ دیگر سامان زیادہ تر پرانی جنگوں میں استعمال کیا جانے والا ہے جن میں موتیوں کے کام والے طمنچے، تلواریں ، ڈھالیں، تیر کمان اور زرہ بکتر شامل ہیں۔۔ اس کے ساتھ ہی ہاتھی دانت کی اشیاء، زیورات اور منقش پلیٹیں رکھی گئی ہیں۔
اگلی گیلری میں آپ مائنجودڑو، ہڑپہ اور گندھارا سے نکلنے والے قدیم مجسمے اور دیگر اشیاء دیکھ سکتے ہیں۔ یہاں رکھی گئی اشیاء میں کالی دیوی کا مجسمہ ، کالادھاری مندر بہاولپور کا لکڑی کا منقش دروازہ، سنگ مرمر کے مجسمے، ریت کے پتھر کا ستون، ناپ تول کے باٹ اور گوتم بدھ کا سر شامل ہیں۔ یہیں گیلری کے وسط میں نور محل کا خوبصورت ماڈل بھی رکھا گیا ہے۔
اس سے آگے ڈاک گیلری ہے جہاں ریاست بہاولپور سمیت حکومت پاکستان کے جاری کردہ مختلف ڈاک ٹکٹ نمائش کے لیئے رکھے گئے ہیں۔
ریاست بہاولپور کی ثقافتی گیلری اس میوزیم کی سب سے منفرد جگہ ہے جہاں آپ چولستان کی ثقافت کو ایک چھت تلے دیکھ سکتے ہیں۔ یہاں آپ کو چاندی کے قدیم زیورات، صندوقچے، لکڑی کے چرخے، آئینے، مٹی کے برتن، چھبیاں، لسی بنانے والی مندھانی اور قلعہ دیراوڑ کا ایک خوبصورت ماڈل دیکھنے کو ملے گا۔ ملبوسات کی گیلری میں بہاولپور ریجن میں بنائے جانے والے دلکش کھیس، دریاں، چادریں، کُھسے، کشمیری و بلوچی پوشاکیں، چنری، تکیوں کے غلاف، ہاتھ کی کڑہائی والی ٹوپیاں، لنگیاں اور دولہا کے سہرے شامل ہیں۔
اگلی گیلریوں میں آپ نواب صاحب، ان کی اولاد، دیگر سربراہانِ مملکت اور ان کے محلات کی تصویریں، ریاست کے جاری کردہ سکے، شاہی بگھی، چولستان کی روز مرہ زندگی اور ثقافت، روہیلوں کے گوپے اور بہاولپور کے محلوں کے ماڈل دیکھ سکتے ہیں۔
غرض یہ میوزیم جنوبی پنجاب خصوصاً بہاولپور و چولستان کی ثقافت سے روشناس ہونے کا اہم ترین ذریعہ ہے۔
میاں احمد رمضان
جاری ہے۔۔۔۔
#شاہنامہ
Bahawalpur
Bahawalpur Museum









