کب تک
تحریر۔۔الستار سپرا
میں ایک عام پاکستانی شہری ہوں جس پر اس ارض وطن کا مالک و مختار ہونے کی ناحق تہمت ہے۔ میں زمینی خدائوں سے گلہ کرنا چاہتا ہوں۔ اگر جان کی امان پائوں تو کچھ عرض کروں؟ آپ نے ڈیجیٹل میڈیا کے دہشتگردوں کو جلا کر خاکستر کرنے کیلئے آگ کی دیوار کھڑی کردی ،ریاست کے باغیوں کو سزائیں دی جارہی ہیں، مقدس سمجھی جانیوالی شخصیات کا احتساب ہورہا ہے ۔نقش کہن مٹا کر ایک نئی دنیا، جہان تازہ آباد کیا جارہا ہے، مرحبا! سرتسلیم خم کہ آپ چومکھی لڑائی میں مصروف ہیں، آپ کے خلوص نیت پر سوال نہیں، طرز تغافل کی شکایت نہیں ،بس ایک عرض تمنا ہے، کیا ہے ناں عاشقی صبر طلب اور تمنا بیتاب۔ نہ چاہتے ہوئے یہ شعر لبوں پر مچل جاتا ہے:
منیر اس ملک پہ آسیب کا سایہ ہے یا کیا ہے
کہ حرکت تیز تر ہے اور سفر آہستہ آہستہ
آپ وطن کے رکھوالے اور نگہبان۔ ہم عاصی ہیں، گناہ گاروسیاہ کار۔ آپ حاکم ہیں، ہم محکوم۔ آپ بادشاہ گر ہیں، ہم رعایا۔ آپ راجہ ہیں، ہم پرجا۔ تو شکوہ ارباب وفا سن لیں،خوگر حمد سے تھوڑا سا گلہ سن لیں۔ ارباب بست و کشاد، اسے نالہ دل سمجھیں یا فریاد ،مگر یہی ہے قوم کی آواز۔ ہم صنعتی انقلاب کے خواب دیکھ چکے ،زرعی اصلاحات کے سراب پیچھے چھوڑ آئے ،جاگیردارانہ نظام کو للکار کر دیکھ چکے، سوشلزم کی کرامات ملاحظہ کرلیں ،اسلامی نظام کے نعرے لگا کر تھک چکے، روشن خیالی کی شمعیں جلا کر دیکھ لیں مگر شاید اس شب کے مقدر میں سحر ہی نہیں۔طویل عرصہ ہم اپنے جغرافیائی محل وقوع سے فائدہ اُٹھاتے رہے، عالمی طاقتوں کی جنگوں میں اگاڑی ریاست بن کر لائی گئی معاشی خوشحالی عارضی ثابت ہوئی ۔کبھی بتایا گیا کہ ارض وطن سے دریافت ہونیوالی معدنیات کا خزانہ گیم چینجر ثابت ہوگا ۔ابھی چند برس قبل جب نیا پاکستان بنا تو جناب عمران خان نے قوم کو خوشخبری دی کہ کیکڑا ون منصوبے سے قوم کی تقدیر بدلنے والی ہے۔حالانکہ یہ نوید سب سے پہلے ہمارے مسیحا و نجات دہندہ فیلڈ مارشل ایوب خان نے دی تھی۔ غالباً 1963ء میں امریکی کمپنی ’’Sun Oil‘‘نے یکے بعد دیگرے تین کنویں کھودے لیکن بعد ازاں معلوم ہوا کہ جو کنویں دریافت کئے گئے وہ خشک ہو چکے ہیں۔ 1972ء میں ایک جرمن کمپنی ’’Winter Shell‘‘ نے کھدائی شروع کی، تیل کے 3کنویں دریافت ہوئے۔ قائد عوام ذوالفقار علی بھٹو تو تیل سے بھری ایک شیشی لیکر قومی اسمبلی میں آئے اور قوم کو خوشخبری دی کہ بس اب ہمارے دن پھرنے والے ہیں۔ بھٹو کے دور میں ہی ایک امریکی کمپنی ’’میراتھون آئل‘‘ نے 1976ء میں ڈرلنگ کی اور پھر 1978ء میں کینیڈا کی کمپنی ’’ہسکی‘‘ نے کھدائی کا کام سنبھال لیا لیکن تیل نکالنے کی مہم کامیاب نہ ہو سکی۔ 1985ء میں جب ضیا الحق برسراقتدار تھے تو حکومت نے سوچا غیر ملکی کمپنیاں ہمیں بے وقوف بنا کر چلی جاتی ہیں، تیل دریافت نہ ہونا ہمارے خلاف کسی قسم کی عالمی سازش ہو سکتی ہے، کیوں نہ اس بار خود کوشش کی جائے۔ اسی سوچ کے تحت OGDCL نے اپنے طور پر کھدائی کا آغاز کیا لیکن چند برس بعد ہی معلوم ہوگیا کہ ان تِلوں میں تیل نہیں۔ 1989ء میں ایک اور غیر ملکی کمپنی Occidental سے کھدائی کا معاہدہ ہوا۔ 1992ء میں ڈرلنگ کیلئے نیوزی لینڈ کی کمپنی Canbury کی خدمات حاصل کی گئیں۔ 1999ء میں امریکی کمپنی Ocean کو تیل کے ذخائر دریافت کرنے کیلئے بلوایا گیا۔ 2004ء میں فرانسیسی کمپنی ’’ٹوٹل‘‘ اور پھر 2005ء میں پاکستان پیٹرولیم لمیٹڈ نے مہم جوئی کی جو ناکام ہوگئی۔
جب 2015ء میں مسلم لیگ (ن) کی حکومت تھی اور پنجاب کے ضلع چنیوٹ سے 3کلومیٹر کے فاصلے پر رجوعہ نامی علاقے میں سونے اور تانبے کے سب سے بڑے ذخائر دریافت ہونے کا دعویٰ کیا گیا تھا تو تب بھی قوم کو اسی طرح کی خوش خبریاں دی گئی تھیں۔ چند برس قبل شمالی وزیرستان میں معدنیات کے ذخائر کا جو تخمینہ لگایا گیا اس نے تو حساب کتاب ہی درہم برہم کر دیا۔ بتایا گیا کہ یہاں 6سے8 ٹریلین ڈالرکے ذخائر موجود ہیں۔ اگر آپ اتنی بڑی رقم کو روپوں میں منتقل کرسکتے ہیں تو کرلیں، میں تو اپنے دماغ کو اس لاحاصل مشق میں نہیں اُلجھانا چاہتا۔ ہم جیک پاٹ کے انتظار میں ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے رہے۔ آوازیں لگاتے رہے کہ آئو ،ہماری زمینوں میں دفن سونا، چاندی، تانبا اور دیگر قیمتی دھاتیں نکالو، دل کرے تو کچھ ہمیں بھی دے دینا۔ آئو ہمارے ملک میں بجلی گھر لگائو اور ایسا منافع پائو کہ دنیا میں کہیں اور اس طرح کی پیشکش نہ ملے گی۔ ہمارے ایئرپورٹ لیز پر لے لو، ہماری فضائیں استعمال کرو، ہمارے زمینی مستقر ٹھیکے پر لے لو، بس ہمیں کچھ ڈالر دیدو۔ یہ سب کچھ کرتے، ہم نے 77برس گزار لئے۔ جب اور کچھ نہیں بچا تو سوچا کارپوریٹ فارمنگ کا آئیڈیا بیچ دیتے ہیں۔ ہمارے دوست ممالک جو غذائی اجناس کی درآمد پر سالانہ اربوں ڈالر خرچ کرتے ہیں،کیوں نہ انہیں یہ پیشکش کی جائے کہ پاکستان آئیں، ہماری زمینوں پر فصلیں اُگائیں، خود بھی کمائیں، ہمیں بھی کھلائیں۔ بتایا گیا تھا کہ اس منصوبے کے تحت دوست عرب ممالک سے کئی ارب ڈالر کی سرمایہ کاری آرہی ہے۔ کیا ان منصوبوں کے تحت ایک دھیلہ بھی آیا؟ فرض کریں ،ہم منت سماجت کرکے تھوڑی بہت سرمایہ کاری لانے میں کامیاب ہو بھی جائیں تو کیا فرق پڑے گا؟ چند برس اور نکل جائینگے مگر اسکے بعد کیا ہوگا؟ آپ نے ’’سروگیسی‘‘یعنی کرائے کی کوکھ کے بارے میں تو سنا ہوگا ۔ان خدمات کے عوض معقول رقم مل جاتی ہے مگر اپنی کوکھ کرائے پر دیکر کب تک دولت کمائی جاسکتی ہے؟ ہم کسے دھوکہ دے رہے ہیں ؟Green Initiativeکے تحت جو زمینیں ہموار کرکے بڑے سرمایہ کاروں کو دی جارہی ہیں ،وہ چھوٹے کاشتکاروں یا زراعت میں دلچسپی رکھنے والے عام افراد کو کیوں نہیں دیدی جاتیں ؟








