کنگ اور کنگ میکر اور مہر عبدالحسین ترگڑ
تحریر علی امجد چوہدری
سابق وفاقی وزیر مہر ارشاد سیال جمہوریت کے ان حقیقی ستاروں میں سے ہیں جن پر جمہوریت فخر کر سکتی ہے بہادرانہ فیصلے کرتے ہیں رسک لیتے ہوئے زرا سا بھی خوفزدہ نہیں ہوتے یہ مراد آباد کے چیئرمین تھے اسی دوران عام انتخابات کا اعلان ہوگیا صوبائی اسمبلی کے الیکشن کے لیئے چیئرمین شپ سے استعفیٰ دینا ضروری تھا یہ پہلی بار چیئرمین یونین کونسل منتخب ہوئے تھے اس سے قبل ان کا خاندان چیئرمین یونین کونسل کے عہدے تک نہیں پہنچا تھا بہت سارے رفقاء کا خیال تھا کہ کہیں صوبائی اسمبلی کی رکنیت کے حصول میں چیئرمین شپ سے بھی ہاتھ نہ دھو بیٹھیں مگر یہ نہ مانے صوبائی اسمبلی کا الیکشن نہ جیت سکے تو خاندان کو چیئرمین شپ کی یاد بہت ستائی اور اندیشہ تھا کہ وہ بھی ہاتھ سے گئی مگر اسی یونین کونسل کے ضمنی الیکشن میں حصہ لیا اور دوبارہ چیئرمین منتخب ہوکر خاندان کو سانس دلوایا پھر ایم پی اے اور وفاقی کابینہ کا حصہ بن گئے پاکستانی سیاسی تاریخ میں گنتی کے دو چار نام ایسے ملیں گے جو اتنے رسکی اور باہمت ہوں یہ گزشتہ عام انتخابات میں صوبائی اسمبلی کے امیدوار بھی تھے معمولی ووٹوں سے ہارے اس بار یہ نشست جیتنے کی پوزیشن میں تھے۔اسی دوران چک فرازی سے صوبائی اسمبلی کی نشست کا مظالبہ ہو گیا اس علاقے کی محرومیوں کے خاتمے کے لیئے یہ ضروری بھی تھا یہ مہر عبدالحسین ترگڑ کے ساتھی بن گئے دونوں کی مہم انتہائی محنت سے جاری ہے جنوبی پنجاب میں اس وقت ان کی انتخابی مہم مثال کے طور پر لی جا رہی ہے مبصرین بھی ان دونوں کی مقبولیت پر حیران دکھائی دیتے ہیں یہ پہلا موقع ہے کہ مہر ارشاد سیال کنگ میکر بھی بننے جا رہے ہیں کیونکہ وہ پہلے سے کنگ ہیں اور مہر عبدالحسین ترگڑ کو کنگ کی صورت میں لا رہے ہیں مگر یہ کہانی کا صرف ایک رخ ہے دوسرا رخ بھی انتہائی اہم ہے مہر عبدالحسین ترگڑ کی شرافت اور بے داغ شخصیت جھنگ کے ساتھ ملتے ان کے حلقے میں مہر ارشاد سیال کی مقبولیت میں بھی بے انتہاء اضافہ کر رہی ہے جو دونوں کے لیئے نوید سحر ہے
علی امجد چوہدری








