ن لیگ اور گنڈا پور
تحریر علی امجد چوہدری
نناوے میں میاں نواز شریف کی حکومت کا خاتمہ ہوا جنرل مشرف نے اقتدار سنبھال لیا بیگم کلثوم نواز شریف کو اسلام آباد میں پناہ چاہیئے تھی شیخ رشید سمیت کئی ن لیگی اراکین نے مرحومہ کلثوم نواز شریف کو پناہ دینے سے انکار کر دیا تھا آخر کار ان کو پناہ ملی تو بیگم عشرت اشرف اور چوہدری جعفر اقبال کے گھر اس وقت بیگم کلثوم نواز اسلام آباد کے میں احتجاج کرنے کی منصوبہ بندی کر رہیں تھیں کیونکہ میاں صاحبان جیل میں تھے مگر کوئی راہنما احتجاج کے لیئے تیار نہیں تھا وہ دو چار کارکنوں کے ساتھ نکلتیں اور پھر چوہدری جعفر اقبال کے گھر
اب آتے ہیں عمران خان کی طرف ان کے فیملی ممبرز سب گرفتار ہیں خیال تھا کہ فیملی ممبرز کی عدم موجودگی میں عمران خان کی رہائی کے لیئے کوئی سنجیدہ کوشش نہیں ہوگی مگر یہاں شیر افضل مروت سے علی امین گنڈا پور تک بہت سارے نکلے علی امین گنڈا پور اس لیئے بھی منفرد ہیں کہ یہ صوبے کے وزیر اعلیٰ کی حیثیت سے باختیار تھے صوبے کے مالک ہونے کے باوجود جس طرح بے سکون ہوکر نکلے یہ انتہائی اہم ہے اور شاید اقتدار کو اتنے خطرے میں ڈال کر شاید ہی کوئی نکلا ہو ابھی ن لیگ کے پاس تحریک انصاف پر شاید طنز کے لیئے بہت کچھ ہو مگر یہ بات طے ہے کہ تحریک انصاف کا ن لیگ پر ایک ہی طنز بھاری ہوگا کہ ن لیگ کے پاس ایک بھی گنڈا پور نہیں ہے جو اقتدار کو اس طرح ٹھوکر مار دے
علی امجد چوہدری









