حاجی ظفر اقبال گجر اور کہانی دو یتیم بچیوں کی

تحریر ۔علی امجد چوہدری کے قلم سے سٹارنیوز پر

ان دونوں بچیوں کی عمر بالترتیب 21 اور 19 سال ہے والد کا سایہ لگ بھگ سات سال پہلے سر سے اٹھ چکا تھا والد کی وفات ان بچیوں اور ان کی بیوہ ماں کے لیئے بڑا امتحان تھا مگر اس سے بھی بڑا امتحان ان کی باعزت رخصتی تھی اور یہ بیوہ خاتون ناقابل یقین حد تک مایوس تھی سمندوآنہ سے ایک جاننے والے نے رابطہ کیا اس کے بعد میں نے مسلسل چھ صاحب ثروت افراد سے رابطہ کیا ان بچیوں کے جہیز اور دیگر اخراجات کے حوالے سے انکار تو کسی نے بھی نہیں کیا مگر فوری مدد کے لیئے بھی عذرموجود تھے جن سے روابط کیئے گئے ان میں سیاست سے تعلق رکھنے والی شخصیات کے ساتھ ساتھ بڑے زمیندار بھی شامل تھے ایک لمحے کے لیئے مایوسی بھی تھی مگر اچانک خیال ایک سال قبل پر چلا گیا جب ایک بے گھر گھرانے کو کھلے آسمان تلے کسی مسیحا کی تلاش تھی اور میری ریکوسٹ پر حاجی ظفر اقبال گجر سامنے آئے تھے وہ خاندان اب کھلے آسمان تلے نہیں بلکہ اپنی چھت تلے ہے تاہم میرا تزبزب ابھی بھی برقرار تھا کیونکہ اس خاندان کی مدد کے بعد بھی بہت سارے ایسے واقعات کا عینی شاہد تھا جب حاجی صاحب کی طرف سے مساجد بیوگان اور یتیموں کو بھاری رقم کی فراہمی کی گئی تھی جن میں اکیلے کلمہ چوک کی مسجد کے لیئے تقریبا تین ملین کا عطیہ بھی شامل تھا اور میرا خیال تھا کہ کسی ایک ہی شخصیت کو بار بار approach کرنا مناسب نہ ہو مگر ان یتیم بچیوں کی مجبوری کو مدنظر رکھتے ہوئے رابطہ کیا تو انکار نام کی شئے سرے سے تھی ہی نہیں ان کی رخصتی کے تمام اخراجات کی حامی بھری ان بچیوں کی رخصتی باعزت طریقے سے ہو چکی ہے اور اس بیوہ کے سر سے بڑا بوجھ اتر چکا ہے تاہم اس خاتون کی حاجی صاحب کے لیئے دعاؤں کا سلسلہ مسلسل جاری ہے جو ہوتے تو سعودی عرب میں ہیں بڑے بزنس مین ہیں نہ سیاست کا حصہ ہیں اور نہ ہی تھانہ کہچہری کے زریعے دھونس اور جبر کے بس احمد پور سیال کے لوگوں کے لیئے صرف خاموش مسیحا ہیں
Salute Haji sahib

علی امجد چوہدری