تھانہ اٹھارہ ہزاری اور موجودہ حالات: ایک تجزیہ
تجزیہ نگار۔
سبطین عباس سبطین
حالیہ دنوں میں سانحہ بارکھان کے تناظر میں ایک دوست نے پنجابیوں کو نجی جیلوں اور وڈیروں کے ظلم و ستم سے محفوظ قرار دیا، اور میں نے اس بات پر غور کیا کہ واقعی، پنجاب کے وڈیروں کو نجی جیلیں بنانے کی ضرورت کم ہی پیش آتی ہے۔ یہاں تھانے ان کے لیے وہی کام کرتے ہیں جو نجی جیلیں کرتی ہیں۔ ریاست کے ملازمین سے کام لینا ان کے لیے زیادہ آسان اور سستا طریقہ ہے۔
تھانہ اٹھارہ ہزاری کی حدود میں ہونے والے واقعات اس کی ایک مثال ہیں۔ انتخابات کے دوران، کس طرح سے لوگوں کو غیر قانونی طور پر حراست میں لیا گیا، سلامیاں دی گئیں (یہاں یہ لفظ مخصوص معنوں میں استعمال ہوا ہے)، اور کس طرح جھوٹے مقدمات درج کیے گئے، یہ سب باتیں کوئی ڈھکی چھپی نہیں ہیں۔ عدالتوں نے بھی متعدد مقدمات کو بے بنیاد قرار دیا، جو کہ اس عمل کی نشاندہی کرتا ہے۔
حالیہ دنوں میں تھانہ اٹھارہ ہزاری میں جرائم میں بظاہر کمی دیکھنے میں آئی ہے اور ایمرجنسی ون فائیو پر بھی ماضی کی نسبت کم شکایات موصول ہو رہی ہیں۔ یہ ایک خوش آئند تبدیلی ہے، لیکن ذرائع کا کہنا ہے کہ اصل حقیقت کچھ اور ہے۔ شکایات درج ہونے پر بعض اوقات ملزم کے ساتھ مدعی کو بھی بلاوجہ حوالات میں بند کیا جا رہا ہے، اور متاثرہ افراد باہر آ کر شرمندگی کے باعث خاموش رہنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔
ذرائع یہ بھی دعویٰ کرتے ہیں کہ پولیس چوکی روڈوسلطان میں بھی ایسی سرگرمیاں جاری ہیں۔ ایسے حالات میں ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر جھنگ، بلال افتخار کیانی صاحب سے گزارش ہے کہ وہ تھانہ اٹھارہ ہزاری اور پولیس چوکی روڈوسلطان کے خفیہ دورے کریں، ون فائیو کی شکایات کا ریکارڈ چیک کریں اور ایسے مقدمات کا جائزہ لیں جن میں فریقین کو نامعلوم وجوہات پر سزائیں دی گئی ہیں۔ مزید یہ کہ پولیس چوکی روڈوسلطان میں بند کی گئی موٹر سائیکلوں کی تفصیلات بھی معلوم کی جائیں کہ ان کے خلاف کیا الزامات ہیں۔
ہمیں یقین ہے کہ بلال افتخار کیانی صاحب اپنے وسیع تجربے کی بنیاد پر جلد ہی حقائق سے آگاہ ہو جائیں گے اور عوام کو انصاف دلانے میں اہم کردار ادا کریں گے۔
سبطین عباس سبطین
جنرل سیکرٹری تحصیل پریس کلب اٹھارہ ہزاری 03062389813
—










