گڑھ مہاراجہ کےسیال خاندان کا سیاسی سفر
(سماجیات۔۔)۔
تحریر عمران مہدی 
راے مل سیال نے جھنگ بسایا ۔حکمران بنا۔۔۔ راۓ مل سیال کے کسی بیٹے سے تین بیٹے رجبانہ۔سرگانہ ۔اور بھروانہ پیدا ہوٸے ۔
رجبانہ سیال شاخ سے انیسویں صدی کے آخر میں گڑھ مہاراجہ کے نواب اعظم بڑے نواب ذوالفقار خان سیال پیدا ہوۓ۔ قد کاٹھ رعب و دبدبہ میں کوٸی ثانی نہیں رکھتے تھے۔ 900 مربع زمیں کا واحد وارث تھے ۔ حویلی جاٸیوین خاندان قریش کےجد امجد مخدوم نذر عباس قریشی کےہمعصر تھے۔ بڑے نواب ذوالفقار خان سیاست میں بڑا مقام رکھتے تھے۔
بڑے نواب ذوالفقار خان سیال کے ہاں تین بیٹے پیدا ہوۓ۔
1 ۔نواب طالب حسین خان سیال۔2نواب نوازش علی خان سیال3.محمد نواز خان سیال۔
نواب طالب حسین خان اپنے بابا کی طرح بڑی رعب دار شخصیت کے حامل تھے۔ گڑھ مہاراجہ گرد و نواح میں ان کے نام کا ڈنکا تھا ۔۔ کچھ ذراٸع کے مطابق وہ MLA بھی رہے۔۔۔ پھر ان کی وفات کے بعد ان کے چھوٹے بھاٸی خان نوازش علی خان سیاست کے میدان کے ایک عظیم کھلاڑی بن گٸے ۔
خان نوازش علی خان نے سیاست میں رعب و ڈر کی جگہ پیار شرافت عزت واحترام کو ترجیح دی ۔ وہ قد میں چھوٹے مگر مرتبے میں سب سیالوں سے آگے نکل گے ۔۔نوازش علی خان سیال سیاست کے شطرنج کے اہم مہرے تھے۔ کمال ادا سے لوگوں کے دلوں میں راج کرتے چلے گۓ۔
کالم نگار کے دادا جان اور بابا 20 سال نوازش علی خان سیال کے رعایا رہے۔
دوسری طرف نواب طالب حسین خان کے بیٹے نواب ذوالفقار خان سیال جو نوازش علی خان کے بھتیجے تھے نے سیاست میں انٹری دی ۔
1956کانسٹیوشنل الیکشن میں نواب نوازش علی خان نے نماٸیدگی کی۔
1960کی دہاٸی میں نواب نوازش علی خان کے ہاں اکلوتے بیٹے نواب مظفر علی خان سیال کی پیداٸیش ہوٸی۔
ایک ذراٸع کے مطابق ایک الیکشن میں نواب نوازش علی خان ۔۔۔۔۔۔شیرخان بھروانہ۔۔۔۔۔ اور نواب ذوالفقار خان مد مقابل تھے ۔۔ اس الیکشن میں نواب ذوالفقار خان سیال اپنے چچا نوازش خان سیال اور شیر خان سے جیت گٸے۔ Bd ممبرز نے ووٹ ڈا ل کے لاجسٹک اسمبلی کا ممبر چننا تھا ۔
پھر 1970 کے قریب نواب نوازش علی خان خانوادہ سلطان العارفین سے پڑے لکھے نوجوان صاحبزادہ محمد نذیر سلطان کو میدان سیاست میں لے آٸے ۔۔۔ صاحبزادہ محمد نذیر سلطان اور نواب نوازش علی خان ۔۔۔۔مدمقابل محمد عارف خان اور نواب ذوالفقار خان سے جیت گٸے۔
پھر 1977 کے الیکش میں صاحبزادہ محمد نذیر سلطان پی پی کی ٹکٹ سے جماعتی بنیادوں سے ہونے والے الیکشن میں واضح مارجن سے جیت گۓ۔ اور نوازش علی خان سیال ہار گۓ۔ تین ماہ بعد جنرل ضیاالحق نے ملک کی باگ دوڑ سنبھال لی ۔
1979میں نواب نوازش علی خان لاہور ہارٹ اٹیک سے اپنے خالق حقیقی کو جا ملے یوں ایک عظیم سیاسی سے علاقہ محروم ہو گیا ۔
باقی کل انشا اللہ پارٹ 2 میں آگے بڑھیں گے۔ قاری سے التماس ہے اگر کوٸی غلطی ہو تو correction ضرور کیجیے گا۔
والسلام ۔۔عمران مہدی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ محمودکوٹ۔









