تحفہ (Gift)**

تحریر ۔متین قیصر ندیم

ادلہ ہے نہ بدلہ ہے
تحفہ ہی خوشی کا نسخہ ہے
تحفے دینا، رشتوں کو جوڑنے کا ایک بہترین ذریعہ ہے۔تحفے صرف مواقع یا تقریبات کے محتاج نہیں ہوتے۔ کبھی بھی کہیں بھی کسی بھی وقت دے سکتے ہیں۔ یہ ایک سدا بہار عمل ہے، اس میں خزاں کا نام و نشان نہیں ہوتا ہے۔ تحفے بغیر کسی وجہ کے بھی دیئے جاسکتے ہیں، کبھی دے کر دیکھیےگا، بڑی خوشی کا احساس ہوتا ہے اور رشتے مضبوط ہوتے ہیں۔ تحفہ ایک ایسی کنجی ہے جو دل کے دروازے کھول دیتی ہے۔ جس طرح تپتی زمین پر بارش کی پھوار سے مٹی کی سوندھی خوشبو سے ماحول معطر ہوجاتا ہے اسی طرح تحفے رشتوں پر بارش کی پھوار کا اثر رکھتے ہیں۔۔رشتوں میں قربت کا احساس فروغ پاتا ہے۔ تحفے کی کوئی قیمت نہیں ہوتی، تحفہ، تحفہ ہوتا ہے، وہ بیش قیمتی ہوتا ہے اور جب آپ کی پسند کا تحفہ ہو تو سونا پر سہاگا۔
تحفے کسی حد بندی کے محتاج نہیں ہوتے
تحفے صرف مواقع یا تقریبات کے محتاج نہیں ہوتے۔ کبھی بھی کہیں بھی کسی بھی وقت دے سکتے ہیں۔ یہ ایک سدا بہار عمل ہے، اس میں خزاں کا نام و نشان نہیں ہوتا ہے۔ رشتے مضبوط ہوتے ہیں۔
تحفے دینے کی شروعات گھر سے کریں
تحائف کو صرف مواقع کی حد بندی میں نہ باندھتے ہوئے چھوٹے چھوٹے کاموں کی ستائش کے ساتھ ساتھ تحفے بھی دیں۔ مثلاً آج حمزہ نے اپنے کھلونے ترتیب سے رکھیں، تو شاباشی کے ساتھ ایک چاکلیٹ دیں اور فاطمہ نے اپنا ہوم ورک بھی کیا اور اپنی چھوٹی بہن کنزا کے ہوم ورک میں مدد بھی کی تو ’’شاباش بیٹا!‘‘ کے ساتھ ایک پن تحفے میں دیں۔ چھوٹے چھوٹے تحائف سے اچھے کاموں کی حوصلہ افزائی تو ہوتی ہی ہے اور آپس میں قربت کا احساس فروغ پاتا ہے۔
بچوں سے تحفے دلوائیں
کسی مہمان کو تحفہ دینا ہے یا کسی کو بھجوانا ہے تو بچوں کے ہاتھ سے یہ کام کروائیں۔ ایسا کروانے سے انہیں یہ احساس ہوتا ہے کہ ’لینے‘ سے بہتر عمل ’دینا‘ ہے۔ یہ عادت اچانک ہی پختہ نہیں ہوتی ہے بلکہ لمحہ بہ لمحہ ہوتی ہے۔ یہ خاصیت بچوں کی شخصیت کا ایک حصہ بن جائے اس سے بہتر اور کیا ہوسکتا ہے۔
ہاتھوں سے تیار شدہ تحفہ
ہاتھوں سے تیار شدہ تحفے دینے کا رواج بہت پرانا ہے۔ ہاتھوں سے بنائے ہوئے تحفے دے کر آپ ایک قدیم روایت کو زندہ کرسکتے ہیں۔ آپ میں کشیدہ کاری یا کوئی اورصلاحیت ہو تو اپنے کسی عزیز یا خیرخواہ کے لئے کوئی تحفہ تیار کریں۔ اپنی صلاحیتوں کو بروکار لانے کا یہ ایک بہترین طریقہ ہے۔ یقین جانئے یہ مہنگے مہنگے تحائف سے زیادہ قیمتی ہوگا اور آپ کے رشتہ داروں کے لئے بھی عزیز ہوگا۔ آپ چاہیں تو بچوں کے ذریعے بھی تحفے تیار کروا سکتی ہیں یا تحفے تیار کرنے میں ان کی مدد حاصل کرسکتی ہیں۔ اس سے بچے میں تحفے کی اہمیت اُجاگر ہوگی۔ آپ بچوں سے ایک کاغذ پر کوئی پیاری تحریر لکھنے کے لئے بھی کہہ سکتے ہیں۔
تحفہ شکریہ ادا کرنے کا ذریعہ ہے
شکرگزاری کی فطرت انسان کی روح میں وسعت پیدا کرتی ہے۔ زبانی طور پر ’’شکریہ‘‘ ادا کرنا کچھ ایسا ہے کہ ساحل پر لکھی ہوئی تحریر، جو ایک لہر سے مٹ جاتی ہے۔ شکریہ کا اثر دیرپا رکھنا ہو تو تحفے کے ذریعے کریں۔ جب تک تحفہ ہوگا تب تک شکریہ کا اثر باقی رہے گا۔
تحفہ معافی مانگنے کا ایک ذریعہ ہے
کہتے ہیں انسان غلطیوں کا پتلا ہے۔ غلطی ہونے پر معافی مانگنا انسانی فطرت ہے۔ جہاں پر الفاظ معافی مانگنے کے لئے ناکامی محسوس ہوتے ہیں اور الفاظ کی گنجائش ختم ہوجاتی ہے وہاں پر ایسا تحفہ دیں جو آپ کی دلی کیفیت کی ترجمانی کرے۔ معافی دراصل دل کی ندامت کا عمل ہے۔ یہ حکمت عملی کبھی رائیگاں نہیں جائے گی۔
تحفے یادوں کا خزانہ
جب بھی ہم کسی کے دیئے ہوئے تحفے کو دیکھتے ہیں، تو تحفے دینے والے شخص کا چہرہ اور تحفے سے جڑی یاد تازہ ہوجاتی ہے۔ کسی کی یادوں میں رہنے کا اس سے بہتر طریقہ اور کیا ہوسکتا ہے۔ اسی لئے تحفے دینے کی عادت کو پروان چڑھائیں اور ایک دوسرے کی یادوں میں رہیں۔
کسی مقام سے جڑنے کا ذریعہ
اکثر ہم سبھی سیر و تفریح کے لئے ملک کے مختلف شہر جاتے ہیں۔ بیشتر لوگ وہاں سے کچھ نہ کچھ خرید کر لاتے ہیں اور اپنے عزیزوں کو بطور تحفہ دیتے ہیں۔ جب بھی وہ لوگ اس تحفے کو دیکھتے تو خوشی کا احساس ہوتا ہے اور وہ مقامات ان تحائف کے ذریعے ہمارے ساتھ وابستہ ہوجاتے ہیں۔
تحفہ دل سے قبول کریں
بعض لوگ سامنے والے کے مرتبے کے مطابق تحفے دینے سے قاصر ہوتے ہیں اس لئے تحفہ دینے سے ہاتھ روک دیتے ہیں کہ کہیں سامنے والے کے سامنے یا تمام لوگوں کے درمیان ہماری بے عزتی نہ ہو یہ غلط روش ہے ایسے موقعوں پر تحفہ دینے والا اپنی مالی حیثیت کے مطابق تحفہ دے اور سامنے والے پر بھی لازم ہے کہ اس کے تحفے کو سر آنکھوں پر رکھے نا کہ سامنے والے کو ذلیل کرکے اس کا تحفہ واپس کردے .سب سے بڑا اور قیمتی تحغہ خوسبو ۔عطر ۔پرفیوم ہے تحائف سے رشتوں میں پاکیزگی بڑھتی ہے محبت بڑھتی ہے انسیت بڑھتی ہے تحائف یادیں بن کر اثاثہ بن کر زنڈگی کی تلخیوں اور تنہائیوں میں ٹانک کا کردار ادا کرتے ہیں ورنہ بقول شاعر
یاد ماضی عذاب ہے یارب
چھین لے مجھ سے حافظہ مرا
تحائف کو زنڈگی کا حصہ پنائیں خوشیاں اپکو ڈھونڈیں گی ۔میں تو دوستوں اور رشتہ داروں کے حالات سے أگہی پاکر انکی مدد کیلے تحفہ کا سہارا لیتا ہوں خودی پر أنچ بھی نہی أتی مدد بھی ہو جاتی ہے روتے چہروں پر مسکراہٹ عید کی خوشی دیتی ہے ۔۔۔۔مراسلہ محمد متین قیصرندیم احمد پور سیال 03006821668