*ازدواجی بحران: خلع اور طلاق میں اضافہ کیوں ؟؟*

تحریر۔۔عبد الستار سپرا

پاکستان میں خلع اور طلاق کے کیسز میں بے پناہ اضافے کی شرح ایک سنگین سماجی مسئلہ بنتی جارہی ہے۔ فیملی کورٹس میں طلاق اور خلع کے بڑھتے ہوئے کیسز ایک ایسی حقیقت کی عکاسی کرتے ہیں جو نہ صرف خاندانی نظام کو متاثر کر رہی ہے بلکہ سماجی توازن کو بھی بگاڑ رہی ہے۔
خلع کے کیسز میں اضافے کی وجوہات پر روشنی ڈالنے کے لیے مختلف زاویوں سے مسئلے کا جائزہ لینا ضروری ہے۔
مہنگائی، بیروزگاری، اور مالی مشکلات کی وجہ سے ازدواجی تعلقات پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ خاندان کے بنیادی اخراجات پورے نہ ہونے کی صورت میں شوہر اور بیوی کے درمیان تنازعات پیدا ہونا ایک عام بات بن گئی ہے۔

تعلیم یافتہ اور ملازمت پیشہ خواتین میں ایسی خودمختاری کی خواہش میں اضافہ ہوا ہے، جس میں وہ اپنے شوہر کی ذرہ برابر بھی بات کو برداشت کرنا کو تیار نہیں ہوتیں، اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ کئی دفعہ مرد حضرات کی طرف سے زیادتی ہوتی ہے لیکن یہاں آزادی والے معاملے میں اکثر خواتین ہی غلطی پہ ہوتی ہیں جو اُنہیں اس وقت تو احساس نہیں ہوتا لیکن عمر ڈھلنے کے ساتھ یہ احساس شروع ہو جاتا ہے۔ پسند کی شادی کے کیسز میں خلع کی شرح بڑھنے کا رجحان بھی اسی سماجی تبدیلی کی عکاسی کرتا ہے۔ کئی خاندانوں میں برداشت کی کمی اور چھوٹے چھوٹے مسائل کو حل کرنے کے لیے مؤثر گفت و شنید کی عدم موجودگی بھی طلاق کے کیسز میں اضافے کی ایک اہم وجہ ہے۔
میڈیا پر دکھائے جانے والے ڈرامے اور فلمیں غیر حقیقی توقعات کو فروغ دیتی ہیں، جس سے ازدواجی تعلقات متاثر ہوتے ہیں۔

ہمارے معاشرے میں شوہر اور بیوی کے درمیان بات چیت کی کمی ہے۔ مسائل کو چھپایا جاتا ہے, کئی ایک دفعہ چھوٹی چھوٹی باتوں کو دل میں رکھا جا رہا ہوتا ہے۔ اور وقت کے ساتھ یہ تنازعات بڑھ جاتے ہیں۔ پہلے کے زمانے میں بزرگ خاندان کے معاملات سنبھالتے تھے، مگر آج ہر کوئی اپنی زندگی میں مصروف ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ دونوں میاں بیوی روزانہ رات کو بیٹھ کر دل میں چھپائی گئی باتیں اور شکوک وشبہات دور کر کے سوئیں، تا کہ دوری پیدا ہی نہ ہو۔“

”خلع کے کیسز میں اضافے کی ایک بڑی وجہ خواتین کی بڑھتی ہوئی آگاہی بھی ہے۔ خلع کی درخواستوں میں تقریباً 30٪ خواتین مظلوم بھی ہوتی ہیں۔ جب کہ کچھ خواتین تو قانونی حقوق کے حصول کا شعور ہونے کی وجہ سے چھوٹی چھوٹی باتوں کو جھگڑا بنا کر خلع کی درخواست دائر کر دیتی ہیں۔ اس کے ساتھ ہی یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ بعض اوقات جذباتی فیصلے مسائل کو بڑھا دیتے ہیں۔“

”اسلام میں خاندان کی اہمیت کو بہت زیادہ اہمیت دی گئی ہے اور نکاح کو ایک مقدس معاہدہ قرار دیا گیا ہے۔ طلاق کو ناپسندیدہ عمل قرار دینے کی بنیادی وجہ یہی ہے کہ یہ نہ صرف دو افراد بلکہ دو خاندانوں کے درمیان رشتوں کو توڑ دیتا ہے۔ آج کے دور میں طلاق اور خلع کے بڑھتے ہوئے رجحان کی وجہ دین سے دوری اور صبر و برداشت کی کمی ہے۔ اگر ہم اسلامی تعلیمات کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں اور ایک دوسرے کے حقوق کو پہچانیں تو یہ مسائل پیدا ہی نہ ہوں۔
قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ترجمہ: ’اور ان (بیویوں) کے ساتھ اچھے طریقے سے زندگی بسر کرو۔“

نبی اکرم ﷺ نے بھی فرمایا:
’تم میں سب سے بہتر وہ ہے جو اپنے گھر والوں کے ساتھ اچھا ہو، اور میں تم سب میں اپنے گھر والوں کے ساتھ سب سے بہتر ہوں۔

یہ تعلیمات ہمیں صبر، تحمل، اور ایک دوسرے کی عزت کرنے کا درس دیتی ہیں۔ ازدواجی زندگی کے مسائل کو حل کرنے کے لیے سب سے پہلے ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ رشتہ صرف حقوق و فرائض کا نام نہیں بلکہ محبت، احترام، اور قربانی کا ایک حسین امتزاج ہے۔
میں تمام جوڑوں کو یہ نصیحت کرتا ہوں کہ اگر کوئی مسئلہ پیدا ہو تو فوری طور پر طلاق یا خلع کا فیصلہ نہ کریں بلکہ بزرگوں، مشاورت کرنے والے علما، کرام سے رجوع کریں۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ دعا کے ذریعے اللہ سے رہنمائی طلب کریں اور اپنی ازدواجی زندگی کو بہتر بنانے کی کوشش کریں۔ اگر ہم دین اسلام کی تعلیمات پر عمل کریں گے تو یقیناً ہمارے خاندان خوشحال اور معاشرہ مضبوط ہوگا۔
ہمارے دین نے طلاق کو ایک ناپسندیدہ عمل قرار دیا ہے۔ مگر آج کل لوگ معمولی مسائل پر طلاق کی طرف مائل ہو جاتے ہیں۔ اسلامی تعلیمات کو سمجھنا اور ان پر عمل کرنا اس مسئلے کا بہترین حل ہے۔“

”خواتین کے خلع لینے کی بڑی وجہ یہ ہے کہ وہ مالی طور پر خودمختار ہو چکی ہیں اور وہ ایسے تعلقات میں نہیں رہنا چاہتیں جہاں ان کی عزت نفس مجروح ہو۔ مگر کئی بار یہ فیصلہ جلد بازی میں کیا جاتا ہے، جس سے بچوں پر منفی اثرات پڑتے ہیں۔“

قارئین! اس مسئلہ کا آخر کار حل کیا ہے،
ازدواجی تعلیم: شادی سے پہلے نوجوانوں کو ازدواجی زندگی کی ذمہ داریوں اور چیلنجز کے بارے میں آگاہی فراہم کی جائے۔

مشاورت کے مراکز: خاندانوں کے درمیان تنازعات کے حل کے لیے مشاورت کے مراکز قائم کیے جائیں۔
معاشرتی آگاہی: میڈیا اور دیگر پلیٹ فارمز کے ذریعے سماجی برداشت اور باہمی تعلقات کی اہمیت پر زور دیا جائے۔

معاشی استحکام: حکومت کو مہنگائی پر قابو پانے اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے لیے موثر اقدامات کرنے ہوں گے۔

خلع اور طلاق کے کیسز میں اضافے کی وجوہات کئی پہلوؤں پر مشتمل ہیں، جن میں سماجی، معاشی، اور نفسیاتی عوامل شامل ہیں۔ یہ مسئلہ صرف قانونی دائرہ کار تک محدود نہیں بلکہ ایک گہری سماجی تبدیلی کا آئینہ دار ہے۔ اس مسئلے کے حل کے لیے تمام متعلقہ اداروں اور افراد کو مل کر کام کرنا ہوگا تاکہ خاندانوں کو بچایا جا سکے اور معاشرتی استحکام کو یقینی بنایا جا سکے۔