خانیوال ۔آتی جاتی رہیں لیکن غریب عوام کی حالت زار نہ بدل سکی،پسماندہ علاقوں کی عوام آج بھی عطائیت کے رحم و کرم پر،سینکڑوں لوگ عطائیت کی بھینٹ چڑھ گئے،بغیر لائسنس میڈیکل سٹورز پر علاج معالجہ جاری،میڈیکل سٹورز پر ممنوعہ اور غیر معیاری ادویات کی فروخت مبینہ طور پر متعلقہ محکموں کی ملی بھگت سے جاری،اعلی حکام نوٹس لیں

بارہ میل(نامہ نگار)حکومتیں آتی جاتی رہیں لیکن غریب عوام کی حالت زار نہ بدل سکی،پسماندہ علاقوں کی عوام آج بھی عطائیت کے رحم و کرم پر،سینکڑوں لوگ عطائیت کی بھینٹ چڑھ گئے،بغیر لائسنس میڈیکل سٹورز پر علاج معالجہ جاری،میڈیکل سٹورز پر ممنوعہ اور غیر معیاری ادویات کی فروخت مبینہ طور پر متعلقہ محکموں کی ملی بھگت سے جاری،اعلی حکام نوٹس لیں۔تفصیل کے مطابق کبیروالا کے نواحی علاقوں میں درجنوں کے حساب سے غیر رجسٹرڈ میڈیکل سٹورز قائم ہیں جہاں غیر معیاری بغیر وارنٹی اور جنسی ادویات کی فروخت متعلقہ محکمے کی مبینہ ملی بھگت سے جاری ہے جو درجنوں لوگوں کو معذور بنا کر کئی گھروں کے چراغ گل کر چکے ہیں لیکن حکومتی سطح پر عطائیت کے خاتمے کے دعووں کو آج تک حقیقت کا روپ نہ دیا جا سکا،غیر رجسٹرڈ میڈیکل سٹورز پر عطائی کھلے عام غریب عوام کو نیلی پیلی گولیاں اور طاقت کے نام پر ڈرپس لگا کر دونوں ہاتھوں سے لوٹنے کے ساتھ ساتھ موت کے منہ میں دھکیل رہے ہیں،سرکاری ہسپتالوں میں صحت کی بہترین سہولیات کی فراہمی کے باوجود نواحی علاقوں چوپڑہٹہ،سرائے سدھو،باٹی بنگلہ،ککڑہٹہ،سردار پور،نواں شہر میں عطائیت اور متعلقہ محکموں کی ملی بھگت سے غریب عوام کو اپائج بنانے میں مصروف ہیں جبکہ نشہ آور گولیوں اور جنسی طاقت کی ادویات سے نوجوان نسل تیزی سے تباہی کی طرف گامزن ہے،ان پڑھ لوگوں نے موت گھر(ہسپتال) اور میڈیکل سٹورز کھول رکھے ہیں،ذرائع کے مطابق متعلقہ محکموں نے بھاری رشوت کے عوض عطائی مافیا کو کھلی چھوٹ دے رکھی ہے اسی وجہ سے ہر قائم ہونے والی حکومت کی بے پناہ کوششوں کے باوجود آج تک عطائیت کو ختم نہ کیا جا سکا،عوامی و سماجی حلقوں نے حکام بالا سے مطالبہ کیا ہے کہ صورتحال کا نوٹس لیا جائے۔

رپورٹ مظہر حسین باٹی