عابد میر کی ڈپریشن ڈائری

“ڈپریشن ڈائری”
میں ایک عام قاری کی حیثیت سے اس کتاب کی صنف کا تعین کرنے میں معذور رہوں گا ، جس کے متلعق خود مصنف فیصلہ نہ کر سکتا ہوں کہ
یہ آپ بیتی ہے ؟
خود نوشت ہے ؟
فکشن ہے ؟
نان فکشن یا محض فسانہ ؟!

بس اس کتاب میں چند واقعات ہیں ۔ واقعات کیا ہیں ؟
چلتی پھرتی اور بولتی چالتی تصویریں ، جو تقریباً ہر قاری کی زندگی کی اندرونی کسی کہانی کی عملی تصویریں ہیں ۔
ہر واقعہ صبر آزما اور اس کا ہر لمحہ قیامت کا سا!
محبت کیا ہے اور اس کا تقاضہ کیا ؟
زندگی کیا ہے اور اس کی قیمت کتنی ؟
عقیدت کتنی اور کس سے ؟
ڈپریشن اور اس کا حل –
اندرونی جذبات اور بیرونی روابط –
بس یہی اس کتاب کا خلاصہ اور یہی اس کا حاصل-
اور اگر اس سے بھی کم لفظوں میں کوئی اس کتاب کا خلاصہ نکالنا چاہے ۔ تو!
“لمحوں نے خطا کی ، صدیوں نے سزا پائی”
لیکن فقط قصہ اور اس پر سزا کا ذکر ہی نہیں بلکہ اس سے حاصل شدہ سبق کا کسی نہ کسی صورت ذکر موجود ہے ۔

اس کتاب کے کچھ صفحات ایسے ہیں جہاں پڑھتے ہوئے میرے آنسوؤں نے داغ بنائے ۔ کیوں کہ ان پر بیتی واقعات ، اور اس پر مستزاد ان کا انداز بیان رلا دینے والا تھا – مجھے اس سے پہلے دو اور کتابوں نے بھی خوب رلائی ۔ ایک رمیز احمد کی “اشک ندامت” اور دوسری “میں کسی کی بیٹی نہیں”
عابد میر نے ان کہانیوں میں فقط راست گوئی سے کام نہیں لیا ہے بلکہ ان کو سبک لہجہ اور رواں اسلوب پیش کی ہے ۔
گویا شروع کیا تو ختم کیے بغیر بس کیوں ہو ۔
جو لوگ عابد میر کو مستقل پڑھتے ہیں وہ یہ گواہی ضرور دیں گے کہ ان کا قلم کتنا پختہ ، انداز کس قدر شگفتہ ، ابلاغ کس طرح مؤثر اور عنوانات کتنے متنوع ہوتے ہیں ۔
کتاب پڑھ کر دیکھئے کہ انہوں نے ان ناخوشگوار واقعات کو اپنی شگفتہ نگاری سے کیسے پر بہار بنادیا ہے –
مجھے تو ایک طالب کی غرض سے ان سے شروع دن سے عقیدت ہے لیکن ان کی راست گوئی اور محبت کی فراوانی کا پڑھ کر اور ان سے عقیدت ہوگئی ۔
کتاب پڑھ کر یہ فیصلہ کرنا آسان ہوگا کہ
ایسے سچ گوہ اور محبت خواہ انسان سے کیونکر عقیدت نہیں ہونی چاہیے –

صادق قلاتی