امیر عباس خان کے کزن اور ان کی طاقت سمجھے جانے والے محمد علی خان سیال مرحوم کے بھائیوں میں دوریاں؟؟؟؟؟

تحریر شیخ فرحان اعجاز

سابق یونین ناظم حویلی جائیوین رضا خان سیال اور ان کے بھائی شہباز اعظم خان سیال نے این اے 110 میں صاحبزادہ امیر سلطان کی حمایت کا اعلان کردیا
صاحبزادہ گروپ کا دعوی
گر یہ خبر درست ہے تو یہ حمایت امیر عباس خان اور ان کے پینل کیلیے بڑا دھچکا ثابت ہوگی
اور امیر عباس خان کے نعرے ووٹ پینل دا کو شدید نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے

گر امیر عباس خان کے کہنے پہ ان کے قریبی عزیز ان کے پینل کو ووٹ دینے کو تیار نہیں تو پھر امیر عباس خان کے کہنے پہ اور کون مولانا آصف معاویہ سیال اور ان کے پینل کو ووٹ دے گا
یہ اعلان امیر عباس خان کی سیاست کیلیے بہت بڑا دھچکا ہے اور ساتھ میں امتحان بھی

آیا وہ اس فیصلے پہ کمپرومائز کریں گے یا پھر اپنے موقف ووٹ پینل دا پہ ڈٹ جائیں گے اور اپنے کزنز سے سیاسی الحاق ختم کرنے کا خطرہ مول لیں گے

گر وہ کوئی بولڈ فیصلہ نہی لیتے تو ان کے پینل کا اتحاد بھی خطرے میں پڑ جائے گا
گر امیر عباس خان مولانا کو ووٹ نہی دلوا سکتے تو پھر مولانا کا ووٹر بھی امیر عباس خان کو ووٹ دینے کے فیصلے پہ نظرثانی پہ مجبور ہوجائے گا

مولانا کا ووٹر تو پہلے ہی رانا شہباز احمد کو ووٹ دینے کے حق میں تھا یہ تو مولانا کا حکم جسے وہ پس پشت نہی ڈال سکتا

رضا خان سیال اور ان کے بھائی شہباز اعظم خان کے اس اعلان کے بعد جہاں امیر عباس خان اور مولانا کے اتحاد کو شدید دھچکا پہنچے گا تو وہیں علاقہ میں دم توڑتی مذہبی کشیدگی کے خاتمے کی کوششوں کو بھی شدید دھچکا پہنچے گا