پاکستان اور افغانستان کے درمیان بہتر تعلقات کی ضرورت
تحریر: اللہ نوازخان
allahnawazk012@gmail.com
پاکستان اور افغانستان دونوں پڑوسی ہیں اور پسماندگی کا بھی شکار ہیں۔ان کے درمیان اتار چڑھاؤ آتے رہتے ہیں،خصوصا حکومتوں کے اختلافات بعض اوقات بہت ہی بڑھ جاتے ہیں لیکن عوامی سطح پربہتر ہی رہتے ہیں۔پاکستان نے افغانستان کا ساتھ اس وقت دیا تھا جب روس نے افغانستان پر حملہ کر دیا تھا۔روس کی شکست کےبعد تعلقات میں بھی اتار چڑھاؤ آتے رہے۔حالیہ دنوں میں بھی دونوں ممالک کے درمیان جھڑپیں ہوتی رہی ہیں۔افغانستان میں کچھ دہشت گرد گروپ ہیں،جو پاکستان میں دہشت گردی کروا رہے ہیں۔اس بات کو کئی دفعہ پاکستان حکومتی سطح اور سفارتی سطح تک اٹھا بھی چکا ہے۔پاکستان سے ڈالرز کی سمگلنگ بھی افغانستان کی طرف ہوتی رہی ہے۔سرحد پر بھی تنازعہ کئی دفعہ شدت اختیار کر لیتا ہے۔پاکستان ملک کو محفوظ کرنے کے لیےباڑھ لگانے کا خواہش مند ہے،لیکن افغانستان اپنے مفاد کے لیے نہیں چاہتا کہ پاکستان باڑھ لگا کر سرحد کو سیل کر دے۔افغانستان اور پاکستان کے درمیان دوستانہ تعلقات دونوں ممالک کی عوام کے لیے بہت ہی فائدہ مند ہیں۔سیکیورٹی کے لحاظ سے بھی ایک دوسرے کو اچھا خاصا فائدہ پہنچا سکتے ہیں۔بارہا اس بات کا بھی پتہ چلا ہے کہ انڈیا اور افغانستان کے تعلقات بہت ہی بڑھ رہے ہیں۔ان تعلقات میں سفارتی کے علاوہ تجارتی تعلقات کی بڑھوتری بھی شامل ہے۔انڈیا آسانی سےپاکستان میں دہشت گردی کروا سکتا ہے،اس بات پر افغانستان کو سنجیدگی سے غور کرنا ہوگا۔پاکستان میں پھیلتی دہشت گردی یا بد امنی افغانستان کو خود بھی نقصان پہنچا سکتی ہے۔افغانستان پہلے بھی جنگوں کی وجہ سے اجڑا ہوا ہے،اندرونی طور پر بھی انارکی افغانستان کو مسلسل نقصان پہنچا رہی ہے۔افغانستان اور پاکستان مشترکہ طور پرایک لائحہ عمل ترتیب دے سکتے ہیں،جو دونوں ممالک کےلیےبہترہے۔
لاکھوں افغانی پاکستان میں پناہ گزین ہو چکے ہیں۔ایک رپورٹ کے مطابق 14 لاکھ سے زیادہ رجسٹرڈ افغانی ہیں اور غیر رجسٹرڈ افغانیوں کی تعداد بھی زیادہ ہے۔کئی افغانی منفی سرگرمیوں میں ملوث پائے گئے ہیں۔پاکستان لاکھوں افغانیوں کا بوجھ اٹھا رہا ہے۔کثیر تعدادمیں افغانیوں کا بوجھ اٹھانا اخلاقی اور اسلامی لحاظ سےاحسن عمل ہےاور پڑوسی ہونے کے لحاظ سے بھی حق بھی بنتا ہے،لیکن افغانیوں کو بھی اس بات کا احساس کرنا ہوگا۔افغانستان میں اب بھی کئی جنگجو گروپ پائےجاتے ہیں اورپاکستانی بارڈر کے ساتھ کئی دہشت گرد تنظیمیں اپنےکیمپ لگا چکی ہیں،افغانستان کو ان کے خلاف قدم اٹھانا ہوگا۔اس بات سے انکار نہیں کرنا چاہیے کہ کئی ممالک نہیں چاہتے کہ کابل اور اسلام آبادکا اتحاد قائم رہے۔ان دو ممالک کا اتحاد صرف ان دونوں ممالک کےلیے نہیں بلکہ خطے کی بہتری کے لیے بھی ضروری ہے۔افغانستان اور پاکستان کی عوام کی اکثریت ایک دوسرے کی رشتہ دار بھی ہے،خصوصا خیبرپختون خواہ کی عوام اور افغانی پشتون ایک دوسرے سےاچھے تعلقات رکھتے ہیں۔یہ کہنا بھی درست ہے کہ پورے پاکستان میں افغانیوں کی کثیر تعداد پائی جاتی ہے۔افغانی پاکستان کے تقریبا ہر بڑے اور چھوٹے شہروں میں موجود ہیں،یہاں تک کہ دیہاتوں میں بھی پائے جاتے ہیں۔افغانیوں کے کاروبار پھیلے ہوئے ہیں۔رسم و رواج اور ثقافتی لحاظ سے بھی دونوں ممالک کی عوام ایک دوسرے سے قریب ہے۔دونوں ممالک اسلامی ہیں اور اسلام دونوں کو متحد کر سکتا ہے۔جھگڑے دونوں ممالک کے لیے نقصان دہ ہیں،اس بات کا خیال افغانستان کو کرنا ہوگا۔
افغانستان اور پاکستان تجارتی لحاظ سےبھی ایک دوسرے کے لیے فائدہ مند ثابت ہو سکتے ہیں۔افغانستان سے کئی قسم کی اشیاء پاکستان میں فروخت کی جاتی ہیں اور کئی پاکستانی مصنوعات افغانستان میں بیچی جاتی ہیں۔ایک رپورٹ کے مطابق اس تجارت کا حجم ایک ارب ڈالرتک ہے۔اب تجارتی تعلقات کم ہو رہے ہیں،ایک ارب ڈالر سے کم ہو کر 80 کروڑ ڈالرتک تجارتی حجم کم ہو چکا ہے۔افغانستان سے سیب،خربوزہ،انگور،انار اورکئی اقسام کی سبزیاں پاکستان میں فروخت کی جاتی ہیں۔اب تجارت کی کمی تشویش کا باعث بن رہی ہے۔تجارت بہت ہی کم سطح پرآگئی ہے اور اس کی کمی میں اضافہ ہو رہا ہے۔تاجروں کی پریشانی درست ہے کیونکہ آسانی سےمارکیٹ ان کو دستیاب ہو جاتی ہےاور دیگر ممالک کی طرف بھی وہ اپنی اشیاء بھیج سکتے ہیں۔افغانستان سے کئی قسم کے خشک میوہ جات بھی فروخت کے لیے آتے ہیں۔پاکستان اور افغانستان کے درمیان طورخم،چمن،خرلاچی، غلام خان اور انگور اڈہ کی صورت میں پانچ تجارتی گزرگاہیں ہیں اور ان میں طورخم اور چمن زیادہ اہمیت رکھتی ہیں۔دیگر اجناس اور مصنوعات کی تجارت دونوں ممالک کی معیشت کو مضبوط کر سکتی ہے۔اب افغانستان کی مارکیٹ میں انڈیا جگہ بنا رہا ہے،یہ تشویش ناک بات ہے کیونکہ انڈیا پاکستان کے لیےکئی قسم کے مسائل کھڑے کر سکتا ہے۔افغانستان اپنے تجارتی راستے ایران کی طرف بھی بنا رہا ہے۔پاکستان اور افغانستان کے درمیان تجارتی اور سفارتی تعلقات ایک بہتر مستقبل کے ضامن ہیں۔
کابل اور اسلام اباد کے درمیان بڑھتی کشیدگی نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔دونوں ممالک ماضی کو نظر انداز کریں اور مستقبل کے لیےقدم بڑھائیں۔افغانستان کو اس بات کا ادراک کرنا ہوگا اورجو مسائل پاکستان کے لیے پیدا کیے جا رہے ہیں ان پر کنٹرول کرنے کی ضرورت ہے۔افغانستان کی ضرورت بھی ہے کہ پاکستان کے ساتھ تعلقات بہتررہیں۔ایٹمی پاکستان افغانستان کے لیے بہترین ہمسایہ اور دوست ثابت ہو سکتا ہے۔مصلحت کا تقاضا یہی ہے کہ ماضی کو چھوڑ کر آگے کی طرف بڑھا جائے۔حکومتی سطح تک تعلقات بہتر ہونےچاہیے،تاکہ آگے بڑھا جائے۔افغانستان کو پاکستان کی جائز شکایات کا ازالہ کرنا ہوگااور اگر افغانستان بھی جائز شکایات رکھتا ہے تو اس کا بھی ازالہ کیا جائے۔دونوں ممالک کے درمیان جتنی بھی تعلقات کو بحال کرنے میں دیر لگے گی اتنا ہی نقصان دہ ہوگا۔امید رکھنی چاہیے کہ دونوں ممالک ایک دوسرے سےتعلقات بہتر سے بہتر بنانے کی کوشش کریں گے۔تجارتی تعلقات کے علاوہ عوامی سطح پر بھی بہتر تعلقات کو فروغ دینا ہوگا۔امن بھی دونوں ممالک کے لیے ضروری ہےاور امن کے لیے دونوں ممالک کو کوششیں کرنا ہوں گی۔پاکستان اور افغانستان کے درمیان بہتر تعلقات دونوں کے لیے ضروری ہیں۔








