“کیا پاکستان میں قانون کی حکمرانی کا فقدان ہے”۔
تحریر طاہر عباس
“”””””””””””””””””””””””””””””””””””””””””””””””””””””””””””
ازقلم: *طاہرعباس جنرل سیکرٹری تحصیل پریس کلب رجسٹرڈ کبیروالا*
03038558512
“”””””””””””””””””””””””””””””””””””””””””””””””””””””””””””””
قانون، انصاف اور شعور معاشرے کے اہم ستون ہیں۔ کسی بھی معاشرے کی بقا بہتر تعلیم، شعور، مثبت سوچ اور اچھائی و برائی کی تمیز میں پنہاں ہے۔ بدقسمتی سے ہم ایسے معاشرے سے یکسر محروم ہیں جہاں روایات اور اقدار کا درس دیا جاتا ہو، جہاں عہد کی پاسداری کی جاتی ہو، جہاں دوسروں کی رائے کا احترام کیا جاتا ہو، بلکہ یہاں معاملہ معاشرتی تقاضوں کے بالکل برعکس ہے۔ یہاں خود غرضی، لالچ اور دھوکہ دہی عام ہیں۔ عدم رواداری اور عدم برداشت نے معاشرے کو کھوکھلا کر دیا ہے۔ عدم مساوات، عدم برداشت، بے انصافی، خود غرضی، قانون شکنی اور فرائض کی عدم ادائیگی بھی مسائل اور معاشرتی بگاڑ کا سبب بنتے ہیں۔ رویوں کو درست کر کے ان مسائل پر قابو پایا جاسکتا ہے۔ بد قسمتی سے قیادت کا فقدان ان مسائل کو اور گمبھیر بنا رہا ہے۔ جس معاشرے کی سیاسی قیادت میں علم و دانش، عقل و شعور اور سیاسی بلوغت کا فقدان ہو گا وہاں مہذب نسلیں پروان نہیں چڑھتیں۔
بدعنوانی کا خاتمہ کرنے والے ادارے‘ محکمے اور اشخاص خود سب سے زیادہ بدعنوان ہو کر رہ گئے ہیں۔ سماج کا معاشی دھارا اسی بدعنوانی اور کالے دھن کی رقم سے گردش کر رہا ہے جس کے بارے میں اس سے مستفید ہونے والے ہی سب سے زیادہ واویلا کر رہے ہیں۔ ایک ایسا معاشرہ جہاں سرکاری اور سماجی زندگی کا ہر پہلو بدعنوانی کی دولت سے چل رہا ہو وہاں اس کو ایک ایشو بنا کر کس طرح اصل مسائل اور ان کے حل سے توجہ ہٹانے کے ہتھکنڈے کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔ کسی بھی معاشرے میں کرپشن اور معیشت پر کالے دھن کا غلبہ بنیادی طور پر وہاں پھیلی ہوئی بے پناہ ذلت اور محرومی کی شدت کی پیداوار ہوتا ہے۔ درحقیقت یہ بدعنوانی بحران کی وجہ نہیں بلکہ موجودہ سرمایہ دارانہ نظام کی مہلک بیماری کی ایک علامت ہے۔ وہ نظام جو جدید صنعتی معاشرہ نہ بنا سکے، سماجی ترقی میں مکمل ناکام ہو جائے اور خوشحالی کی بجائے تباہ کاریوں کا اکھاڑا بن جائے۔ ایک کرپٹ معاشرے میں کرپشن کے خاتمے کو ہی مسائل کا حل بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔ اس سے حکمران طبقات کے کچھ افراد انفرادی طور پر بدنام تو ضرور ہوتے ہیں لیکن عمومی طور پر اس نظام، جو اس محرومی اور ذلت کو جنم دیتا ہے، میں بدعنوانی کے بغیر زندگی گزارنا محال ہو جاتا ہے۔ اس نظام میں بدکاری‘ جبر‘ استحصال اور بربادیوں کی پردہ پوشی کی جاتی ہے۔ اس کے خلاف ہونے والی طبقاتی جدوجہد کو تذبذب کا شکار اور گمراہ کیا جاتا ہے۔ اس اذیت ناک بحران کے خاتمے کے لیے اس کی جڑوں اور بنیادوں کو محفوظ بنا لیا جاتا ہے۔ اس معاشرے میں کون کرپٹ نہیں۔ بدعنوانی اس معاشرے کی رگوں اور شریانوں میں کینسر کی طرح سرایت کر چکی ہے۔ اس کے بغیر گزارا ہی نہیں۔ حکمران طبقات صرف اس لیے اپنے مالیاتی، سماجی اور سیاسی رتبے کو قائم رکھ سکتے ہیں کہ اس بیمار نظام میں وہ بدعنوانی میں ملوث ہونے پر ’’مجبور‘‘ ہیں لیکن ان کی ہوس کی یہ ’’مجبوری‘‘ ان کی عادت‘ ان کی خصلت اور ان کا کردار بن جاتا ہے۔ ریاست اپنے وجود کو قائم رکھنے کے لیے کرپشن کو تحفظ بھی فراہم کرتی ہے اور اس کے عوض اس میں حصہ داری کو مسلسل بڑھانے کے درپے بھی رہتی ہے۔ اس کے اہل کار اوپر سے نیچے تک بدعنوانی میں ملوث ہوتے ہیں۔
یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ قوموں کی تباہی میں مرکزی کردار ہمیشہ کرپشن کا ہی ہوتا ہے، یہ کسی بھی صورت میں ہو، جس قوم میں جتنی زیادہ کرپشن ہو گی، وہ قوم اتنی ہی جلدبربادی کے گڑھے میں جاگرتی ہے۔
کرپشن معاشرے میں ایک اچھوت کے مرض کی طرح پھیلتی ہے اور زندگی کے ہر پہلو کو تباہ کرکے رکھ دیتی ہے جس معاشرے کو لگ جائے اس معاشرے کی بربادی یقینی سمجھیں۔ پاکستان کی معیشت کی تباہی اور معاشرے کی تباہی بھی کرپشن ہے، جس نے بھی جس قدر زیادہ کرپشن کرکے مال و دولت اکٹھا کیا.
وہ معاشرے میں اسی قدر بلند مرتبہ ہوگیا اور حمام میں سب ننگے ہوئے تو سب خاموش ہوگئے۔ کوئی بھی معاشرہ تب تک ترقی نہیں کرسکتا جب تک اس معاشرے میں بد عنوانی کے عناصر موجود ہوں، جہاں میرٹ کو پامال کیا جائے، جہاں شفافیت کا وجود نہ ہو، جہاں اقربا پروری ہو، جہاں لوٹ کھسوٹ ہو، جہاں عوام کے ٹیکس کا پیسہ محفوظ نہ ہو۔کرپشن ایک ایسا مرض ہے جو کسی معاشرہ کی جڑوں کو کھوکلا کردیتا ہے اور اس کی موجودگی میں ترقی کی راہ اور عام افراد کے حقوق پامال ہوتے ہیں۔ کرپشن کی ایک بڑی وجہ قانون کی حکمرانی کا فقدان ہے ایک سخت اور کڑا احتساب ہی کرپشن کے خاتمے کا ضامن ہے۔









