حضرت شیخ الہندؒ ایک عہد ساز شخصیت
یوم وفات 30 نومبر 1920
عبدالرؤف چوہدری

حضرت شیخ الہندؒ وہ آئینہ ہے جس کے تلمذ سے دارالعلوم دیوبند کا افتتاح ہوا اور آپ ”ملا محمود“ کے وہ مایہ ناز شاگرد ”محمود“ ہیں جن کی بدولت دارالعلوم بھی ”محمود“ بنا۔ اس باکمال آئینے نے 1267 ہجری بمطابق 1852ء مولانا ذوالفقار علی صاحب (رکن شوری دارالعلوم دیوبند) کے ہاں بریلی میں آنکھ کھولی۔ مولانا مرحوم نے اپنے اس پہلے بیٹے کا نام ”محمود حسن“ رکھا جو آگے چل کر دنیا بھر کے مسلمانوں کے ہاں حقیقی معنوں میں ”محمود” بنا، برصغیر میں تحریک آزادی ہند کا ہیرو بن کر چمکا اور ہندوستان میں مقیم مختلف مذاہب سے وابستہ اقوام و افراد آپ کی مدح سرائی میں رطب اللسان ہونے پر مجبور ہوگئے۔
آپ جب چھ سال کے ہوئے تو آپ کو ابتدائی تعلیم وتربیت کے لیے میاں جی عبداللطیف کے سپرد کر دیا گیا۔ آپ نے میاں جی سے قرآن مجید اور فارسی کی ابتدائی کتب پڑھیں۔ بعد ازاں اپنے چچا مولانا مہتاب علی سے فارسی کتب کی تکمیل کی اور عربی کی ابتدائی کتب پڑھیں۔
آپ اپنی عمر کی پندرہویں بہار گزار رہے تھے کہ قصبہ دیوبند میں مولانا قاسم نانوتوی اور حاجی عابد حسین رحمہما اللہ نے دارالعلوم کی بنیاد رکھی تو یہی طالب علم ”محمود حسن“ درسگاہ علومِ نبوی کے پہلے طالب قرار پائے اور تاقیامِ دارالعلوم دیوبند آنے والے ہر طالب علم کی خیروبرکات میں شراکت دار بنے۔ آپ نے دارالعلوم دیوبند میں اپنے تعلیمی دور میں ملا محمود اور مولانا یعقوب نانوتوی رحمہما اللہ سے مختلف علوم وفنون حاصل کیے۔
1286ہجری میں آپ نے مولانا قاسم نانوتوی رحمہ اللہ سے حدیث اور دیگر کتب پڑھیں۔ حضرت نانوتوی کے پاس آپ کا سلسلہ تعلیم سفر وحضر میں جاری رہتا تھا۔ حضرت نانوتوی جیسے کامل آفتاب کی خدمت میں ایسا باکمال آئینہ پیش کردیا گیا تھا جس نے نہ صرف نور آفتاب کو سمیٹا بلکہ اس کی تمام حرارتوں کو بھی اپنے اندر سمو لیا۔ حضرت نانوتوی سے تعلیمی سلسلہ مکمل کرنے کے فوراً بعد آپ کو اپنے مادر علمی دارالعلوم دیوبند میں معین مدرس رکھ لیا گیا۔ ایک سال بعد ہی آپ کی خداداد صلاحیتوں کو دیکھتے ہوئے آپ کو پندرہ روپے ماہانہ مشاہرے پر مستقل مدرس رکھ لیا گیا۔
1290ھ میں آپ کی دستار بندی ہوئی اور دارالعلوم کے پہلے فاضل ہونے کا اعزاز بھی آپ کے حصہ میں آیا۔ حضرت نانوتوی وگنگوہی رحمہما اللہ کی تعلیم وتربیت نے ایسا گوہر نایاب تیار کر دیا تھا کہ جس نے دارالعلوم کو چار چاند لگا دیے اور طول وعرض میں اپنی علمی اور تدریسی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔ آپ نے انتہائی قلیل عرصے میں دارالعلوم میں ایک منفرد مقام حاصل کرلیا اور اپنی تدریس کے چند ہی سال میں بخاری شریف جیسی حدیث کی معرکۃ الاراء کتاب کی تدریس آپ کے سپرد کردی گئی۔
1294ھ میں آپ نے فریضہ حج کی ادائیگی کے لیے حجاز مقدس کا سفر اپنے مایہ ناز استاد حضرت نانوتوی کی معیت میں کیا اور حضرت نانوتوی نے وہاں مقیم اپنے استاد مکرم شاہ عبدالغنی رحمہ اللہ سے آپ کو سندِ حدیث کی اجازت لے کر دی۔
دارالعلوم کے مدرسِ اول مولانا یعقوب نانوتوی رحمہ اللہ کی وفات کے بعد مولانا سید احمد صاحب کو صدر مدرس جب کہ مولانا محمود حسن کو مدرس سوم بنا دیا گیا۔ حضرت سید صاحب کچھ عرصہ تک صدر مدرس رہے پھر حجاز مقدس تشریف لے گئے تو قبائے صدارت حضرت شیخ الہندؒ کو پہنا دیا گیا اور یوں آپ دارالعلوم دیوبند کے صدر مدرس منتخب ہوئے۔
حضرت شیخ الہندؒ نے 1914ء تک تقریباً چالیس سال دارالعلوم میں علمی اور تدریسی خدمات سرانجام دیں۔ چونکہ آپ حضرت نانوتوی کے تلمیذ رشید اور ہم راز رفیق تھے اس لیے دارالعلوم دیوبند کے اصل منشا سے بہ خوبی واقف تھے۔ اسی لیے آپ کی تدریس خشک اور جامد زہد وتقوی کی تلقین نہیں کرتی تھی۔ بلکہ آپ کی تعلیم وتربیت نے ایسے مشاہیر علم پیدا کیے جو آسمان سیاست کے روشن ستارے، زہد وتقوی کے امام اور میدان جہاد کے غازی تھے۔ ایک ہی وقت میں آپ کے تلامذہ کی مجالس میں اگر نفس باطن کی اصلاح ہوتی تھی تو وہیں پر آنے والے داعیانِ حق کے دل ودماغ کو دشمن کے مقابلے میں سیسہ پلائی ہوئی دیوار بننے کے لیے بھی تیار کیا جاتا تھا۔
آپ سے شرفِ تلمذ حاصل کرنے والے تو شاید ہزاروں میں ہوں گے، اور انہوں نے اپنے اپنے مقام پر خوب دین کا کام کیا لیکن ان میں ایسے ہیرے بھی موجود ہیں جن کے تلامذہ سے بھی بعد والے پڑھنا سعادت سمجھتے تھے۔ ان میں سر فہرست شیخ الاسلام حضرت سید حسین احمد مدنیؔ ہیں جنہوں نے آپ کی وفات کے بعد آپ کی جانشینی کا حق ادا کیا اور آپ کی سوچ کو پروان چھڑایا۔ درسگاہ شیخ الہندؒ سے کسبِ فیض کرنے والوں میں، ہندوستان کے باسیوں میں انقلاب کی روح پھونکنے والے مولانا عبیداللہ سندھی، ابوحنیفہ وقت مفتی کفایت اللہ دھلوی، سینکڑوں کتب کے مصنف اور ہزاروں علماء کے روحانی پیشوا مولانا اشرف علی تھانوی، امام العصر علامہ انور شاہ کشمیری، مولانا اعزاز علی دیوبندی، مولانا احمد علی لاہوری، علامہ شبیر احمد عثمانی، مولانا ظفر احمد عثمانی اور مولانا عزیر گل رحمہم اللہ نمایاں ہیں۔
1880ء میں آپ کے استاد حجۃ الاسلام مولانا قاسم نانوتوی رحمہ اللہ نے انتقال فرمایا تو حضرت شیخ الہندؒ نے فضلاء دارالعلوم دیوبند کو متحرک رکھنے کے لیے ”ثمرۃ التربیت“ کے نام سے ایک جماعت قائم کی اور ایک طویل عرصہ ثمرۃ التربیت فعال رہی اور تحریک آزادی کی ابتدائی راہیں ہموار کرنے کے لیے اہم کردار ادا کیا۔
اس انجمن کا نام خود ایک لائحہ عمل کی خبر دیتا ہے اور اس کا قیام واضح کرتا ہے کہ تمام تر انقلابی تحریکوں سے قبل حضرت شیخ الہندؒ نے ایک بنیاد قائم کر دی تھی۔
ایک عرصے تک اس انجمن نے فعال کردار ادا کیا۔ جب اس میں بہ ظاہر سستی نظر آئی تو ثمرۃ التربیت کے تیس سال بعد، جب ہر طرف لوگ کسی تبدیلی کے منتظر تھے۔ اور ان کے دماغوں میں نئی ہوا بھری ہوئی تھی۔ اور وہ اس تحریک کے نتیجے کے منتظر تھے کہ اکتوبر 1909ء میں حضرت شیخ الہندؒ کی سربراہی میں ”جمیعۃ الانصار“ کا وجود عمل میں لایا گیا۔ جمعیۃ الانصار کے نظام کو عوام الناس تک پہنچانے کے لیے دارالعلوم دیوبند میں دستار بندی کے نام سے ایک جلسہ عام منعقد کیا گیا جس میں تقریباً تیس ہزار باشندگانِ اسلام نے شرکت کی۔ یہ ہندوستان کی تاریخ کا پہلا سب سے بڑا اجتماع تھا جو اس سے قبل کسی تحریک کو نصیب نہیں ہوا تھا۔ اس اجتماع کو اور اس سے زیادہ اس کے حسن انتظام کو کرامت خیال کیا گیا۔ جمعیۃ الانصار کے ناظم حضرت شیخ الہندؒ کے تلمیذ رشید مولانا عبیداللہ سندھی منتخب ہوئے۔ جمعیۃ الانصار کا تین روزہ پہلا اجلاس مراد آباد میں منعقد ہوا۔
1912ء میں دنیائے اسلام پر ایک نئی مصیبت یہ آئی کہ بلقان کی ریاستوں کو شاطر برطانیہ اور اس کی ہم نوا حکومتوں نے ترکوں کے مقابلے میں کھڑا کر دیا اور اور بلقانیوں کے زریعے ترکوں کے ساتھ وہی کرنا چاہا جو جرمنی اور اٹلی نے اسپین میں جمہوری حکومت کے مقابلے میں کیا تھا۔ اور دوسرا واقعہ یہ پیش آیا کہ کان پور میں ایک سٹرک کو سیدھے کرنے کے لیے مسجد کو شہید کردیا گیا۔ مسلمانوں نے مسجد کی حمایت میں اپنے سینے پیش کیے جو درندہ صفت فوج کی گولیوں کا نشانہ بن گئے۔ ان دونوں واقعات نے مسلمانوں کو ایک نقطے پر جمع کر دیا اور آزاد حکومت کے قیام کی جدوجہد تیزی سے جاری ہوگئی اور دہلی میں ”نظارۃ المعارف القرآنیہ“ قائم کی گئی اور نوجوانان ہند کو درس سیاست دیا جانے لگا۔
ان تمام کارناموں میں حضرت شیخ الہندؒ کی پوری توجہ جس شخصیت کی طرف متوجہ تھی وہ درسگاہِ شیخ الہندؒ کی ہی تربیت یافتہ تھی۔ دنیا جسے عبیداللہ سندھی کے نام سے جانتی ہے۔ حضرت شیخ نے ابتداءً دیوبند میں اپنے شاگرد رشید کا تعارف کرایا اور بعد ازاں آپ کو دہلی بھیج کر نوجوانوں کی طاقت سے ملانا چاہا۔ اسی غرض حضرت شیخ بنفس نفیس دھلی تشریف لے گئے اور ڈاکٹر انصاری سے مولانا سندھی کا تعارف کرایا اور ان کے ذریعے آپ کو حضرت شیخ الہندؒ کے دیگر رفقاء سے ملنے کا موقع ملا۔ دو سال قیام دہلی کے بعد حضرت شیخ الہندؒ نے اپنی پچاس سالہ محنتوں کو عملی شکل دینے کے لیے مولانا سندھی کو کابل روانہ فرما دیا۔
1913ء میں تحریک ریشمی رومال کا آغاز ہوا۔ تحریک ریشمی رومال کا پس منظر یہ ہے کہ مولانا عبیداللہ سندھی نے افغانستان سے ایک ریشمی رومال میں حضرت شیخ الہندؒ اور دیگر رفقاء کار کے نام ایک اہم خط لکھا تھا جو پکڑا گیا۔ اسی مناسبت سے 1913 سے 1920ء تک چلنے والی تحریک ریشمی رومال کے نام سے معروف ہوئی۔
مولانا سندھی کے کابل جانے کے ایام میں انگریز نے خلافت عثمانیہ کو فاسق وفاجر قرار دے کر خلافت کا غیر مستحق گردانا، اور سقوط خلافت کے لیے جدوجہد شروع کر دی۔ اور انگریز کے سرکاری ملا عبدالحق حقانی نے خلافت عثمانیہ کے خلاف فتوی دے ڈالا۔ یہ فتوی دو مرتبہ حضرت شیخ الہندؒ کی خدمت میں پیش کیا گیا مگر آپ نے سختی سے رد کر دیا اور اس کی تصدیق کرنے والوں کے بارے بھی سخت کلمات کہے۔
مولانا عبیداللہ سندھی کے کابل پہنچنے پر افغانستان سے براہ راست رابطہ قائم ہوچکا تھا لیکن انقلابی جدوجہد کے لیے سلطنت عثمانیہ سے تعلقات اور رابطہ قائم کرنا ضروری تھا۔ انہی ایام میں حکومت ہند مولانا محمد علی وغیرہ کو نظر بند کرچکی تھی اور حضرت شیخ الہندؒ کے متعلق بھی یہی منصوبہ تیار ہوچکا تھا مگر حضرت شیخ حالات کو بھانپتے ہوئے 1915ء میں حجاز مقدس کے لیے روانہ ہوگئے۔ حجاز مقدس پہنچ کر حضرت شیخ نے غالب پاشا، انور پاشا اور جمال پاشا سے ملاقاتیں کیں اور اپنی تجویز پیش فرما کر اس کے متعلق مدد کا مطالبہ کیا جس کو سب نے منطور کر لیا۔
غالب پاشا سے ملاقات کے بعد حضرت شیخ الہندؒ جلد از جلد روانہ ہونا چاہتے تھے لیکن سواری مہیا نہ ہونے کی وجہ سے چند روز طائف میں قیام کرنا پڑا۔ انہی ایام میں شریف مکہ کی فوجوں نے طائف پر حملہ کر دیا۔ طائف سے آپ مکہ پہنچے۔ یہاں سے استنبول جانا چاہتے تھے اور اسی غرض سے جدہ بھی تشریف لے گئے لیکن روانگی کی کوئی ترتیب نہ بن سکی تو مجبوراً مکہ واپس لوٹ آئے۔ حضرت شیخ کے حجاز مقدس میں قیام کے ایام میں خان بہادر کو مکہ بھیج کر ایک فتوی منگایا گیا جس میں ترک قوم کی تکفیر اور خلافت عثمانیہ سے انکار کیا گیا تھا۔ شریف کے بہت سے علماء کے اس پر دستخط تھے۔ یہ فتوی جب حضرت شیخ الہندؒ کے سامنے پیش کیا گیا تو آپ نے اسے قبول کرنے سے انکار کر دیا گیا۔
یہ فتوی در حقیقت حضرت شیخ الہندؒ کو گرفتار کرنے کا ایک بہانہ تھا تاکہ آپ کی جہد مسلسل کو روکا جاسکے۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا انگریز نے باغی، شریف کے ذریعے حضرت شیخ الہندؒ کو اپنے چار رفقاء مولانا حسین احمد مدنی، مولانا عزیر گل، مولانا وحید احمد اور حکیم نصرت حسین رحمہم اللہ سمیت گرفتار کرکے مالٹا کے بدنام زمانہ قید خانے میں بھیج دیا گیا۔
مالٹا میں اسیری فرصت کا سب سے بہتر زمانہ تھا جو ایک عاشق خدا اور محب رسول کو میسر آیا تھا۔ حضرت شیخؒ نے اس فرصت کو غنیمت سمجھتے ہوئے ایک ایک لمحہ یاد خدا میں وقف کیا۔ روزانہ اوسطاً دس پارے تلاوت، چار ہزار مرتبہ اسم ذات کا ورد فرماتے۔ دلائل الخیرات اور دیگر اذکار کا معمول بھی بہ دستور جاری رہا۔ ترمذی شریف، مشکوۃ شریف اور جلالین شریف بھی ہمراہ تھی ان کا درس بھی دیتے رہے۔
حضرت شیخؒ کو ہندوستان کی سردی بھی خوب ستاتی اور اذیت دیتی تھی۔ سردیوں میں دھوپ میں سونے کا معمول تھا بلکہ معمولی گرمیوں کے زمانے میں بھی یہی معمول ہوتا تھا۔ گھٹنوں میں اکثر درد رہتا۔ سردیوں میں ہاتھ اور پاؤں ورم کر جاتے تھے۔ ایک طرف یہ عالم تھا تو دوسری جانب مالٹا کی یخ بستہ سردی کسی آزمائش سے کم نہ تھی۔ لیکن قربان جائیں حضرت شیخ کی ہمت واستقلال پر کہ اتنی شدید سردی میں بھی شب بیداری میں سستی نہ آنے دی۔ جب نوجوانوں کے لیے لحاف سے منہ نکالنا بھی مشکل ہوتا یہ شیخ وقت رات ڈیڑھ بجے بیدار ہوتا استنجا اور وضو کرتا اور اپنے خالق حقیقی کے سامنے ہاتھ باندھ کر کھڑا ہوجاتا۔ اور پھر پیشاب کا عارضہ بھی تھا، بار بار وضو کرنا پڑتا مگر مجال ہے کبھی بھی اس کی پرواہ کی ہو۔
مالٹا کی تکلیف دہ اور بامشقت اسارت تقریباً چار سال پر محیط تھی۔ لیکن یہ اسیری اس بوڑھے شجر کی جڑوں کو کمزور اور ارادوں کو مضمحل نہ کر سکی۔ اور بالآخر وہ دن آگیا جس کی بہ ظاہر کوئی امیدیں نہیں تھیں۔ 12 مارچ 1920ء کو آپ کو اپنے رفقاء سمیت سرکاری سیکورٹی میں روانہ کر دیا گیا۔ سیدی بشر اور سویس میں آپ کے قیام کے بعد تین ماہ بعد 07 جون 1920ء آپ کو بمبئی میں چھوڑا گیا تب معلوم ہوا کہ آپ کو رہا کر دیا گیا ہے۔
بمبئی پہنچنے سے قبل ہی سرکاری ملوانے حضرت شیخ الہندؒ کی اصلاح کے لیے انگریز کی خیرخواہی کی تجوری اٹھائے جہاز میں آپ کے پاس آئے اور عمر کے بقیہ ایام یاد خدا میں بسر کرنے اور ہندوستان کی سیاسی گہما گہمی سے دور رہنے کی نصیحتیں کرنے لگے۔ ان عقل کے اندھوں کو کون سمجھاتا کہ جس کا مزاج ہی سیاست ہو اور دماغ انقلابی وتحریکی ہو وہ امت کے بکھرے ہوئے شیرازے کو دیکھ کر کیسے سکون سے بیٹھ سکتا ہے۔
آپ کی اسارت کے آخری سال ہندوستان میں تین بڑی تحریکوں نے جنم لیا جو آپ کے تلامذہ کی جہد مسلسل کا نتیجہ تھا۔ تحریک خلافت، تحریک موالات اور جمعیت علماء ہند۔ تحریک خلافت کمیٹی کے بزرگان نے ہی آپ کو ”شیخ الہندؒ “ لقب عطا فرمایا جس نے آپ کے نام سے بھی زیادہ شہرت پائی۔ آپ واقعتاً شیخ الہندؒ اور پورے ہندوستان کے مسلمہ قائد تھے۔ آپ کی آمد کی دیر تھی کہ مسلمانوں میں امید کی ایک نئی کرن نے جنم لے لیا۔ آپ کی شب وروز محنت اور کوشش کا امت کو ایک فائدہ یہ ہوا کہ شہر اور دیہات کے تقریباً تمام لوگ ہی نمازی بن گئے۔ ضلع سہارنپور کی یہ حالت تھی کہ نمازیوں کی کثرت کی وجہ سے مساجد تنگی دامن کا شکوہ کرنے لگیں۔
حضرت شیخ الہندؒ ہندوستان آتے ہی کمر بستہ ہوگئے اور بڑھاپے اور پیرانہ سالی کی پرواہ کیے بغیر امت کی بیداری کے لیے جدوجہد شروع کر دی۔ آپ نے اہلیان اسلام سے فرمایا کہ ہم نے مالٹا کی اسیری کے دوران غور وخوض اور تدبر و تفکر کیا کہ امت مسلمہ کی اس قدر پستی کی وجہ کیا ہے؟ تو مجھے دو چیزیں سمجھ آئیں۔ قرآن کریم سے دوری اور امت مسلمہ کا افتراق وانتشار۔ لہذا آپ نے رہائی کے فوری بعد ان دونوں کاموں کے لیے اپنی تمام تر توجہات وقف کر دیں۔ تعلیم قرآن کے لیے مکاتب اور دروس قرآن کا آغاز کیا اور امت کے اتحاد واتفاق کے لیے دو بڑے گروہوں ملا اور مسٹر کو ایک ہی لڑی میں پرونے کے لیے جامعہ ملیہ اسلامیہ یونیورسٹی کی بنیاد رکھی اور اس کے لیے تگ و دو شروع کر دی۔
جامعہ ملیہ اسلامیہ کی بنیاد کے ایام میں حضرت شیخ کی علالت اس قدر بڑھ چکی تھی کہ کروٹ بدلنے میں بھی دشواری ہوتی تھی۔ خدام نے اس حالت میں سفر کو خطرناک تصور کیا لیکن حضرت شیخ نے فرمایا ”اگر میری صدارت سے انگریز کو تکلیف ہوگی تو میں ضرور جاؤں گا۔“ چنانچہ پالکی میں لٹا کر حضرت شیخ کو دیوبند کے اسٹیشن لے جایا گیا۔ طبعیت اس قدر ناساز تھی کہ بولنے کی بھی ہمت وطاقت نہ تھی۔ آپ کا خطبہ صدارت مولانا شبیر احمد عثمانیؒ نے پڑھ کر سنایا۔
اس سفر سے واپسی پر جمعیت علماء ہند کا دوسرا سالانہ اجلاس نومبر 1920ء میں ہوا۔ اجلاس میں باتفاق رائے جمعیت علماء ہند کی صدارت حضرت شیخ الہندؒ کو سونپ دی گئی۔ اس وقت آپ نے فرمایا ”اگر میں اس بیماری سے اچھا ہوگیا تو اس تحریک کو مضبوط کرنے کے لیے پورے ہندوستان کا دورہ کروں گا۔ لیکن خالق حقیقی کو کچھ اور ہی منظور تھا اور شاید فرشتوں کو بھی اس ستر سالہ بوڑھے پر ترس آنے لگا ہوگا جو انگریز کے لیے ہزاروں جوانوں سے بھی زیادہ خطرناک تھا۔
حضرت شیخ الہندؒ 30 نومبر 1920 بروز منگل اس دار فانی سے کوچ فرما کر خالق کائنات کے حضور پیش ہوگئے۔ آپ کا جنازہ دہلی میں دو جگہ، تیسرا میرٹھ اور چوتھا مظفر نگر کے اسٹیشن پر اور آخری جنازہ دیوبند میں ہوا اور آپ کو اپنے استاد حضرت نانوتویؒ ساتھ دفن کر دیا گیا۔۔۔
حضرت شیخ الہندؒ ایک عہد ساز شخصیت یوم وفات 30 نومبر 1920 عبدالرؤف چوہدری
366










