ناقص کارکردگی
تحریر عبد الستار سپرا
حکمران طبقہ کی ناقص حکمت عملیوں سے ملک میں غربت کی شرح بڑھ رہی ہے:
عالمی بینک نے پاکستان میں رواں سال غربت کی شرح 40.5 فیصد تک جانے کا انکشاف کیا ہے:
اتحادی حکومت کے وزراء و مشیروں کا سب اچھا کا راگ الاپنا قوم کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے مترادف ہے:گفتگو
بے روزگاری سے پریشان حال سالانہ لاکھوں پاکستانی خلیجی ممالک سمیت دنیا کے دیگر ممالک جانے پر مجبور ہو رہے ہیں:
بڑھتی غربت میں کمی کے لیے زبانی کلامی دعووں اور باتوں کی بجائے ملک میں روزگار کے مواقع بڑھانے پر توجہ دینے کی ضرورت ہے
حکمران طبقہ کی ناقص حکمت عملیوں اور ناکام پالیسیوں کی وجہ سے ملک میں غربت کی شرح بڑھ رہی ہے،عالمی بینک نے پاکستان میں رواں سال غربت کی شرح بڑھ کر 40.5فیصد تک جانے کا انکشاف کرتے ہوئے معاشی استحکام کے لیے سیاسی اتفاق رائے اور آئی ایم ایف پروگرام پر عملدرآمد ضروری قرار دیا ہے۔سال2023ء میں غربت کی شرح 40.2فیصد تھی جوکہ اب کم ہونے کی بجائے مزیدبڑھتی ہوئی نظر آرہی ہے،پاکستان میں قرضوں کی شرح اس سال 72.4 فیصد سے 73.8 فیصد تک جانے کا تخمینہ ہے جبکہ اگلے مالی سال پاکستان کے ذمہ قرض کی شرح مزید بڑھ کر 74.7 فیصد تک جانے کا بھی خدشہ ہے اور مقامی کرنسی کی ترسیل 14.2 فیصد سے بڑھ کر 16.1 فیصد تک پہنچ گئی جس کی وجہ سے بھی پاکستان میں مہنگائی کی شرح میں اضافہ ہوا ہے مگر اس کے باوجود اتحادی حکومت اور وزراء و مشیر سب اچھا ہے کا راگ الاپ رہے ہیں جوکہ قوم کی آنکھوں میں دھول جھونکنے اور انہیں مزید مسائل و پریشانیوں کی دلدل میں دھکیلنے کے مترادف ہے۔ بڑھتی ہوئی غربت میں کمی کے لیے زبانی کلامی دعووں اور باتوں کی بجائے ملک میں روزگار کے مواقع بڑھانے توجہ دینی ہوگی اس سے جہاں بے روزگاری کا خاتمہ ہوگا وہاں مہنگائی بھی کم ہوگی۔ بے روزگاری سے پریشان حال سالانہ لاکھوں پاکستانی خلیجی ممالک سمیت دنیا کے دیگر ممالک جانے پر مجبور ہیں جہاں انہیں روزگار کی تلاش میں سنگین مشکلات کا سامنا الگ سے کرنا پڑتا ہے اگر حکومت انہیں اپنے ملک میں روزگار فراہم کرے تو اس کے مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔








