سول نافرمانی کی تحریک کےشورمیں مذاکرات کااعلان
تحریر:اللہ نوازخان
allahnawazk012@gmail.com
سول نافرمانی کی تحریک کےشورمیں مذاکرات کااعلان
پاکستان کی سیاست اور معیشت نازک دور سے گزر رہی ہیں۔پی۔ٹی۔آئی کی طرف سے سول نافرمانی کی تحریک چلانے کا عندیہ دیا گیا ہے۔26 نومبر کو پی۔ٹی۔آئی کا احتجاج منتشر کیا گیا،تو پی۔ٹی۔آئی نےسول نافرمانی تحریک چلانے کا اعلان کر دیا ہے۔سول نافرمانی کی تحریک کےشورمیں مذاکرات کا بھی شور اٹھا ہے۔جمہوریت پسندوں کو اس اعلان سے خوشی ہوئی کہ شاید اب سیاسی حالات درست ہو جائیں۔پارلیمنٹ میں بھی مذاکرات کاذکرکیاگیااور دیگر فورمز پر بھی مذاکرات کے بارے میں بتایا گیا۔مذاکرات ضروری ہوتے ہیں،خصوصا سیاسی مکالمہ بازی بہتر ہوتی ہے۔اب کب مذاکرات شروع ہوتے ہیں،قوم کو بے چینی سے انتظار ہے۔لیکن اب کچھ بیانات آرہے ہیں کہ مذاکرات نہیں ہو سکتے،جو کہ تشویش ناک بات ہے۔بانی پی۔ٹی۔آئی کئی مہینوں سے قید ہیں اور آخری حکم ان کا ہی چلنا ہے کہ کب مذاکرات کیے جائیں؟پی۔ٹی۔آئی کی مقبولیت دیگر جماعتوں کے لیےپریشان کن ہے۔مذاکرات کے لیے پی۔ٹی۔آئی کی طرف سےپیش کی گئی شرائط حکومت آسانی سے تسلیم نہیں کر سکتی،اس لیے ضروری ہےکہ دونوں طرف لچک پیدا کی جائے تاکہ مذاکرات شروع کیے جا سکیں۔سیاسی استحکام پاکستان کے لیے بہت ہی ضروری ہے۔سیاسی استحکام سے معاشی استحکام پیدا ہوتا ہےاور جمہوریت کو فروغ ملتا ہے جس سےخوشحالی کا دور شروع ہو جاتا ہے۔مذاکرات سے ممکن ہے کے مسائل کا حل نکل آئے۔احتجاجوں اور دھرنوں سےمسائل بگڑتے ہیں،بنتے نہیں۔یہ اور بات ہے کہ پرامن احتجاج کرنا ہر ایک کا حق ہے۔یہ حق ہر سیاسی پارٹی یا دیگر پارٹیاں استعمال کر سکتی ہیں۔موجودہ دور میں احتجاج کے ساتھ مذاکرات بھی ضروری ہونے چاہیے۔
سول نافرمانی کی تحریک پی۔ٹی۔آئی کے لیے بھی خاصہ نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔سول نافرمانی میں بلوں کی عدم ادائیگی کافی مسائل پیدا کردےگی۔یہ بھی ممکن ہےکہ سول نافرمانی سے انارکی پیدا ہو جائے۔انارکی پاکستان کی سالمیت کے لیےبہت ہی خطرناک ہے۔مذاکرات کے ذریعے اگر مسائل حل ہو سکتے ہیں،تو بغیر کسی پس و پیش کے مذاکرات شروع کر دینے چاہیے۔مذاکرات اورمکالمہ بازی مہذب معاشروں کی نشاندہی کرتے ہیں اور اس سےمسائل میں کمی ہوتی ہے۔سول نافرمانی اگر کامیاب ہو جاتی ہےاور حالات خراب ہو جاتے ہیں،تو اس کی ذمہ داری کس پر ہوگی؟بگڑتے حالات میں کون اپنی جان و مال بچا پائے گا؟کئی ممالک کی مثالیں ہمارے سامنے موجود ہیں کہ وہاں انارکی پھیلی۔احتجاج اور مظاہرےاگر تشددمیں بدل جائیں توملک کئی دہائیاں پیچھے چلا جاتا ہے۔اگر پی۔ٹی۔آئی کی کچھ جائزشکایات ہیں تو ان کو تسلیم کر لینےاور شکایات حل کرنے سے بہتری کی طرف بڑھا جا سکتا ہے۔مذاکرات کے بارے میں خیال کیا جا رہا ہے کہ آسانی سے کامیاب نہیں ہوں گے،لیکن امید کا دامن نہیں چھوڑنا چاہیے۔اس سے کھٹن اوقات بھی پاکستان پر گزرے ہیں،جن سے پاکستان نکل چکا ہے۔آزادی کے وقت ہجرت،65کی جنگ،71 کا سانحہ اور دیگر کئی مشکل اور پریشان کن لمحات پاکستان پرآئےاور ان مشکلات پر قابو پالیا گیا ہے،لیکن ان دورانیوں میں پاکستان کو نقصان بھی اٹھانا پڑا۔پاکستان کو انتشار اور مشکلات سے بچانا ہر ایک کا فرض ہے۔چاہے وہ سیاستدان ہو یا عام آدمی،چاہے وہ فوج سے تعلق رکھتا ہو یا سول ادارے سے،ہر ایک کو پاکستان کو بچانے کی کوششیں کرنی ہوگی۔
موجودہ حکومت سےغلطیاں بھی ہو رہی ہیں،جن کا خمیازہ پاکستان کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔حکومت کی بنائی گئی پالیسیاں عوام کی پریشانیوں میں اضافہ کر رہی ہیں.حکمرانوں کو اس بات سے اگاہی حاصل کرنا ہوگی کہ ان کی مقبولیت بننے میں کون سی رکاوٹیں ہیں اور وہ کس طرح ختم ہوں گی؟عوام سیاستدانوں کے نعروں اور دعووں پر یقین کرنے کے لیے کیوں تیار نہیں؟ان حالات میں سیاسی پارٹیاں شدید مشکل میں ہیں۔موجودہ مخلوط حکومت مسائل کو حل کرے۔مخلوط حکومت ویسے بھی مسائل کا شکار رہتی ہےاور جب پی۔ٹی۔آئی جیسی مضبوط اپوزیشن بھی سامنے ہو،تو مسائل میں اضافہ ہی ہوتا ہے۔اب مخلوط حکومت میں شامل سیاسی پارٹیوں کے نمائندےاپوزیشن کے ساتھ مل کر مذاکرات کریں۔حکومت کی مشکلات تب کم ہوں گی،جب سیاسی استحکام آئے گا۔مذاکرات کےطویل دور درکار ہوں گے۔مذاکرات کی ناکامی کا شدید خدشہ موجود ہے،اگر کچھ نہ ہو پائے تو مڈٹرم الیکشن کرا دیا جائے۔مڈ ٹرم الیکشن ضروری نہ ہو توپھر بھی مذاکرات ہونے چاہیے۔بعض اوقات چھوٹے چھوٹے مسائل کو بڑھاچڑھا کر پیش کیا جاتا ہے،اس کےلیے پیالی میں طوفان کی اصطلاح استعمال کی جا سکتی ہے،وہ چھوٹے موٹے مسائل مذاکرات سےحل ہو جاتے ہیں۔حال ہی میں سیکرٹری اطلاعات تحریک انصاف شیخ وقاص اکرم نے کہا ہے کہ تحریک انصاف نےمذاکرات کے لیے ایک کھڑکی کھولی ہے۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ سول نافرمانی کی کال کو کچھ دنوں کے لیے موخر کر دیاگیا ہےاور جنگوں کے دوران بھی مذاکرات ہوتے ہیں۔کچھ تاثر یہ بھی پایا جا رہا ہے کہ تحریک انصاف میں کچھ عناصرایسے ہیں جو نہیں چاہتے کہ مذاکرات ہوں۔اس بات کا ہر ایک کو احساس کرنا ہوگا کہ مضبوط پاکستان ہر ایک کے لیے فائدہ مند ہے۔مذاکرات سے امید بن جاتی ہےکہ حالات درست سمت جا رہے ہیں۔مذاکرات سے سول نافرمانی کی تحریک اور احتجاج جیسے مسائل ختم ہو سکتے ہیں،تو مذاکرات شروع کر دینے چاہیے۔اب جو سول نافرمانی کے شور میں مذاکرات کی واضح آوازیں اٹھ رہی ہیں،خدا کرے کہ یہ سچ ہوں اور مذاکرات بھی کامیاب ہو جائیں۔









