ڈی پی او جھنگ کیپٹن (ر) بلال افتخار کیانی کے ٹائوٹ مافیا کے خلاف اقدامات
اور
سولر فراڈ میں اربوں کے متاثرین کی توقعات
تحریر: حبیب منظر
کروں گا کیا جو کرپشن بھی چھوڑ دی میں نے
مجھے تو اور کوئی کام بھی نہیں آتا ! ! !
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
انور مسعود کے اس شعر میں ٹائوٹ مافیا کی چیخیں بلند ہو رہی ہیں کہ جب سے ڈی پی او جھنگ کا چارج کیپٹن ( ر ) بلال افتخار کیانی نے سنبھالا ہے نہ صرف انکا حقہ پانی بند ہو گیا ہے بلکہ ان کے گرد گھیرا تنگ کر دیا گیا ہے
ان ٹائوٹوں کا نہ کوئی ذاتی کاروبار، نہ کوئی ملازمت ، اور نہ ہی کسی قسم کے زمیندارہ سے ان کا کوئی تعلق ہے ،
یہ تو ویلے لوگ ہیں ،
کمائے گی دنیا کھائیں گے ہم،
کے
ماٹو پر گزر بسر
انکی اوقات ہے
تھانہ کچہری کی بات کریں یا دیگر سرکاری محکموں کے دفاتر کی ،
سیاست صحافت تجارت زراعت کو لیں یا مذہب مسلک کو ،
ہر شعبہء زندگی میں اکثر ایسے افراد سے واسطہ پڑتا ہے جو بظاہر انسانیت کی خدمت گار ،
معاشرے کی خیر خواہی کا لبادہ اوڑھے ،
شہریوں کے سب سے بڑی مسیحائی کے ریاکار،
اور
نام نہاد لیڈر
بن کر
کسی تھانے میں ٹائوٹ
تو کسی سرکاری دفتر میں مڈل مین کا کردار نبھا رہے ہوتے ہیں ،
یہ لوگ ہمیشہ شارٹ کٹ کے چکر میں راتوں رات کروڑ پتی بننا چاہتے ہیں
کوئلوں کی دلالی میں منہ کالا ہونے کی پرواہ کیے بغیر شہریوں کی جمع پونجی مال ڈنگر زمین جائیداد پر ان کی نظریں لگی ہوتی ہیں
کسی دفتر میں اگر کوئی فائل پھنسی ہو ، کوئی افسر اگر کسی فائل پر دستخط نہیں کر رہا،
اگر کسی چھوٹے موٹے کیس میں نہیں سنی جا رہی تو ایسے مڈل مین اسے اپنے بائیں ہاتھ کا کھیل سمجھتے ہیں
بقول شاعر
میں کرپشن کی فضیلت کو کہاں سمجھا تھا
بحر ظلمات کو چھوٹا سا کنواں سمجھا تھا
معاشرے کے ایسے ناسور میرٹ اور انصاف کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ اور معاشرتی بگاڑ کا سبب ہوتے ہیں
کرپشن رشوت خوری کی انہیں بنیادی اکائی کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا
ایک طرف یہ ٹائوٹ ریاستی اداروں کو کھوکھلا کرتے ہوئے افسران و اہلکاروں کو ناجائز کاموں کیلئے اکساتے ، اپنے کمیشن کے چکر میں نوٹوں کی چمک پر انہیں رشوت ، لوٹ مار ، فرائض سے غفلت برتنے کی ترغیب دیتے ہیں،
تو دوسری طرف شہریوں کو انتقام کا نشانہ بناتے
اور
ان کے حقوق پر ڈاکے ڈالتے ہیں،
بے بس لوگوں کی مجبوریوں سے ناجائز مفاد اٹھا کر ان بیچاروں کا استحصال اپنا مشغلہ سمجھتے ہیں
یوں معاشرے میں اپنی بدمعاشی کی دھاک بٹھانے کیلئے اوچھے ہتھکنڈے استعمال کرتے ہوئے یہ فرعون مزاج لوگ ،
شہریوں کو ہراساں کرنا اپنا حق گردانتے پیں
ایسے مکار شاطر فراڈیئے جب حاجیوں نمازیوں کے بھیس میں ملتے ہیں تو سادہ لوح انسان جھانسوں میں آ کر ان پر اندھا اعتماد کرنا شروع کر دیتے ہیں
اسی اعتماد کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے جھنگ کے شہریوں سے لٹیرا مرزا کھربوں اور احمدپورسیال سے فراڈیہ گجر اربوں روپے لوٹ کر روپوش ہو چکا ہے
مبینہ ذرائع کے مطابق احمدپور سیال الفرید ٹاؤن دفتر میں فراڈ کو تحفظ دینے کیلئے سولر ڈیلر عمیر گجر کی جانب سے اپنی موجودگی میں سہولت کاروں کے ذریعے کچھ اہم شخصیات میں لاکھوں روپے اور قیمتی آئی فونز کی تقسیم اور پھر تسلی سے عوام کو لوٹنے کے بعد گذشتہ دو ماہ سے تاحال روپوش ہے
ہزاروں متاثرین اس فراڈ کا شکار ہو کر اپنی زندگی کی جمع پونجی سے محروم ہو چکے ہیں
اور
داد رسی کیلئے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی راہ دیکھ رہے ہیں
بہاولنگر جھنگ رنگپور سمیت پنجاب کے شہروں میں عمیر گجر اور اسکے سہولت کاروں کے خلاف مقدمات کے اندراج اور کچھ گرفتاریوں کی اطلاعات ہیں
مگر جس شہر میں سولر فراڈ کا دفتر قائم کر کے تقریباً چھ ماہ تک شہریوں سے اربوں روپے لوٹے گئے
بالخصوص تھانہ احمدپور سیال یا ملحقہ تھانہ گڑھ مہاراجہ میں اس سولر فراڈ کی روک تھام اور فراڈیے ڈیلر یا اسکے سہولت کاروں کے خلاف کسی قسم کی قانونی کاروائی کا نہ ہونا بہت بڑا سوالیہ نشان ہے ؟
ڈی پی او جھنگ کیپٹن ( ر) بلال افتخار کیانی کی ٹائوٹ مافیا کے خلاف کاروائیاں قابل ستائش ہیں
اس اقدام سے کئی سادہ لوح انسانوں کی جیبیں ان ٹائوٹوں کے ہاتھوں کٹنے سے محفوظ ہو چکی ہیں
ڈی پی او جھنگ کے حالیہ اقدامات سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اچھی ٹیم کے ساتھ کرائم کنٹرول کرنے میں خاصی مہارت رکھتے ہیں
امید ہے کہ اگر ڈی پی او جھنگ کیپٹن ( ر) بلال افتخار کیانی نے احمدپورسیال سولر سکینڈل پر غیر جانبدارانہ تحقیقات کا حکم دیدیا تو زمین کی تہوں میں چھپے فراڈیئے عمیر گجر اور اس کے تمام سہولت کار عوام سے لوٹے گئے اربوں روپوئوں سمیت برآمد کر لیے جائینگے
# حبیب منظر نمائندہ روزنامہ جنگ جیو نیوز
صدر تحصیل پریس کلب احمدپور سیال 03027691808










