جھنگ کے تھانوں میں ریفارمز ڈی پی او جھنگ اور رانا محمد اسلم

تحریر علی امجد چوہدری

رانا محمد اسلم جھنگ کے طاقتور سیاسی راہنما ہیں یہ جھنگ کے گنتی کے ان چند سیاستدانوں میں شامل ہیں جنہوں نے کبھی شکست کا منہ نہیں دیکھا ہمیشہ ناقابل شکست رہنے والے رانا محمد اسلم کی چند ایسی خصوصیات ہیں جنہوں نے رانا صاحب کو شکست کا منہ بھی نہیں دیکھنے دیا ان میں سب سے اہم خصوصیت یہ ہے کہ یہ بولتے ضرور ہیں اور کافی زیادہ بولتے ہیں خوداعتمادی اور الفاظ کا چناؤ بھی شاندار ہے مگر یہ کبھی اپنے مفاد کے لیئے نہیں بولے یہ ہمیشہ عوامی مفاد کے لیئے بولے جھنگ کی محرومیوں کے حوالے سے شاید ہی کوئی ایسا پہلو جس پر رانا صاحب نے بالعموم اور گڑھ مہاراجہ گڑھ موڑ کے لیئے بالخصوص اپنی آواز بلند نہ کی ہو گڑھ مہاراجہ کے لوگوں کے لیئے وہ لمحہ انتہائی تکلیف دہ تھا جب گڑھ مہاراجہ میونسپل کمیٹی کا status ختم کرکے اسے تنزلی سے ٹاؤن کمیٹی بنایا جا رہا تھا رانا صاحب اس وقت اس status کو برقرار رکھنے کی جد وجہد کرنے والے فرنٹ لائن سولجر تھے کمشنر فیصل آباد سمیت اعلیٰ سرکاری آفیسرز کے سامنے جس طرح انہوں نے گڑھ مہاراجہ کا مقدمہ پیش کیا شاید کوئی اور ایسے نہ کرپاتا خیر یہ تھیں ماضی کی باتیں اب آتے ہیں موجودہ واقعہ پر
رواں ہفتے ڈی پی او جھنگ کیپٹن ریٹائرڈ بلال افتخار گڑھ مہاراجہ آئے انہوں نے کھلی کچہری کا انعقاد کیا سائلین کے ساتھ چند سماجی شخصیات نے بھی عوام کی ترجمانی کی ان میں رانا محمد اسلم بھی تھے انہوں نے جس خوبصورت انداز سے پولیس کی کارکردگی پر گفتگو کی اس نے ڈی پی او صاحب کی غیر معمولی توجہ حاصل کی رانا صاحب تھانوں کی خوبصورتی کے حوالے سے انتہائی مداح تھے ان کے مطابق تھانوں کی خوبصورتی اچھے آفیسرز کی تعیناتی بلاشبہ ڈی پی او کا شاندار قدم تھا تاہم عوام کا مزید اعتماد حاصل کرنے کے لیئے ان کے ساتھ اچھے behavior کو مزید بہتر کیا جائے ڈی پی او جھنگ جس انہماک سے رانا صاحب کی طرف متوجہ تھے حاضرین کو اسی وقت اندازہ تھا کہ ان کی تجاویز پر فوری عمل ہو گا اور پھر تمام اندازے درست نکلے ان تجاویز پر فوری عمل ہو باقاعدہ سرکلر جاری ہوا کہ تھانے میں آنے والے سائلین کے ساتھ رویے کو مزید بہتر کیا جائے آنے والے سائلین کو اچھی میزبانی کے تحت پانی چائے تک پیش کی جائے یہ ایک اچھی اور شاندار روایت ہوگی پولیس اور عام سائلین کے درمیان فاصلے کم کرنے میں مدد ملے گی اور ایسا ہونا بھی چاہیئے مگر اس طرح کی positivity کی طرف توجہ تب ہی ہو سکتی ہے جب نشان دہی کرنے والے رانا محمد اسلم جیسے مثبت خیالات کے حامل ہوں

علی امجد چوہدری