گریٹراسرائیل کانقشہ

تحریر:اللہ نوازخان

allahnawazk012@gmail.com

چھ جنوری 2025 کو اسرائیل کے سرکاری سوشل میڈیا اکاؤنٹ سے ایک نقشہ گریٹر اسرائیل کے نام سے جاری کیا گیا ہے۔گریٹر اسرائیل کے نقشے میں دریائے نیل سے لے کر دریائے فرات تک اورترکی،اردن، شام،لبنان،فلسطین اور دیگر عرب ممالک کو گریٹر اسرائیل کا حصہ دکھایا گیا ہے۔سعودی عرب اوردیگر ممالک بھی اسرائیلی نقشے میں شامل ہیں۔اسرائیل نے یہ کوئی پہلی دفعہ نہیں کہا کہ یہ علاقے ہمارے ہیں بلکہ برسہا برس سے ایساکہا جا رہا ہے۔اگر اس بات پر کسی کو حیرت ہوئی ہو کہ گریٹر اسرائیل کا نقشہ اب ظاہر ہوا ہے،تو اس پر حیرت کا اظہار کیا جا سکتا ہے کیونکہ یہ دعوے کافی عرصے سے کیے جا رہے ہیں۔اسرائیل کے اس انتہا پسندانہ عمل کی سعودی عرب،متحدہ عرب امارات، اردن اورفلسطین کے علاوہ کئی ممالک نےشدید مذمت کی ہےاور اس نقشےکو مسترد کر دیا۔سعودی عرب کاکہناہے کہ اس طرح کےانتہا پسندانہ اقدامات کو اسرائیل کے فلسطین پر قبضے کو مستحکم کرنے، ریاستوں کی خود مختاری پر کھلم کھلا حملہ جاری رکھنے،عالمی قوانین اور اصولوں کی خلاف ورزی کرنے کے عزائم کو ظاہر کرتے ہیں۔سعودی عرب کےوزیر خارجہ نے بین الاقوامی برادری پر زور دیا کہ وہ اسرائیل کی خلاف ورزیاں روکنے میں اپنا کردار ادا کرے۔سعودی عرب اگر اب جاگا ہےتو پھر بھی بہتر ہے۔سعودی عرب اسلامی دنیا میں بھی اپنا مقام رکھتا ہے اور عالمی طور پر بھی ایک اہم حیثیت کا حامل ہے،لہذاسعودی عرب ایک بلاک بنا کرمشرق وسطی میں بد امنی کا خاتمہ کر سکتا ہے،لیکن سمجھ نہیں آتی کہ ایسا کرنے سےکیوں روگردانی کی جا رہی ہے۔صرف بیانات یا اپیلوں سے مسائل حل نہیں ہوتے بلکہ اس کے لیےعملی اقدامات کرنا ہوتے ہیں۔ترکی، اردن،شام، لبنان، فلسطین اور دیگر عرب ممالک کو گریٹر اسرائیل کا حصہ دکھانا بہت ہی تشویش ناک بات ہے۔اسرائیل اپنےارادے ظاہر کر کےدیگر علاقوں پر قبضہ کرنا چاہتا ہے۔قطری وزارت خارجہ کابھی کہنا ہے کہ یہ اقدام دوسرے ممالک کی خود مختاری کی سنگین خلاف ورزی ہے۔بیانات اور مذمت سے اسرائیل نے کب رک جانا ہے؟جتنی جلدی اسرائیل کو روکا جا سکے،روک دینا چاہیے مزید دیرکرنے سے حالات سنگین رخ اختیار کر لیں گے۔
اسرائیل ان ممالک کو بھی اپنا حصہ بتا رہا ہے،جواسرائیل سے اچھے تعلقات رکھتے ہیں۔مثلا مصر اور اردن کے اسرائیل کے ساتھ دیرینہ تعلقات ہیں،اس کے علاوہ یو اے ای، اردن اور سوڈان نےغیر قانونی اسرائیلی ریاست کو تسلیم بھی کیا ہوا ہے۔دوسرے کئی ممالک بھی اسرائیل کے لیے نرم گوشہ رکھتے ہیں،لیکن وہ بھی اسرائیل کے نشانے پر ہیں۔ایران کے ساتھ متعدد جھڑپیں ہو چکی ہیں اور اس بات کا قوی امکان ہے کہ کچھ عرصہ کے بعد ایران اور اسرائیل جنگ چھڑ جائے۔لبنان اور یمن کے ساتھ بھی جنگ کا ماحول بناہواہے۔اسرائیل اب بھی غزہ پر حملے کر رہا ہے اور بچےکھچے غزہ کے مکین اس کی درندگی کا شکار ہو رہے ہیں۔اس کے بعد دوسروں کا نمبرآنے والا ہے۔اسرائیل کی عالمی قوانین کی خلاف ورزیاں مہذب دنیا کے لیے تشویش کا باعث بنی ہوئی ہیں،کیونکہ اسرائیل اس کےبعد دوسرے ممالک کی طرف بھی دیکھے گا۔صرف مشرق وسطی میں جو آگ بھڑکی ہوئی ہے اس کا ذمہ دار اسرائیل ہی ہے۔مشرق وسطی کےجنگ زدہ علاقوں سے نقل مکانی کی جا رہی ہے اور اس کا بوجھ دوسرے ممالک پر بھی پڑ رہا ہے۔اگراس آگ کو روکنے کی کوشش نہ کی گئی تو دنیا کا وسیع حصہ شدید متاثر ہو جائے گا۔آگ اور بارود کا کھیل نسل انسانی کو صفحہ ہستی سے مٹا رہا ہے۔سعودی عرب اور دیگر ممالک کے لیے ضروری ہو گیا ہے کہ فوری طور پرپیش بندی کریں تاکہ مستقبل پرامن ہو جائے۔
عالمی برادری کا نوٹس نہ لینا بہت ہی افسوسناک ہے۔اسلحہ بیچنے والے ممالک کے لیےجنگی ماحول بہت ہی فائدہ مند ثابت ہو رہا ہے۔مشرق وسطی میں بڑھکتی آگ،اسلحہ ڈیلروں کے لیےبہت ہی فائدہ مند ثابت ہو رہی ہے۔اسلحہ کی فروخت،کسی کے بینک بیلنس میں اضافہ کر رہی ہے اور کسی کوتباہ کر رہی ہے۔ڈونلڈ ٹرمپ جو 20 جنوری کوامریکی صدارت کا حلف اٹھانے والے ہیں،انہوں نے بھی پریس کانفرنس کی ہے کہ میرے حلف اٹھانے سے پہلے اسرائیلی یرمغالی رہا کر دیے جائیں۔کچھ اس بات کی توقع کر رہے تھے کہ ٹرمپ مشرق وسطی میں امن لائیں گے،لیکن اس بیان سے ان کی تکلیف میں اضافہ ہوا ہے۔ٹرمپ کو چاہیے تھا کہ جنگی ماحول کو ختم کرنے کی کوشش کرتے۔دیگرعالمی برادری بھی پوری قوت سےمشرق وسطی میں امن لانےکی کوشش کرے۔کئی مغرب ممالک میں اسرائیل کے خلاف احتجاج بھی ہو رہا ہےاور عالمی عدالت انصاف میں اسرائیل کے خلاف مقدمات بھی درج کیے گئے ہیں۔جو بھی امن کےلیےآواز اٹھا رہا ہے وہ قابل تعریف ہے۔
عرب لیگ نے بھی اس نقشے کی مذمت کی ہےاور فلسطینی اتھارٹی کے ترجمان نبیل ابوردینہ نے اس نقشہ کو بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔فلسطین ویسے بھی لہو لہان ہوچکا ہےاور اب دیگر ممالک تباہی کے خدشے سے دوچار ہیں۔اسرائیل اپنے نقشےکے ذریعے وضاحت کر چکا ہے کہ اس کے ارادے کیا ہیں؟مشرق وسطی کی صورتحال پر گہری نظر رکھنے والی تقی نصیرات کہتی ہیں کہ گریٹر اسرائیل کا تصور اسرائیلی معاشرے میں رچ بس چکا ہےاور حکومت سے لے کر فوج تک اسرائیلی معاشرے کے بہت سے عناصر اس کے علمبردار ہیں۔اس سے معلوم ہو جاتا ہے کہ اسرائیل کی فوج،عوام اور سیاستدان کس طرح گریٹر اسرائیل کے لیے کام کر رہے ہیں۔تقی یہ بھی کہتی ہیں کہ غیر قانونی اسرائیلی آباد کار زبردستی فلسطینیوں کے زیتون کے باغات کو جلا کر،انہیں ان کے گھروں سے بے گھر کر کے اور انہیں دھمکا کر انہیں اپنی حفاظت کے لیے بھاگنے پر مجبور کر رہے ہیں۔سوشل میڈیا پرکچھ ایسی تصویروں کے بارے میں پتہ چل رہا ہے کہ اسرائیل کے کچھ فوجیوں نے ایسے لباس پہنے ہوئے ہیں جن پر گریٹر اسرائیل کا نقشہ ہے۔گریٹر اسرائیل کا منصوبہ اگر کچھ عرصہ کے لیےملتوی بھی ہو گیا تو مستقبل میں ضرور اس پر عمل کرنے کی کوشش کی جائے گی۔اسرائیل کو روکنے کی کوشش کی جائے،ورنہ امن کا قیام مشکل کی حد تک ناممکن ہے۔کئی ایسے ممالک جو خواب خرگوش کےمزے لے رہے ہیں اور مطمئن ہیں کہ ان کو کچھ نہیں کہا جائے گا،وہ ان ممالک سے سبق سیکھیں جو اسرائیل کے ساتھ بہترین تعلقات رکھتے ہیں لیکن پھر بھی گریٹر اسرائیل کے نقشے میں ہیں۔غزہ کے بعد اسرائیل پوری یکسوئی کے ساتھ دوسرے علاقوں کی طرف متوجہ ہو جائے گا۔غزہ میں اب بھی قتل عام کا سلسلہ جاری ہے،اس کو رکنا چاہیے۔اس بات کا قوی امکان ہے کہ اگر اسرائیل نےگریٹر اسرائیل کے منصوبے پر عمل شروع کر دیا،تو دنیا میں وسیع انسانی آبادی قتل عام کا شکار ہو جائے گی۔اس بڑی تباہی سے بچنے کے لیےہر ایک کو کوششیں کرنی چاہیے،خصوصا اسلامی ممالک کم از کم اس مسئلہ پرہی اتحادکر لیں۔مسلمانوں کی نااتفاقی وسیع نقصان پہنچا رہی ہے۔گریٹر اسرائیل، اسرائیلوں کا صرف خواب نہیں بلکہ مستقبل میں اس پر عمل کرنے کے بھی خواہش مند ہیں۔