اسلامی جمہوریہ پاکستان اور الیکشن
تحریر عبدالستار سپرا
اسلامی جمہوریہ پاکستان میں الیکشن 2024 تو گزر گیا مگر ملکی سیاستدانوں کی کرسی کرسی کے کھیل اور ملکی مفاد پرستوں کی ہوس اقتدار کی بھوکے ہے غریب عوام کو بد ترین مہنگائی کی چکی میں پس کر رکھ دیا ۔ آج الیکشن کو بہت دن گزر جانے کے بعد بھی ۔ اسلامی جمہوریہ پاکستان کی عوام کو نہیں پتا کہ ہمارا حکمران کون ہے ۔ اور کون ہمارے پاکستان اور پاکستانی عوام کی صدق دل سے خدمت کرے گا ۔ عوام الناس ایک لمبے عرصے سے مہنگائی کے طوفانوں کو بھوک افلاس کو برداشت کرتے ہوئے چلے آرہے ہیں ۔ مگر اب غریبوں کی ہمت جواب دے چکی ہے اب غریب عوام کا جینا محال ہے۔ سفید پوش لوگ خودکشیاں کرنے لگے ہیں ۔ اپنے بچوں کو زندہ در گور کرنے لگے ہیں اب بھوک برداشت نہیں کر پارہے ۔ غریبوں کے بچے تعلیم کے زیور سے محروم ہو گئے ۔ اور امیروں کے بچے بیرونی ممالک جا کر تعلیم حاصل کررہے ہیں ۔ کیا ہمارے ملک میں تعلیم امیروں کا ہی حق ہے ۔غریب لوگ ایک وقت کی روٹی کو ترس گئے اور امیروں کے شاہانہ پروٹوکول اور بڑے بڑے ہوٹلوں کے خرچے بڑھتے ہی چلے جارہے ہیں ۔ غریب عوام جائے تو کدھر جائے کہیں گیس کے بلوں میں اوور چارجز وصول کیے جاتے ہیں ۔تو کہیں بجلی کے بلوں کو دیکھ کر غریب آدمی سر پکڑ کے بیٹھ جاتے ہیں ۔ مگر افسوس کی بات یہ ہے کہ پاکستانی قوم نے کسی بھی ملک سے قرضہ نہیں لیا مگر افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ میرے ملک کا ہر فرد قرضے میں ڈوبا ہوا ہے۔ پھر بھی ہر وقت پاکستانی قوم نے اپنے ٹیکسوں کے زریعے ہر آنے والی حکومت کا ساتھ دیا۔ اور ہر آنے والی حکومت نے غریبوں کو سوائے لولی پوپ کے سوائے کچھ نہیں دیا ۔ غریب ماؤں نے دو وقت کی روٹی کو ترستے ہوئے اپنے بچے اسکولوں سے ہٹا لیئے مگر پھر بھی غریبوں کے پاپی پیٹ کی آگ نا بج پائی مہنگائی کی چکی میں پستے پستے غُربت کی لکیر سے نیچے دھنس گئے ۔ اب سوچنے اور فکر والی بات تو یہ ہے کہ کون سئنے گا غریبوں کی فریاد کون رکھے گا غریبوں کے زخموں پر مرہم ۔ ہم کہتے تو ہیں بڑے شوق سے کے ہم اسلامی جمہوریہ پاکستان کے باسی ہیں ہم پاکستان میں رہتے ہیں مگر یہاں اسلامی قوانین کے تحت کوئی بھی ایسا کام دیکھنے کو نہیں ملتا کہ جس سے غریبوں کو کوئی فائدہ ہو ۔ سب اپنی اپنی دوھڑ میں لگے ہوئے ہیں ۔ کوئی بھی غریبوں کی طرف توجہ نہیں دیتا کہ وہ غریب لوگ جن کے ووٹوں کی طاقت سے ہم اقتدار میں آئے ہیں وہ کس حال میں جی رہے ہیں ۔ کیسے وہ اپنی زندگی بسر کر رہے ہیں ۔ خدا کے لیے پاکستان کے حکمرانوں حضرت عمر فاروق رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کا دور ہی دیکھ لوں آپ کے دور میں کوئی بھی غریب بھوکا پیاسا نہیں سوتا تھا کوئی بھی چور چوری کی جرت نہیں کرتا تھا۔ پاکستانی حکمرانوں آپ بھی غریبوں کی فلاح وبہبود کے بارے میں سوچو وہ غریب ہی ہیں جن کے ووٹوں سے آپ قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلیوں میں جاتے ہو ۔ غریب عوام کی ترجمانی کرنے کی بجائے آپ اپنی اپنی کرسی کی ترجمانی نہ کرو ۔ اگر دنیا میں غریب عوام کے ساتھ انصاف کروگے تو روزے محشر اللّٰہ پاک کی ذات آپ کے ساتھ بھی انصاف کرے گی ۔ اگر تم اقتدار کے نشے میں غریبوں کو بھول گئے اور عوام کے حقوق کا تحفظ نا کیا تو یہ جان لو روزِمحشر میں حضور نبی اکرم (ص) کی شفاعت سے محروم ہو کر رہ جاؤ گے ۔ غریب عوام کی مجبوریوں کو دیکھو اور پاکستان کی حقیقی سبسڈی میں غریب عوام کو ریلیف دینے کے حوالے سے ہنگامی اقدامات کرو ۔ گیس اور بجلی کے بلوں میں ہوشربا اضافے کو ختم کرکے عوام کو حقیقی ریلیف دو ۔ اور پاکستان کی معیشت کو نقصان پہنچانے والوں بلیک میلروں کالی بھیڑوں کو عبرت کا نشان بنا کر اسلامی جمہوریہ پاکستان کے حق میں ایک اچھا کردار ادا کرتے ہوئے ۔ اپنے آپ کو جہنم کے گڑھے سے بچا لو ۔اور غریب عوام کی دعاؤں کے مستحق بنوں ۔ کیونکہ اقتدار آنے جانے والی چیز ہے آپ کو پانچ سال بعد پھر اسی عوام کے ووٹ کی ضرورت پڑے گی ۔ اگر اب آپ غریب عوام اور ملک پاکستان کے حق میں اچھے فیصلے کرنے میں ثابت قدم رہو گے تو پاکستانی عوام آپ کو اپنے کندھوں پر اٹھا کر اقتدار کے ایوانوں تک پہنچائے گی ۔ سب سے پہلے پاکستان پھر پاکستانی عوام جب تک تم ان دونوں کو فاعدہ نہیں دوگے دنیا و آخرت میں رسوائی کے سوا کچھ نہیں پاؤ گے ۔ اور سوچتے رہ جاؤ گے کہ یہ کیا ہوا ہے ہمارے ساتھ ۔ یاد رکھنا اللّٰہ کی لاٹھی بڑی بے آواز ہے ۔ اقتدار تو دنیاوی اقتدار ہے اللّٰہ پاک اپنی مخلوق پر ظلموں ستم کرنیوالوں سے دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی بدلہ لیتا ہے۔










