حضرت خواجہ غلام حسن سواگ (لیہ)
تحریر ۔۔۔۔ ڈاکٹر اقبال ندیم ملانہ گولڈ میڈلسٹ
کتنی حسین وہ صبح ہوگی جب ریگ زار تھل کے علاقے موضع گاڑے والہ میں ملک لعل حسین سواگ کے ہاں ایک فرزندنیک بخب پیدا ہوا کہ جس نے بڑا ہو کر اپنی تابناک زندگی سے ایک عالم کی کایا پلٹ کر رکھی دی جس نے بدعت اورضلالت کے خلاف اپنی زندگی کو وقف کردیا جس نے اسلام روحانی واخلاقی قدروں کو ایک بار پھر استوار کیا جس کی زندگی کے دور نے حضرت سلطان باہواور حضرت لعل عیسن کے دور کی یاد تاز کردی یہ عظیم روحانی شخصیت خواجہ غلام حسن سواگ کی تھی۔
جب آپ پیدا ہوئے تو آپ کے والد محترم بسلسلہ ملازمت بھکر شہر میں تعینات تھے وہیں آپ کو فرزندکی ولادت باسعادت کا مثر دہ ملا فرزندارجمند کی خوشخبری سنتے ہی گھر تشریف لائے اور اپنے لخت جگر کو دیکھکر دل کو شاد کام کیا
ابھی آپ کی عمر چند دن ہوئی تھی کہ آپ کی والدہ ماجدہ اس دنیا فانی سے رخصت ہو گئیں اب آپ کے والد محترم کے سامنے دو مسائل تھے ایک تو نومواد بچے کی پرورش کا مسئلہ تھا دوسرا ملازمت کا سلسلہ گھر سے دور تھا والد مکرم نے سلسلہ ملازمت ختم کر لیا اور بچے کی پرورش اپنے ذمہ لے لی اور بچے کی پرورش کرنے لگے انہیں دنوں آپ کی قوم ایک عورت مسماۃ فاطمہ نے آپ کو گود میں لے لیا اوردل و جان سے پرورش کرنے لگیں مسماۃ فاطمہ خود ایک عابد وزاہدخاتون تھیں ۔ پابند نماز روزہ تھیں۔
قدرت کے دستور بھی نرالے ہیں انہیں دنوں جب آپ کی عمر ابھیایک سال بھی نہ ہوئی تھی کہ آپ کے والد محترم بھی بقضائے الہٰی وفات پاگئے بی بی فاطمہ نے اس یتیم بچے کو سینے سے لگایا اور زیادہ توجہ و محبت سے آپ کی پرورش کی جب آپ کی عمر ۵/۶سال کی ہوئی تو آپ نے بھیڑیں چرانا شروع کردیں۔
فیوضیات حسنیہ میں لکھا ہے کہ اگرچہ آپ کی والدہ نے گذراوقات کے لئے ایک قطعہ اراضی دے رکھا تھا اس کے باوجود بھی آپ اہل دیہات کی خدمت کرنا اپنا فرض سمجھتے تھے اور معمولی معاوضے پر لوگوں کے مویشی چراتے تھے۔
یہ ایک حقیقت ہے کہ گلہ بانی کرنا سنت انبیا ء علیم السلام ہے دورفرعون کے حضرت کلیم ہوں یا حضرت اسماعیل کے پیارے ابا حضرت خلیل اللہ ، صحرائے شام کے حضرت عیسیٰ اور وادی تجاز کے دریتیم حضرت محمدﷺ ان تمااولوالعزم انبیاء نے اپے ایام طغولیت میں ریوڑ چرائے دراصل قدرت نامعلوم انداز سے حضرت خواجہ غلام حسن کو اس سنت پر عمل کراکے تریبت کا سامان پیدا کررہی تھی خداوندقدوس کا صرف آپ سے مویشی چرانا مقصودنہ تھا بلکہ اس بھلی بری دنیا کا ایک عظیم مقتدا اور پیشوا بنانا ہی مشیت ایزوی تھی اہل موضع اس بات سے بے خبر تھے کہ ان کے مویشی چرانے والا ، غلام حسن ایک دن غلام حسن بن کرنکھرے گا۔ یہ ایک دن دنیا کا مقتدابن جائے گا اور دنیا کے بڑے بڑے لوگ اس کی غلامی میں اپنا نام لکھوانا سعادت ونیک بختی تصو رکریں گے آپ کے دل میں شروع سے ہی ظاہری علوم کی تحصیل کا شوق تھا اس سلسلے میں آپ نے اپنے رضائی بھائی ملک احمد یار سے ذکر کیا وہ بھی حصول تعلیم کے لئے تیار ہوگئے ڈیرہ اسماعیل خان میں مولانا غلام حسن صاحب ڈیروی کے خلیف حضرت دوست محمد قندھاری سے قرآن کریم اور ابتدئی کتب کی تعلیم حاصل کی لیکن کچھ مدت کے بعدجھنگ کے مولانا علی محمد سے علم صرف حاصل کا۔ کچھ عرصہ کروڑ کے
یک خدا رسیدہ بزرگ حضرت مولا ناجان محمد کے حلقہ تدریس میں شرکت رہے مولانا غلا م محمد ااف کنڈ یا ں اور مولانا نور محمد سے کسب فیض علم حا صل کیا مولانا نور خا ں خوااجہ غلام حسن کو قطب عالم حضرت خواجہ محمد عثمان مو سی زئی کی خد مت مین لے گئے ۔حضرت خواجہ محمد عثمان نے جب آپ پر نظر کی تو آپ پر ایسی کیفیت طاری ہو ئی کہ ذکر الہی،جذب و مستی کا ایک بحر ز خار مو جزن ہو گیا ۔خواجہ غلام حسن سواگ نے بیعیت کے لئے مر شد کا ہا تھ تھا ماتو انہو ں کما ل مہر با نی اور شفقت سے آپ کو حلقہ بگو ش فرما یا ۔مر شد کی نگاہ نے تو آپ کے دل ودماغ میں ایک انقلاب برپا کردیا تھاآپ جب بھی مرشد سے دور ہوتے تو زیارت مرشد کے لئے بے تاب ہو جاتے آپ نے اپنا زیادہ وقت محب مرشد میں گذارنا شروع کردیا وہاں لنگر کے مختلف کام آپ کے ذمے تھے ایک دن خواجہ غلام حسن کے بارے میں ان کے مرشد نے فرمایا کہ یہ بچہ ایک دن اپنے وقت کا قطب بنے گا۔
پورے ۲۱سال تک مرشد کی خدمت میں حاضر رہ کر مراتب سلوک اور مقامات مجددیہ کی تکمیل کرتے رہے جن دنوں موسیٰ زئی میں تعلیمر کاکام شروع تھا ایک دن سردیوں کے موسم میں صبح کے وقت خواجہ غلام حسن سواگ ایسے والہانہ انداز میں گارا بنانے میں مصروف تھے کہ دیکھنے والے سردی کے اس موسم میں آپ کی کیفیت دیکھ کر عش عش کر اٹھے ۔ حضرت خواجہ محمد عثمان نے آپ کو والہانہ انداز میں گاربناتے دیکھا اور تعریفیں سنیں توفرمایا اس کے گارابنانے کی آج تم تعریف کرروہے ہولیکن ہم نے جو معرفت کا گارا اس کو لیپ دیا ہے کل تمام دنیا اس کے کمال کی تعریف کرے گی۔
ایک دن قیوم زمان حضرت خواجہ محمد عثمان کے خلیفہ حضرت پیراں بخش قلندر نے آپ کی خدمت میں عرض کی اعلیٰ حضرت ! مولوی غلام حسن جناب کا سچا اور مخلص خادم اور تمام مراتب سلوک مجد دیہ طے کر چکا ہے پس استدعا کرتاہوں کہ حضور والا کمال وشفقت ورافت سے خادم مذکورکوشرف خلافت اور اجازت طریقہ اشاعت مجدویہ سے مشرف فرمائیں حضور نے اس استدعا پر تبسم فرماکر اپنی دستار مبارک حضرت غلام حسن سواگ کے سرپر رکھی اور آپ کو اشاعت سلسلہ عالیہ اور لوگوں کو اللہ اللہ سکھانے کی اجازت مرحمت فرمائی۔
قیوم زمان خواجہ محمد عثمان کے وصال کے بعدحضرت خواجہ سراج الدین نے خواجہ غلام حسن کو سلسلہ قادری چشتی سہروردی کی اجازت اشاعت بھی عطافرمائی ۔
شہباز ولایت خواجہ غلام حسن سواگ حضرت مجددالف ثانی کے کارناموں سے بہت مثاثر تھے اس لئے آپ نے بھی اپنی زندگی میں اس سلسلے کو رواج دیا۔ ابتداء میں آپ کو تحصیل کروڑ کے مغرب میں تقریباً چھ میل کے فاصلے پر ڈپھی مکوڑی کے زمینداروں نے اپنے ہاں رہائش پذیر ہونے کی دعوت دی کیونکہ یہ زمینداروں آپ سے گہری عقیدت رکھتے تھے اس لئے آپ نے کی استدعا قبول فرمائی محمدخان سہڑ نے آپ کے لئے ایک کنواں بنوادیا۔ فتح محمدخان نے مسجد تعمیر کروائی زمینداروں بکھرخان نے چار مسافرخانے بنوادئیے جوکہ خانقاہ سراجیہ کے نام سے مشہور ہے آپ کا مل سال تک خانقاہ سراجیہ کے عوام الناس کے قلوب کو تصوف وسلوک کی مقدس تعلیمات سے منور کرتے رہے ۔ خانقاہ سراجیہ ڈپھی مکوڑی میں عرصہ تیس سال گذارنے کے بعد موضع ڈگر سواگ تھل میں ایک کنواں اور دیگر مکانات تعمیر کرائے۔
حضرت خواجہ غلام حسن سواگ نے تین بارروضہ رسول ﷺ حاضری دی ، مکہ معظمہ میں حج کے فریضہ سے سرخروہوئے آپ کی تمام عمر مسلمانوں میں واعظ وتبلیغ کرتے ہوئے گزری سینکڑوں ہندو آپ کے ہاتھ پر مسلمان ہوئے حضرت خواجہ سواگ ایک صاحب جلال بزرگ تھے جب آپ جلال میں آتے تو جس ہندو کی طرف اشارہ کرتے وہ فوراً وہیں کلمہ شریف پڑھ کر مسلمان ہوجاتا اس سلسلے میں آپ پر مقدمہ بازی بھی کی گئی۔
ایک مرتبہ لاہور تشریف لے گئے تو وہاں ایک ہندو پر نظر ڈالی وہ مسلمان ہوگیا اس ہندو کا بھائی لاہور میں تھا نیدار تھا۔ اس نے شہباز ولایت خواجہ حضرت غلام حسن کے خلاف دعویٰ دائر کردیا کہ حضرت نے میرے بھائی کو جبراً مسلمان کیا ہے پیشی کے دن حضرت خواجہ سواگ صاحب عدالت میں پیش ہوئے فرد جرم سنائی گئی اور جج نے پوچھا آپ نے ہندو نوجوان کو جبراً مسلمان کیوں کیا ہے؟یہ سن کر آپ جلال میں اگئے اور جوش میں فرمایا کہ اس لڑکے کو تو میں جبراً مسلمان کیا اور کلمہ پڑھایا ہے تھا نیدار کی طارف اشارہ کرکے فرمایا اسے کس نے کلمہ توحید پڑھایا ہے دفعتاً تھا نیدار کی زبان سے کلمہ جاری ہوگیا۔
اس طرح کا ایک اور واقعہ میانوالی کی عدالت میں پیش آیا میانوالی کے ہندووں نے عدالت میں حضرت خواجہ غلام حسن کے خلاف دعویٰ دائر کردیا کہ غلام حسن سواگ جادوگر ہیں اور جادو کے زور سے مسلمان بناتے ہیں سیشن جج ہندوتھا جس دن مقدمہ عدالت میں پیش ہواتو اتفاقاً اس دن دوہندوافسرتحصیلدار اور تھانیدار بھی عدالت میں موجود تھے جب ریڈرنے مثل استغاثہ پڑھ کر سنائی تو حضرت خواجہ غلام حسن جوش میں آگئے اور ہندوسیشن جج کی طرف اشارہ کرکے فرمایا کہ دوسرے ہندووں کو تو میں جبراً جادو کے زور سے کلمہ پڑھایا ہے لیکن آپ کو کس نے کلمہ پڑھایا ہے اس طرح دوسرے دونوں ہندوافسروں کی طرف بھی اشارہ کیا اور کہا کہ انہیں بھی میں نے جادو کے زور سے کلمہ پڑھایا ہے؟ تینوں ہندوآفیسر تحصیلدار تھانیدار اور سیشن جج کلمہ پڑھ کر مسلمان ہو گئے عدالت میں موجود باقی ہندو آپ کی یہ کرامت دیکھ کر عدالت سے بھاگ کھڑے ہوئے کہ حضرت کہیں ان کی طرف انگلی کا اشارہ نہ کردے ۔
نگاہ مردمومن سے بدل جاتی ہے تقدیریں
حضرت خواجہ غلام حسن صاحب کی کرامات کا مطالعہ کرنے سے جوبات سامنے آتی ہے وہ یہ ہے کہ آپ کی تمام کرامات مسلمانوں کی بھلائی اور فلاح کا پہلولئے ہوئے ہیں آپ کا جلال ہمیشہ لوگوں پر جمال بند کربر سا آپ کی پر جلال نگاہ کہیں توہندووں کو مسلمان کردیتی کہیں رہزن اور ڈاکوؤں کو بری عادات سے تائب ہونے کا سبب بنتی ۔ کہیں بدکارزانی نوجوانوں کو راہ راست پر لے آتی اور کہیں دین اسلام سے بھٹکے ہوئے انسانوں کو راہ راست پر لانے کا سبب بنتی ۔
ایک مرتبہ حضرت خواجہ سواگ بستی چاون ضلع ملتان میں وعظ فرمارہے تھے کہ ایک شخص جو کہ رسول پاک کی معراج جسمانی کا منکرتھااس نے اٹھ کر دریافت کیا کہ حضورپر نور کس طرح آسمانوں سے گزر کر عرش بریں تک پہنچے ۔ حضرت سوات صاحب پرجلال طاری ہوگیا آپ مسجد کی دیوار سے گزر کر صحیح سلامت غائب ہوگئے اور دوبارہ دیوار سے گزر کر منبر پر رونق افروز ہوئے اور دیوارویسی ہی رہی اور فرمایا حضور پر نور اس طرح آسمان سے گزر کر عرش بریں تک پہنچے آپ کی یہ کرامت دیکھ کر لوگ حیران وششدررہ گئے۔
کرامات کے علاوہ آپ سے بے شمار مکاشفات بھی ظاہر ہوئے جن میں سے یہاں ایک کا ذکر کرتاہوں ایک دفعہ حضرت خواجہ صاحب بہاؤالدین قریشی کے ہمراہ ایک رشتہ دارکی منگنی پر جارہے تھے قریشی صاحب کہتے ہیں میرے دل میں خیال گزرا کہ غلام حیدر حضرت صاحب کا مخالف ہے کہیں لڑائی نہ ہوجائے اس وقت آپ ایک دوسرے شخص سے باتیں کررہے تھے میری طرف متوجہ ہوکر فرمایا قریشی صاحب !میرے ہمراہ نہ چلو ایسا نہ ہو کہ کہیں لڑائی ہو ، میں یہ سن کر بہت شرمندہ ہوا۔
حضرت خواجہ غلام حسن سواگ کی زندگی کا ایک ایک لمحہ سنت نبوی کے عین مطابق تھا نماز میں امامت فرمات ، نماز اشراق اور تہجد کبھی قضانہ کی ، جمعہ کے دن نماز اشراق ،صلوٰۃ وتسبیح بھی پڑھ لیا کرتے تھے۔ تلاوت کلام پاک دلائل الخیرات ،دعائے حزب الجرپڑھتے تھے ، عرس شریف ،
میلاد شریف اور دیگر عیدوں کے موقع پر کلام پاک کا ختم فرماتے ۔
حضرت خواجہ صاحب نہیایت وسیع المشرب بزرگ تھے اپنے مریدین کودوسرے مذہب کے ساتھ انس ومحبت کا برتاؤ کرنے کاحکم دیتے تھے آپ نے تلقین کی کہ اپنے مذہب ، تہذیب وتمدن پر عمل پیرا ہوا ور غیر مذہب لوگوں سے نفرت کا رویہ اختیار نہ کرو آپ کے اخلاق حسنہ کے سبب ہزاروں ہندو ، سکھ آپ کے دست مبارک پر بیعت ہوکر دائرہ اسلام میں داخل ہوئے نومسلم کی آپ بہت خدمت کرتے اور ان کو قرآن پاک پڑھنے اور دینی تعلیم حاصل کرنے کی ترغیب فرماتے ۔ آپ کی ترغیب اور توجہ سے بہت سے نومسلموں نے علوم عینیہ پر عبور حاصل کیا اور اپنے وقت کے معتبر علماء کی صف میں شامل ہوئے ان میں سے چند ایک کے نام یہ ہیں۔
حضرت خواجہ غلام حسن سواگ صاحب تسلیم ورضاکے پیکر تھے خداکی قدرت پر متوکل رہتے تھے خداکی قدرت پر متوکل رہتے تھے آپ کے ابتدائی ۹/۱۰سال نہایت مفسلی میں گذرے لیکن آپ نے کسی کے سامنے دست سوال دراز نہیں کیا آپ فرماتے ہیں جس میں تعلیم تسلیم ورضا نہیں وہ فقیر نہیں کہلاسکتا آپ کی زبان مبارک سے اکثریہ سرائیکی بیت سنا جاتا۔
پیر سکھائی ایہہ پریت بہہ حجر ے یاوچ مسیت
پھٹاپرانا کپڑاپا بہاپر وتھاٹکڑاکھا
غیردے درتیں مول نہ جا
یعنی پیرنے مجھے یہ طریقہ سکھایا ہے کہ تو حجرے یا مسجد میں بیٹھ کر عبادت کر پھٹاپرانا کپڑا پہن لے روکھی سوکھی روٹی کھالے مگر کسی غیر اللہ کے آگے دست سوال درازنہ کر۔
حضرت خواجہ نے رشد وہدایت کاکام جاری رکھا آپ پر مقدمات بھی قائم ہوئے ۲۸جنوری ۱۹۲۳ء میں آپ کو ایک مقدمہ کے سلسلہ میں حبس دوام بعبور دریائے شور کی سزابھی سنائی گئی لیکن آپ صبر ورضاپر قائم رہے ۱۸/اپریل ۱۹۲۴میں ہائی کورٹ نے آپ کو مقدمہ مذکورسے بری کردیا انہی دنوں حضرت خواجہ پر بڑھاپے کے آثار ہو یداہوچکے تھے بخار کے زور اور خوراک کے اختصار کی وجہ سے کمزوری اور ضعیفی میں اضافہ ہوگیا اور انقاہت کے باوجود آپ تمام تراویح بھی اداکرتے رہے۔
موت کا تو ایک دن مقرر ہے لیکن اولیا ء اللہ تور ہر وقت فرشتہ موت کا نتظار کرتے ہیں کہ وہ کب آئے گا اور وصل حبیب کا باعث بنے گایوں ۱۳جمادی الاؤل ۱۳۵۸ھ اتوار کی رات یہ شہباز ولایت اپنے خالق حقیقی سے جاملے۔
شہباز قدس میں صاحبزادہ محمد اقبال باروی لکھتے ہیں۔ حضرت خواجہ سواگ کا انتقال پر ملال متوسلین پراور مریدین پر بجلی بن کر گراتاریک عہد کی روشنی بجھ گئی ہرسو اندھیرا ہی اندھیر سمنٹ آیا وہ ہمہ سفت انسان جو ایک روح دل نواز تھا پیکر حسن وخوبی، ستاروں کی تنک تابی اور شب ماہ کا ایک کیف جاوداں تھا جو رونق چمن اور انجمن ہستی تھا وہ جس نے امام ربانی مجد دالف ثانی کی تحریک کا ایک پورا باب رقم کیا تھا وہ دنیا کی مادی نظروں سے دور کہیں سربستہ افق میں ڈوب چکاتھا۔
آپ کے وصال کی خبر آنا فانادوردراز علاقوں میں پھیل گئی ہندووں نے خوشی منائی کہ آج تیغ براں نیام میں چلی گئی دشمن خوش تھے کہ آج اسلامی تصوف کی درخشاں کرن روپوش ہوگئی لیکن وہ یہ نہیں جانتے تھے کہ ہرگزنمیردآنکہ دلش زندہ شدبعشق ثبت است برجریدۂ عالم دوام کا
آپ کا جنازہ قصبہ کروڑ سے گذررہاتھاکہ ایک ہندو نے بڑے غرور سے کہاکہ کیا یہی وہ ہے جو ہندووں کو بیک نگاہ مسلمان کرکے
دکھائے۔ خداشاہد ہے کہ جونہی جلوس جنازہ نگاہوں سے اوجھل ہوالوگوں نے دیکھاکہ وہی ہندو’’کلمہ نبی داساری عمراں داگاہنا‘‘پڑھاتا ہوا جلوس جنازہ کی طرف رواں دواں تھا۔
آپ اپنے دورکے ایک شعلہ مستعجل تھے جن کی شعلہ نوائی سے شمع ایمان جل اٹھی تھی آپ ایک سچائی تھے جس کی صداقت نے بیگانوں سے بھی خراج تحسین وصول کیا۔
آپ کی وفات پر مختلف تاریخیں کہی گئیں دوست محمد شائق نے لکھا ہے:۔
غلام حسن صاحب ،زہدوعرفان ، یہ منظور سرکار خیر البشر ہے ۱۳۵۸ھ
مولانا محمدافضل صاحب مرحوم نے یہ فقرہ کہا تھا:۔
غلام حسن حمائی ،دین الہٰی ،۱۳۵۸ھ۔
بشکریہ اولیائےلی










