تھل_کاکسان_اجڑاہوا

تحریرجاویدمحرم_گھلو

موسمیاتی تبدیلیوں نے جہاں پر وطنِ عزیز کے دیگر باسیوں کو متاثر کیا ہے
وہاں پر تھل کے کسان بھی شدید متاثر ہوئے ہیں تھل کبھی ملک کی %85 دالوں کی ضروریات پوری کرتا تھا تھل کے کسان خوشحال تھے اور ملکی معیشت کو مظبوط بنانے میں اپنا کردار ادا کرتے تھے
اب بروقت بارشیں نہ ہونے سے فصل نے پیداوار دینا بھی چھوڑ دی ہے جس سے تھل کا غریب کسان قرضوں کے بوجھ تلے دب کر رہ گیاہے حالات یہ ہیں کہ اچھی فصل کی امید میں قرض لے فصل کی کاشت پر ہونے والے اخراجات بھی پورے نہیں ہوتے ہیں
قسمت اور حالات کے مارے تھل کے کسان کا کوئی پرسان حال نہیں ہے نہ اس کے لئے کوئی سبسڈی ہے نہ اس کے لئے کوئی اور حکومتی امداد نہ اس کے لئے کوئی آواز اُٹھانے والا ہے
تھل ایک یا دو گاوں پر مشتمل نہیں بلکہ لاکھوں ایکڑ پر صحرا کا سینہ چیر کر رزق تلاش کرنے والے تھل کے کسان میانوالی بھکر خوشاب جھنگ اور ضلع لیہ لاکھوں کی تعداد میں ہیں 10/ 12/5اور اس سے بھی کم رقبہ کے مالک تھل کے غریب کسان آج تاریخ کے بدترین معاشی حالات سے گزر رہے ہیں ان کے گھروں میں فاقوں کا راج ہے تھل کے کسان غربت سے بھی نیچے سطح پر زندگی گزارنے پر مجبور ہیں بے روزگاری کی شرح خطرناک حد تک بڑھ چکی ہے تھل کے علاقوں میں کاروباری حضرات بھی شدید متاثر ہوئے ہیں لوگوں کی قوت خرید کم ہونے سے ان کے کاروبار پر بھی بہت برا اثر پڑا ہے لوگوں کے پاس بچوں کی اچھی تعلیم کے لیے اخراجات نہیں جس سے چائلڈ لیبر کی حوصلہ افزائی ہو رہی ہے اور لوگ بچوں کو مزدوری پر لگا رہے ہیں
تھل کے ایریا میں صحت کی سہولیات کا فقدان ہونے کے باعث لوگ علاج معالجہ کے اخراجات برداشت نہیں کر سکتے مجبوری کی حالت میں اگر مریض کو ہسپتال میں منتقل کرنا پڑے تو سڑکوں حالات زار تکلیف بڑھا دیتی ہے اکثر مریض راستے میں ہی دم توڑ جاتے ہیں
اوپر سے رہی سہی کسر حکومتی ٹیکسوں نے پوری کردی ہے

سونا اگلنے والی تھل کی زمین میں کسی قسم کی فصل اگائی جا سکتی ہے مگر اس جانب کسی بھی حکمران کی توجہ نہیں ہے
حکومت اگر تھل کے کسانوں کو آب پاشی کے جدید ترین نظام کے پر تحت سبسڈی دے تو تھل کی زمینیں سونا اگلنے والی زمینیں ہیں اس سے تھل میں انقلاب برپا ہوسکتا ہے
تھل کی زمین کی خاصیت یہ ہے کہ ہر قسم کی فصل اس میں اگائی جا سکتی ہے
محکمہ زراعت بھی ستو پی کر سویا ہوا ہے
آج تک تھل کے کسانوں کے لئے کوئی سیمینار نہ تھل کے کسانوں سے رابط ہوا ہے اس شاہی محکمہ کا
حکومت وقت تھل کے پڑھے لکھے نوجوانوں کو جدید زراعت کی تربیت کے اقدام کرے اس کے ساتھ ان کے تمام قرضے معاف کئے جائیں تاکہ تھل کے غریب کسان کی مشکلات میں کمی ہو
تھل کے غریب کسانوں کو بلاسود قرضے فراہم کئے جائیں سولر سسٹم پر سبسڈی دی جائے اور تمام حکومتی ٹیکسوں کو معاف کیا جائے تاکہ تھل کا غریب کسان بھی ترقی کرے کیونکہ کسان خوشحال ہوگا تو ملک بھی ترقی کی نئی راہیں ہموار ہوں