کیا نواب بابر خان سیال ہار مان لیں گے ؟
تحریر علی امجد چوہدری
ان کی سب سے بڑی کمزوری یہ ہے کہ یہ دل کے سچے ہیں سب پر اعتماد بھی کر لیتے ہیں یہ اٹھارہ ہزاری سے صوبائی اسمبلی کا الیکشن لڑنا چاہتے تھے مگر انہیں این اے 110 میں لانچ کر دیا گیا ان سے بہت سارے وعدے کیئے گئے الیکشن کی ستر فیصد انتخابی مہم اپنے ذمے لی گئی ان کے وسائل خرچ کرائے گئے یہ خاصے پر امید تھے انہیں یقین تھا کہ ان کی انتخابی مہم بھی چلائی جائے گی اور ان کی کامیابی کے لیئے سر دھڑ کی بازی بھی لگائی جائے گی مگر اچانک انہیں بند گلی میں لا کھڑا کیا گیا
مگر اب سوال یہ ہے کہ کیا نواب بابر خان سیال سرنڈر کریں گے یا مزاحمت کریں گے یہ سوالات بہت سارے ذہنوں میں موجود ہیں مگر ان کے جوابات ابھی بھی نہیں مل سکے میرے خیال میں نواب صاحب نہ تو آسانی سے سرنڈر کریں گے اور نہ ہی میدان خالی چھوڑیں گے یہ درد سر بنیں گے یہ گلے کی ہڈی بھی بنیں گے یہ کم بیک کریں گے
ابھی حلقے میں خلا پورا نہیں ہوا ابھی بہت کچھ باقی ہے بہت سارے ایسے لوگ ہیں جو نہ صاحبزادگان کو ووٹ کاسٹ کرنا چاہتے ہیں اور نہ ہی مولانا آصف معاویہ سیال کو ایک خلا ہے جس کو کوئی تو پر کرے گا اور موجودہ صورتحال میں نواب صاحب ہی اسے پر کرنے جا رہے ہیں
علی امجد چوہدری








