اس درویش صفت انسان نے کئی سال سورج کو چونڈہ کی سرزمین پر طلوع یاغروب ہوتے نہیں دیکھا۔
تحریر : زبیر احمد صدیقی 

پھول کِھلتاہے ۔۔۔کِھلکر بِکھر جاتاہے۔۔۔یادیں رہ جاتی ہیں انسان بچھڑ جاتاہے۔۔
شہداء اسلام کی بستی چونڈہ محاز سے تعلق رکھنے والے ملنسار محبت کرنے والے طبیت میں تلخی نرم وملائم ہاتھوں سے مصافحہ کرنے والی پُر وقار شخصیت کے مالک مقصود بٹ ہمارے بہت پیارے دوست جوکہ اس دنیافانی سے گزرے ایک سال بیت گیا۔دلوں میں آج بھی راج کرتے ہیں جب بھی کسی جگہ شہر چونڈہ یاسیالکوٹ کسی محفل میں کوئی زکر چھڑ جائے تو مقصود بٹ کو لازمی یادکیا جاتاہے شخصیت ہی ایسی تھی۔ کہ فلاح وقت ٹیوٹا میں بیھٹے یہ بات کہی تھی فلاح آدمی کیساتھ بٹ نے سفر کے دوران اسطرح بولا تھا ۔۔۔ٹرین پر سفر کے دوران۔۔۔۔۔ایک بار بٹ ریلوے اسٹیشن سے پولیس اسٹیشن پہنچ گیا۔اسٹیشن ماسٹر کیساتھ بات ہی کچھ ایسے لہجہ میں کی تھی۔ مقصود بٹ نے سیالکوٹ ڈراماں والا چوک میں ایک چھوٹی سی دُکان رکھی تھی۔ جس میں اخبار رسالے ڈائجسٹ ،میگزین فروخت کرتے تھے ،نماز عصر کے وقت ان کے چھوٹے بھائی پہنچ جاتے ۔۔۔۔خونی روڈ کا شہزادہ۔۔۔۔ شاہد بٹ ان کا ساتھ دیتے دکان پر وقت دیتے تھے ۔مقصود بٹ (مرحوم )نماز فجر کے ٹائم سیالکوٹ کے لیے چونڈہ سے روانہ ہوتے اور واپسی کبھی موسم کے حساب سے 8یا 9 کبھی کبھار دس بھی بج جاتے لیکن ان کے بھائی شاہد بٹ جوکہ خونی روڈ کے شہزادے کہلاتے ہیں۔ ان کیساتھ دُکان پر خرم شہزاد اور راقم نے مقصود بٹ کے لیے دعائے مغفرت کی۔ہمارے چونڈہ شہر سمیت جو لوگ اکثر ٹرین یا ٹیوٹا ہائی ایس پر سفر کرکے سیالکوٹ آتے تو بٹ صاحب کے پاس حاضری لگوا کر جاتے کبھی اخبار پڑھتے تقریبا چونڈہ سمیت گردو نواح سے آنے والے تمام سٹوڈنٹس سکول کالج ملازمین سرکاری غیر سرکاری ہر شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے مقصود بٹ کی دُکان پر چکرضرور لگا کر جاتے۔۔۔ مزاق کرتے خوش ہوتے کبھی اپنا سامان ادھر ہی چھوڑ کر چلے جاتے ۔ہمارا بہت پیارا دوست تھا جس نے اپنے قیمتی سال سیالکوٹ میں کی نظر کردیے ہاتھوں میں سامان اُٹھائے ہنستے مسکراتے لوگوں سے ملتے سیاسی پارٹیوں کے قائدین پر بحث مباحثہ کرتے ۔۔۔۔ چونڈہ شہر میں رات گئے داخل ہوتے اور طلوع سحر سے قبل سیالکوٹ کے لیے روانہ ہوجاتے زندگی یونہی تمام ہوگئی ۔۔۔۔اگاہ اپنی موت سے کوئی بشر نہیں ساماں سو برس کا پل کی خبر نہیں۔۔۔۔۔آپ سب دوست احباب جو مقصود بٹ ( مرحوم ) کے دوست ہیں یا نہیں جانتے ہیں یا نہیں بحثیت کلمہ گو سب سے دعائے مغفرت کے لیے اپیل ہے۔
اللہ تعالی مرحوم کی دنیاوی لغزشیں معاف فرمائے اورکل روزقیامت سید الااولین وآخرین خاتم رُسل ،خاتم النبین پیارے آقا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت سے بہرہ مند فرما کر جنت میں اعلی مقام عطا فرمائے لواحقین کو صبر جمیل عطافرمائے آمین ثمہ آمین










