حسنِ معاشرت

تحریر۔ متین قیصر ندیم

حسنِ معاشرت
**ضروری نہیں کہ ہم سب کو پسند أئیں
زنڈگی ایسی جیو کہ رب کو پسند أئے**

اکیلا فرد اپنی ذات تک ہی محدود رہتا ہے لیکن جیسے ہی وہ تنہا فرد دوسرے افراد سے ملتا ہے ، کسی جگہ کو اپنا مسکن بناتا ہے ، دوسروں سے لین دین ، میل جول شروع کرتا ہے تو معاشرے کی بنیاد پڑ جاتی ہے۔ سادہ لفظوں میں یوں کہیں کہ معاشرہ افراد ہی سے مل کر بنتا ہے اور کسی بھی معاشرے کی اچھائی و بُرائی اور ترقی و تنزلی افراد کی تعلیم و تربیت اور ان کے اُسْوَہ و کردار سے ڈائریکٹ وابستہ ہوتی ہے۔

دینِ اسلام اور پیغمبرِ اسلام کی تعلیمات ہر موڑ پر فرد کی تربیت اور معاشرے کے حُسن کے اہتمام پر زور دیتی ہیں۔ اللہ رب العزّت نے جو اپنے حبیب صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے کردار اور لَیل و نَہار کے بارے میں ” لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِیْ رَسُوْلِ اللّٰهِ اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ “ فرمایا ہے انتہائی گہرائی او ر وُسعت پر مشتمل کلام ہے۔ یوں کہہ لیں کہ ساری کائنات کے لئے حُسنِ معاشرت کی تعلیم و تربیت کا منبع و ماٰخذ کیا ہے ؟ ایک ہی فرمان میں واضح کردیا ہے۔جی ہاں ! حُضور سرورِ کائنات صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی مبارک تعلیمات اور آپ کے کردار سے حُسنِ معاشرت کے عظیم اصول ملتے ہیں۔ پہلے تو یہ سمجھ لینا چاہئے کہ حُسنِ معاشرت کہتے کسے ہیں ؟ حُسنِ معاشرت سے مراد یہ ہے کہ انسان جس سے ملے اور جس سے میل جول رکھے ان سے اچھے اخلاق اور کردار سے پیش آئے جیسے ماں باپ ، رشتے دار ، دوست احباب ، اہلِ محلہ و مجلس ، گاہک و دکاندار ، میزبان و مہمان ، ہم سفر وہم وطن۔ غرضیکہ ان میں سے ہر ایک سے ویسا ہی معاملہ کرے جیسا کہ وہ خود اپنے لئے پسند کرتا ہے۔
حُسنِ معاشرت صرف انسان ہی نہیں بلکہ روئے زمین کے ہر ذی روح کو مطلوب ہے۔ حُسنِ معاشرت کے بغیر بےسکونی ، اضطراب ، مسلسل تنزلی اور اپنے کریم خالق کی رضا سے دوری بڑھتی جاتی ہے۔آئیے حُضور سرورِ کائنات صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی تعلیمات سے حُسنِ معاشرت کے اصول جانتے ہیں۔ حُسنِ معاشرت کے نبوی اصولوں کو مفصل اور تقاضۂ حالات کے پس منظر کے ساتھ بیان کیا جائے تو ایک ایک اصول پوری پوری کتاب بنتا ہے ، جو حُسنِ معاشرت کے اصولوں کی حیثیت رکھتی ہیں۔
صرف اللہ کی رضا چاہو ۔ اِنَّمَا الْاَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ وَاِنَّمَا لِكُلِّ امْرِئٍ مَا نَوَى یعنی اعمال کا دار و مدار نیتوں پر ہے اور ہر آدمی کے لئے صرف وہی ہے جس کی اس نے نیت کی۔ اچھی بات کرو یا خاموش رہو ۔مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيَقُلْ خَيْرًا اَوْ لِيَصْمُتْ یعنی جو شخص اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے ، اسے چاہئے کہ اچھی بات کہے یا خاموش رہے۔ہمیشہ صبر کا دامن تھامے رکھو

اِنَّمَا الصَّبْرُ عِنْدَ الصَّدْمَةِ الْاُولٰى یعنی صبر وہی ہے جو ابتدائے صدمہ میں ہو۔ نعمت ملے تو شکر کرو ، مصیبت پہنچے تو صبر کرو ۔ لِاَمْرِ الْمُؤْمِنِ اِنَّ اَمْرَهُ كُلَّهُ لَهُ خَيْرٌ وَلَيْسَ ذَلِكَ لِاَحَدٍ اِلَّا لِلْمُؤْمِنِ اِنْ اَصَابَتْهُ سَرَّاءُ شَكَرَ فَكَانَ خَيْرًا لَهُ وَاِنْ اَصَابَتْهُ ضَرَّاءُ صَبَرَ فَكَانَ خَيْرًا لَهُ یعنی مؤمن کا معاملہ بڑا عجیب ہے کہ اس کا ہر معاملہ اس کے لئے خیر والا ہے اور یہ اعزاز صرف مؤمن ہی کو حاصل ہے۔ کہ اگر اسے خوشی حاصل ہوتی ہے تو وہ اس پر اللہ کا شکر ادا کرتا ہے اور یہ شکرادا کرنا اس کے لئے نہایت مفید ہے اور اگر اسے کوئی مصیبت یا پریشانی لاحق ہوتی ہے تو وہ اس پر صبر کرتا ہے اور یہ بھی اس کے لئے خیر ہے۔ غصے پر قابو پاؤ ، اصل بہادری یہی ہے

لَيْسَ الشَّدِيدُ بِالصُّرَعَةِ اِنَّمَا الشَّدِيدُ الَّذِي يَمْلِكُ نَفْسَهُ عِنْدَ الْغَضَبِ یعنی طاقتور وہ نہیں جو پچھاڑ دے حقیقی طاقتور وہ ہے جو غصے کے وقت اپنے آپ پر قابو پا لے۔مشکوک چیزوں اور باتوں سے دور رہو ۔ دَعْ مَا يَرِيبُكَ اِلَى مَا لَا يَرِيبُكَ فَاِنَّ الصِّدْقَ طُمَاْنِينَةٌ وَاِنَّ الْكَذِبَ رِيبَةٌ یعنی جو چیز تمہیں شک میں ڈالے اسے چھوڑ دو اور اسے اختیار کرو جو شک میں نہ ڈالے ، بے شک سچائی اطمینان قلبی کا باعث ہے اور جھوٹ اضطراب میں ڈالتا ہے۔صدقہ و خیرات ، صحت و سلامتی میں کرلو ۔جَاءَ رَجُلٌ اِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ اَيُّ الصَّدَقَةِ اَعْظَمُ اَجْرًا قَالَ اَنْ تَصَدَّقَ وَاَنْتَ صَحِيحٌ شَحِيحٌ تَخْشَى الْفَقْرَ وَتَاْمُلُ الْغِنَى وَلَا تُمْهِلُ حَتَّى اِذَا بَلَغَتِ الْحُلْقُومَ قُلْتَ لِفُلَانٍ كَذَا وَلِفُلَانٍ كَذَا وَقَدْ كَانَ لِفُلَانٍ یعنی ایک شخص نے حضور نبیِّ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے پاس آ کر عرض کی : یارسولَ اللہ ! کون سا صدقہ زیادہ اجر و ثواب کا باعث ہے ؟ آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا : تیرا اس حال میں صدقہ کرنا ( زیادہ اجر کا باعث ہے ) کہ تو تندرست ہو ، مال کی ضرورت ہو ، فقر کا ڈر ہو اور مالدار بننے کا خواہش مند بھی ہو۔ اور صدقے میں اتنی تاخیر نہ کرو کہ جان گلے کو آئے تبھی کہو کہ میرے مال کا اتنا حصہ اس شخص کو دے دو اور اتنا مال اس کو دے دو حالانکہ وہ تو اب ( گویا ) دوسروں کا ہو ہی چکا ہے۔فضول اور بےفائدہ چیزوں کو چھوڑ دو ۔ مِنْ حُسْنِ اِسْلَامِ الْمَرْءِ تَرْكُهُ مَا لَا يَعْنِيهِ یعنی بندے کے اسلام کی خوبی ہے کہ جس چیز سے تعلق نہیں اسے چھوڑ دے۔ صحت و فراغت کو فضول نہ گنواؤ ۔ نِعْمَتَانِ مَغْبُونٌ فِيهِمَا كَثِيرٌ مِنَ النَّاسِ الصِّحَّةُ وَالْفَرَاغُ یعنی دو نعمتیں ایسی ہیں جن میں اکثر لوگ دھوکے میں ہیں : صحت اور فراغت۔ صحت میں کمالو ، عذر میں کام آئے گا۔اِذَا مَرِضَ الْعَبْدُ اَوْ سَافَرَ كُتِبَ لَهُ مِثْلُ مَا كَانَ يَعْمَلُ مُقِيمًا صَحِيحًا یعنی جب بندہ بیمار ہوتا ہے یا سفر کی حالت میں ہوتا ہے ( اور اپنے معمول کی نیکیاں نہ کر پائے ) تب بھی اس کے لئے وہ عمل لکھ دیے جاتے ہیں جو وہ اپنے گھر میں حالتِ صحت میں کیا کرتا تھاکسی اچھائی کو چھوٹا نہ سمجھو ۔كُلُّ مَعْرُوفٍ صَدَقَةٌ یعنی ہر نیکی صدقہ ہے۔ لَا تَحْقِرَنَّ مِنَ الْمَعْرُوفِ شَيْئًا وَلَوْ اَنْ تَلْقَى اَخَاكَ بِوَجْهٍ طَلْقٍ یعنی نیکی کے کسی بھی کام کو معمولی نہ جانو ، خواہ اپنے ( مسلمان ) بھائی سے ہنستے مسکراتے ملنا ہی ہو۔ اختلافات سے بچنا ہے تو سنّت کو تھام لو ۔فَاِنَّهُ مَنْ يَعِشْ مِنْكُمْ يَرَ اخْتِلَافًا كَثِيرًاوَاِيَّاكُمْ وَمُحْدَثَاتِ الْاُمُورِ فَاِنَّهَا ضَلَالَةٌ فَمَنْ اَدْرَكَ ذَلِكَ مِنْكُمْ فَعَلَيْکُم بِسُنَّتِي وَسُنَّةِ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ الْمَهْدِيِّينَ عَضُّوا عَلَيْهَا بِالنَّوَاجِذِ یعنی تم میں سے جو شخص میرے بعد زندہ رہا وہ بہت سے اختلافات دیکھے گا ، خبردار ! دین میں نئی نئی بدعات ایجاد کرنے سے بچنا ، کیونکہ یہ گمراہی ہے۔ اگر تم میں سے کوئی یہ زمانہ پالے تو اسے چاہئے کہ میری سنّت اور ہدایت یافتہ خلفائے راشدین کے طریقے کو لازم پکڑے۔ ان کو داڑھوں سے مضبوط پکڑے۔آپس میں ایک جسم کی مانند رہو !
مَثَلُ الْمُؤْمِنِينَ فِي تَوَادِّهِمْ وَتَرَاحُمِهِمْ وَتَعَاطُفِهِمْ مَثَلُ الْجَسَدِ اِذَا اشْتَكَى مِنْهُ عُضْوٌ تَدَاعَى لَهُ سَائِرُ الْجَسَدِ بِالسَّهَرِ وَالْحُمَّى یعنی مؤمنوں کی مثال ایک دوسرے کے ساتھ محبت ، رحم اور شفقت و نرمی کرنے میں ایک جسم کی طرح ہے ، جب اس کا عضو درد کرتا ہے تو باقی سارا جسم بھی اس کی وجہ سے بے خوابی اور بخار میں مبتلا ہو جاتا ہے رحم کروگے تو رحم ہوگا ۔مَنْ لَا يَرْحَمِ النَّاسَ لَا يَرْحَمْهُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ یعنی جو لوگوں پر رحم نہیں کرتا اللہ پاک بھی اس پر رحم نہیں کرے گا۔دوسروں کے حقوق و منصب کا خیال کرو ۔
لَا تَحَاسَدُوا وَلَا تَنَاجَشُوا وَلَا تَبَاغَضُوا وَلَا تَدَابَرُوا وَلَا يَبِعْ بَعْضُكُمْ عَلَى بَيْعِ بَعْضٍ وَكُونُوا عِبَادَ اللّٰهِ اِخْوَانًا یعنی ایک دوسرے سے حسد نہ کرو ، نہ خرید و فروخت میں ( دھوکا دینے کے لئے ) بولی بڑھاؤ ، نہ ایک دوسرے سے بغض رکھو ، نہ ایک دوسرے سے بے رخی بَرتو اور نہ تم میں سے کوئی دوسرے کے سودے پر سودا کرے اللہ کے بندو ! بھائی بھائی بن جاؤ۔مسلمان بھائی پر نہ ظلم کرو نہ اسے رُسوا کرو ۔اَلْمُسْلِمُ اَخُو الْمُسْلِمِ لَا يَظْلِمُهُ وَلَا يَخْذُلُهُ وَلَا يَحْقِرُهُ یعنی مسلمان مسلمان کا بھائی ہے ، نہ اس پر ظلم کرے ، نہ اسے ( مدد کے وقت بے یار و مددگار چھوڑ کر ) رسوا کرے اور نہ اسے حقیر جانے۔ : ظالم کو روکو ! مظلوم کا ساتھ دو ۔اُنْصُرْ اَخَاكَ ظَالِمًا اَوْ مَظْلُومًا فَقَالَ رَجُلٌ يَا رَسُول اللّٰهِ اَنْصُرُهُ اِذَا كَانَ مَظْلُومًا اَفَرَاَيْتَ اِذَا كَانَ ظَالِمًا كَيْفَ اَنْصُرُهُ قَالَ تَحْجُزُهُ اَوْ تَمْنَعُهُ مِنَ الظُّلْمِ فَاِنَّ ذَلِكَ نَصْرُهُ یعنی ” اپنے بھائی کی مدد کیا کرو خواہ وہ ظالم ہو یا مظلوم۔ “ ایک صحابی نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول ! اگر وہ مظلوم ہو تب تو اس کی مدد کروں لیکن جب وہ ظالم ہو تو اس کی مدد کیسے کروں ؟ نبی کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا : تم اس کو ظلم سے روکو یہی اس کی مدد ہے غلطی ہوجائے تو اچھائی بھی کرو ! اِتَّقِ اللّٰهَ حَيْثُمَا كُنْتَ وَاَتْبِعِ السَّيِّئَةَ الْحَسَنَةَ تَمْحُهَا وَخَالِقِ النَّاسَ بِخُلُقٍ حَسَنٍ یعنی تم جہاں بھی ہو اللہ پاک سے ڈرو اور گناہ کے بعد نیکی کرو ، وہ اس گناہ کو ختم کر دے گی۔ نیز لوگوں کے ساتھ حسنِ سلوک کرو ۔اکیلا فرد اپنی ذات تک ہی محدود رہتا ہے لیکن جیسے ہی وہ تنہا فرد دوسرے افراد سے ملتا ہے ، کسی جگہ کو اپنا مسکن بناتا ہے ، دوسروں سے لین دین جیسے جسمانی صحت خراب ہونے کی صورت میں بَروقت دوا لینا ضروری ہے یونہی معاشرتی صحت خراب ہو تو بَروقت نصیحت کرنا اور اُسے قبول کرنا ضروری ہےدینِ اسلام ہمیں خود انحصاری یعنی اپنی ضروریات خود اپنی محنت سے پوری کرنے کا درس دیتا ہےانسانی زندگی کے تین حصّے ہیں: (1)بچپن (2)جوانی اور (3)بڑھاپا۔رسولِ كريم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم اللہ ربّ العزّت کی جانب سے تمام جہان کے لئے رسول اور نبی بنا کر بھیجے گئے۔اسلام اپنے ماننے والوں کو دنیا اور آخرت دونوں کی بہتری کی تعلیمات دیتا ہے۔ زندگی کی بہتری کے لئے اسلامی تعلیمات انسانی زندگی کا لازمی حصہ ہیں۔اسلام ایک امن پسند ، کامل ترین ، لاجواب خوبیوں کا حامل ، انسانی طبیعت و فطرت کے عین مطابق ، آسمانی اور سچّا دین ہے۔حضور نبیِّ رحمت صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی مبارک تعلیمات حسنِ معاشرت کے عظیم اصولوں کی حیثیت رکھتی ہیں حقیقی محبت ایسی منزل ہے جہاں شائقین پہنچنا چاہتے ہیں ، یہ دِلوں کی خوراک ، روحوں کی غذا ، اور آنکھوں کی ٹھنڈک ہے ، یہ وہ زندگی ہے جس سے محروم شخص مُردوں میں شمار ہوتا ہے ،
حضور نبیِّ رحمت صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی مبارک تعلیمات حسنِ معاشرت کے عظیم اصولوں کی حیثیت رکھتی ہیں” شریعت “ کا لفظ ” شرع “ سے ، جبکہ طریقت کا لفظ ” طریق “ سے ہے ، دونوں الفاظ کا معنی راستہ ہے ، لیکن شریعت سے مراد وہ راستہ جو چوڑا اور سیدھا ہو ، جبکہ طریقت سے مراد وہ راستہ جو تنگ اور خم دار ہو۔ حضور نبیِّ رحمت صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی مبارک تعلیمات حسنِ معاشرت کے عظیم اصولوں کی حیثیت رکھتی ہیں ، اکیلا فرد اپنی ذات تک ہی محدود رہتا ہے لیکن جیسے ہی وہ تنہا فرد دوسرے افراد سے ملتا ہے ، کسی جگہ کو اپنا مسکن بناتا ہے ، دوسروں سے لین دین جیسے جسمانی صحت خراب ہونے کی صورت میں بَروقت دوا لینا ضروری ہے یونہی معاشرتی صحت خراب ہو تو بَروقت نصیحت کرنا اور اُسے قبول کرنا ضروری ہےدینِ اسلام ہمیں خود انحصاری یعنی اپنی ضروریات خود اپنی محنت سے پوری کرنے کا درس دیتا ہے مراسلہ محمد متین قیصر ندیم احمد پور سیال