چائے کی پیالی میں اٹھتا طوفان ایسا ہوا کرتا ہے۔۔
تحریر۔ حاجی غلام شبیر منہاس
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بات بہت سادہ ہے۔۔۔مگر آپ اسکو اپنی خواہش کے مطابق جتنا چاہیں الجھا سکتے ہیں۔۔
ایک حلقہ ہے جس میں مختلف ادوار میں مختلف شخصیات بطور جماعتی امیدوار آتے رہے۔۔یہاں سے بانی جماعت کے لخت جگر بھی ایم پی اے بنے۔۔اور جرنیل اعظم کے فرزند ارجمند بھی۔۔۔
پہلی بار جس شہزادے کے حق میں فیصلہ آیا وہ خوش بھی تھا اور جماعت کے نظم و نسق سے مطمعن بھی۔۔۔اگلی بار جب وہی فیصلہ دوسرے شہزادے کے حق میں آیا تو پہلا ناراض ہو گیا۔۔۔اس بار جب ایک تیسرا فیصلہ آیا تو ہمارا دوسرا شہزادہ بھی اس پہ نالاں ہو گیا۔۔جسکی وجہ سے ہم نے پہلا شہزادہ نالاں کیا تھا۔۔۔
جماعت کا موجودہ فیصلہ درست ہے یا نہیں۔۔۔یہ ایک الگ بحث ہے۔۔جماعت کا سٹرکچر کیسا ہے۔۔۔نظم، ڈسپلن، اطاعت کا مادہ، تربیت اور عصر حاضر کے بڑھتے چیلنجز کیلئے درکار ویثزن۔۔یہ بحث ہونا بھی ضروری ہے اور یہ معاملہ فوری طور توجہ کا مستحق بھی۔۔۔کیونکہ جماعتیں اور تنظیمیں محض جلسوں کی بنیاد پہ زیادہ دیر نہیں چلا کرتیں۔۔۔
مگر یہ حقیقت ہے یہ وقت نہ اس بحث کیلئے موزوں ہے اور ناں رسہ کشی کیلئے نیک شگون۔۔۔ہمیں یہ تسلیم کرنا ہو گا کہ موجودہ فیصلہ جماعت کا فیصلہ ہے۔۔۔اور جماعت کا مخلص کارکن اس فیصلے کیساتھ کھڑا ہے۔۔۔کیونکہ اس وقت یہ بحث لاحاصل ہے کہ ہمارا کوئی سسٹم نہیں۔۔نظام غیر موثر ہے۔۔من پسند لوگ بیٹھے ہیں وغیرہ وغیرہ۔۔۔یہ بحث تب سوٹ کرتی ہے جب آپ اپنے تمام تر اختیارات کیساتھ سسٹم میں موجود ہوں۔۔اس وقت اس بحث کا مطلب یہ ہوا کہ جب جب ہمارے ذاتی مفادات پہ زد آئے تو ہمیں سسٹم میں موجود وہ تمام کمزوریاں یاد آ جایا کرتی ہیں جو ہمارے برسراقتدار ہوتے وقت ہماری نظروں سے کوسوں دور ہوا کرتی ہیں۔۔۔
اب جب کہ میدان کارزار گرم ہے۔۔اور دونوں نہیں بلکہ تینوں فریقین ایک دوسرے کیخلاف سیاسی طور سرگرم عمل ہیں۔ تو ہم جیسے لوگوں کو اس جنگ میں خواہ مخواہ کودنے کی قطعی ضرورت نہیں۔۔کیونکہ یہ سب لوگ ہمارے لیئے باعث احترام ہیں۔۔ہم نے صرف یہ دیکھنا ہے کہ ہم جس جماعت کیساتھ ہیں اسکا کیا فیصلہ ہے۔۔اور پھر اس فیصلے کیساتھ کھڑے ہو جانا ہے۔۔گروہوں کیساتھ تب کھڑا ہوا جاتا ہے جب آپ ذاتی پسند و ناپسند۔۔لابنگ۔۔گروہ بندی اور مفادات کیلئے کھیل رہے ہوتے ہیں۔۔۔موجودہ صورتحال خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کی مثالیں سنانے والوں کو بھی دعوت فکر دے رہی ہے کہ ان پہ عمل پیرا ہونا آپ سب پہ بھی اتنا ہی لازم ہے۔۔۔جتنا ہم کارکنان کیلئے۔۔۔ورنہ ان کو بھی سیف اللہ کہا گیا تھا۔۔۔انکی معزولی گویا اللہ کی تلوار کو ہمیشہ کیلئے نیام کے سپرد کرنا تھا۔۔۔
باقی ان لوگوں کو چاندی ہو گئی ہے۔۔۔اور اللہ نے انکی سن لی ہے جو مخلتف اوقات میں مخلتف کارناموں کیوجہ سے جماعت سے نکالے جا چکے ہیں یہ ماضی کے ان مسترد شدہ لوگوں کو بھی اب نہ صرف پلیٹ فرام میسر آئے ہیں۔ بلکہ وہ ایکبار پھر گروہوں کی ضرورت بن گئے ہین۔۔۔یوں وہ آج کل ارسطو اور افلاطون سے بہت آگے کے لوگ بنے بیٹھے ہیں۔۔۔اور بڑے عرصہ بعد انکو ایسا ماحول میسر آیا ہے کہ وہ اپنا بغض اور زہر دل کھول کر انڈیل پایئں۔۔۔کیونکہ موجودہ افسوسناک صورتحال ان لوگوں کیلئے آیئڈیل ہے۔۔اور وہ دانتوں تلے زبان دبائے معنی خیز مسکراہٹوں کیساتھ پوری طرح اسکو کیش کروا رہے ہیں۔۔۔اور ہم میں سے اکثریت کی بھی شاید اپنی ذاتی پسند و نا پسند کی عادت پختہ ہوتی جا رہی ہے۔۔۔ہمیں صدر صرف اس وقت تک صدر محترم لگتا یے جب تک وہ کھل کر جماعتی فیصلہ کی بات نہیں کرتا۔۔۔اس کے بعد وہ کمزور۔۔بے اختیار۔۔اور پتہ نیئں کیسا لگنا شروع ہو جاتا ہے۔۔ہم عبدالرحمن مدنی کے صرف پہلے ویڈیو بیان کو سچ سمجھتے ہیں۔۔۔
یہ موجودہ صورتحال بھی عارضی ہے اور یہ فتح و شکست بھی دائمی نہیں ہو گی۔۔اس شر کی دھند میں لپٹے ماحول سے ہی خیر کے چشمے پھوٹیں گے۔۔بہت سے چہرے عریاں ہوں گے۔۔۔اور بہروپیوں کی اصل شکلوں سے لوگ واقف ہوں گے۔۔یہ کوئی کفر اسلام کا مسلہ ہے نہ کوئی ازلی و ابدی جنگ۔۔۔بس اطاعت امیر سے اوصاف امیر تک کا سادہ سا فلسفہ ہے جو فی الوقت انہیں خود نہیں سمجھ آ رہا جو ہمیں سمجھایا کرتے تھے۔۔۔مگر بہت جلد سب سمجھ جایئں گے۔۔اور یہی گردآلود چہرے منزل کیطرف جانے والے راستوں پہ محو سفر نظر آیئں گے۔۔
والسلام غلام شبیر منہاس۔










