شیر افضل مروت ۔۔۔
وڑنا اور ٹھوکنا
تحریر عمران مہدی
ٹی وی شو میں LLB پاس ایڈوکیٹ شیر افضل سنیٹر افنان کے چہرے پہ تھپڑ رسید کر دیتا ہے۔ اور تھپڑ کی گونج بہت دور دور تک سنائی دیتی ہے۔ اور ایک قوم اس کو ۔۔بہادر ۔۔دلیر ۔۔شیر۔۔کپتان کا ٹائیگر کا خطاب دے دیتی ہے۔ تب ناں تو تہذیب کا پرچار کیا جاتا ہے ناں اخلاقیات کا درس ۔۔کیونکہ اندر کسی تشنگی کو بجھانے کے لیے اوچھے ہتھکنڈے کو بہادری کا نام دیا جاتا ہے۔
بات صرف جہاں نہیں آگے چل کے ایک یو ٹیوبر کو کہا کہ اس کے بعد پروگرام وڑ گیا ۔۔ حالانکہ ان کا مطلب یہ تھا کہ پروگرام ختم ہو گیا۔ مگر ایک قوم اس کو وائرل کر دیتی ہے۔لفظ ۔۔وڑنا ۔۔زبان زد عام ہو جاتا ہے۔۔ قوم یوتھ گھنگرو باندھ کے ناچتی ہے۔ اور اسی لفظ پہ شیر افضل کو ہیرو بنا دیتی ہے۔ وہ دوسرا بڑا لیڈر بن جاتا ہے۔ قابلیت لفظ وڑنا پہ کئی میل تک وہ لوگ جمع کرتا ہے۔
دانشمند انہیں خطابات کے آسمان پہ لے جاتے ہیں۔
ٹھوکنا۔۔۔۔۔۔ایک لیگی راہنما اپنے ڈیرے پہ آئے ووٹرز کو تسلی اور حوصلہ دیتے ہوئے کہتا ہے کہ اگر کوئی چوہدری میرے ووٹرز کو چھیڑے گا تو میں اسے ٹھوکاں گا۔۔۔۔یہ لفظ وہی ہم معنی ہے وڑنا ۔۔۔۔لہکن یہاں وہی دانشمند طوفان برپا کر دیتے ہیں۔ اخلاقیات تہذیب کا بھاشن دیتے ہیں۔ واہ کمال
مہذب دنیا میں دونوں لفظ غیر شائستہ ہیں۔ مگر من پسند کا لفظ آنکھوں پہ اور مخالف کا غلط کہنا کہاں کی دانشمندی ہے۔۔ کئی فاضل دوست وڑنا پہ کمال اور ٹھکنا کو زوال لکھتے ہیں۔
دراصل یہ منافقت ہے۔ یہ بہروپ ہے۔
باقی جان من مہر چمن سیال کی نظروں کا تعاقب کیا عنصر خان بلوچ عرف شنو کو اصل میں ٹھوکنا چاہتے ہیں۔۔ساڈیاں ویڈیوز غلط لہندا اے۔ فرحان اعجاز بچا سکتے ہو تو شنو کو بچا لو۔










