سلام چوہدری ظفر اقبال باجوہ ۔
(سماجیات)
تحریر عمران مہدی



سائیں صاحبزادہ کاشف سلطان نے جب پہلی میٹنگ ٹراما سنٹر کے حوالے سے ترتیب دی تھی ۔تو
کرے سامنے والی کرسی پہ بیٹھا ایک خوبرو نوجوان نے کھڑے ہو کر کہا ۔۔ٹراما سنٹر آپ بنائیں۔ میں اس ٹراما سنٹر جو ایمبولینس دونگا ۔ پنڈال تالیوں کی گونج سے بھر گیا۔ ان سے پہلی ملاقات تھی۔
اس کے بعد ہم سب نے اس کو سب سے آگے دیکھا۔ جہاں ضرورت پڑی سب سے پہلے ظفر باجوہ بھائی کو پایا ۔ ویل چئیر لاتعداد معذوروں میں تقسیم کیں۔ فلڈ نے تباہی مچائی ۔راقم چوہدری ظفر بھائی کا ہمسفر تھا ۔ کئی بار غریبوں کی مدد کو پہنچے ۔ پنجاب کے آخری حصے تک گئے۔ کبھی تونسہ کبھی سرحد تو کبھی ڈی جی خان ۔
کبھی راشن لیے غریبوں کی چوکھٹ کبھی چیک لیے ضرورت مندوں کے پاس کبھی بے سہاروں کا سہارا کبھی مسجد اقصی کو دلہن کی سجا دیتے ہیں۔ کبھی نوید مدنی کے نام پہ پل بنا دیتے ہیں۔ عاقب ایڑیاں رگڑتا ہے۔ تو مسیحا بن جاتے ہیں۔ غریب بچیوں کی شادی ہوتی ہے تو جہیز کا سامان لیے پہنچ جاتے ہیں۔ کبھی غریب بچیوں کی فیس ادا کر دیتے ہیں۔
دستر خوان ہر سوموار کو لگا رہے ہیں۔ ناداروں مفلسوں کو کھانا کھلا رہے ہیں۔ صبح سے شام تک انسانیت کی خدمت میں بے مثل بے مثال سب کے دلوں کے بادشاہ بن گئے۔
دعا ہے مالک کائنات ہمیشہ سلامت رکھے بچوں کے ساتھ آباد رہیں۔ علاقہ پہ ان کا سایہ قائم رہے۔ یہ سال آپ کے نام ہے ظفر بھائی۔ آپ کی عظمت کو سلام ۔ آپ کے ساتھ تعاون کرنے والوں کو سلام ہے آپ کی ٹیم کو سلام ہے۔
والسلام۔۔عمران مہدی ۔۔۔۔۔ ۔۔۔محمودکوٹ










