واقعہ پنجاب کالج
تحریر متین قیصر ندیم
نازل کر اب عیسیٰؑ کو، اب بھیج خدایا مہدیؑ کو
دیکھ دجال آزاد ہوئے، اور پھولوں کے کیا حال ہوئے
۔
پنجاب کالج کے واقعہ نے والدین کو ذہنی کوفت و اذیت میں مبتلا کر دیا ہے۔میری قوم کی بہن بیٹیوں کیلے نہ پارک محفوظ نہ کالج محفوظ نہ بازار محفوظ نہ گھر محفوظ پھر یہ کیا کریں کہاں جائیں ۔کبھی چوک میں سکول جاتی بچی کو امیر کبیر گھر کی بگری رئیس زادی نتاشہ شراب میں دھت طالبہ کی جان لے لیتی ہے سسٹم اور اپر سوسائٹی اسکے ساتھ ملکر ۔۔ُغریب کی بے بسی کا تماشہ بنا کر دو الگ الگ نظام اور دورخی معاشرتی بگاڑ کی نشاندہی کی ۔اب قوم کی بیٹی *کنڑا سلیم* تعلیمی درسگاہ میں اپنی عزت سے گئی جان سے گئی ۔چینل مافیا اور سیاسی سرپرستی واقعے کو پوائنٹ سکورنگ کی حد تک سیریس ہیں اہل دانش غور کرین ماں کی التجا کیلے اٹھے ہاتھ زلزلہ نہ بنا دیں باپ کی أنسو سے تر ڈاڑھی سونامی نہ لے آیے ۔میرے دیس کی بیٹیأں ۔۔۔۔۔انصاف کس سے مانگیں بے حس معاشرے سے ۔تعلیم کے بیوپاریوں سے وردی پہنے پہرے داروں سے ۔پارلیمنٹ میں بیٹھے غیر ملکی پٹھووں سے اقتدار میں بیٹھے بے حس نمائندوں سے ۔۔۔بیٹی رحمت ہے غیرت ہے حمیت ہے خدا کے واسطے معاشرے کو جنگل نہ بناؤ درندوں کی پرورش نہ کرو ۔۔کیا تمہارے ہمارے گھروں میں بہن بیٹیاں نہی ہیں پھر صرف یہ ملک یہ معاشرہ ایلیٹ کلاس کا ہے ۔۔۔۔۔۔۔غریبوں کو سانس لینے اور زنڈہ رہنے کا کوئی حق نہی ۔۔۔فیصلہ خود کریں اگر أسمان والا جلال میں آیا تو ۔۔۔۔ یہ دنیا یہ زمین ۔۔۔۔کھنڈر بن جائے گی ۔۔۔انسان ہو تو انسانیت دکھاؤ ورنہ پھر جنگل میں جاؤ درندوں کے ساتھ رہو ۔۔۔مردہ ضمیر والو ۔۔۔شعور میں دستک تو ہوتی ہو گی دل کی دھڑکن بڑھتی ہو گی ۔۔۔پھر ۔۔۔۔۔ُ۔کس کا انتظار ہے اب تو جاگ جاو
*اس عدالت سے ڈرنا, چاہیے جس میں نہ وکیل ہوگا، نہ گواہ, اور نہ دلائل صرف ایک, اعلان ہوگا*
*وَامۡتَازُوا الۡيَوۡمَ اَيُّهَا الۡمُجۡرِمُوۡنَ*
*_اے مجرموں آج الگ ہوجاؤ
_*تیری میری کی ھوندی اے
دھی تے ساریاں دی دھی ھوندی اے
از قلم محمد متین قیصر ندیم احمد پور سیال






