تم ہی غالب آؤگے

تحریر:اللہ نوازخان

allahnawazk012@gmail.com

۔۔۔۔۔۔۔۔

امت مسلمہ پر کڑا وقت گزر رہا ہے۔جدھر بھی نظر دوڑائیے،صرف مسلمان ہی بے حدآزمائشوں کا شکار ہیں۔پوری امت مسلمہ میں ایک اضطراب کی کیفیت پائی جا رہی ہے۔یہ بھی قابل وضاحت بات ہے کہ کچھ غیر مسلم بھی ظلم و جبر سہنے پر مجبور ہیں،لیکن اکثریت مسلمان ہیں جن پر مظالم ڈھائے جا رہے ہیں۔فلسطین میں مسلمان بدترین تشدد برداشت کر رہے ہیں،یہاں تک کہ ان کو بے دردی سےتباہ کیا جا رہا ہے۔کشمیر کا مسئلہ بھی سنگین حالت کا شکار ہےاور ان کوبنیادی حقوق تک سے محروم کیا جا چکا ہے۔شام کی حالت بھی بہت ہی خراب ہو چکی ہے،اس کے علاوہ شام،لبنان وغیرہ میں بہت ہی انتشار پھیلا ہوا ہے۔افغانستان اور عراق کوجنگوں کے ذریعےتباہ کیا گیا۔اسی طرح دوسرے اسلامی ممالک بھی بدترین دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔پاکستان میں بھی دہشت گردی کے علاوہ سیاسی عدم استحکام پوری قوت سے پھیلایا جا رہا ہے۔کویت،سعودی عرب،یو اے ای وغیرہ بھی دباؤ کا شکار ہیں۔دیگر کئی اسلامی ممالک بدترین صورتحال کا سامنا کر رہے ہیں۔امت مسلمہ کی حالت دیکھ کر ہرمسلمان خون کے آنسو رونے پر مجبور ہے۔امت مسلمہ کا عروج کا زمانہ تاریخ کے اوراق میں محفوظ ہےکہ کس طرح مسلمان دنیا پر چھائےہوئے تھے؟انہوں نے کس طرح قرآن کو سینے سے لگا کردنیا کی امامت کی تھی؟ان کےسر صرف اللہ کے آگے جھکتے تھےاور دوسری کسی قوت سے نہ تو خوفزدہ تھے اور نہ ان کےآگے جھکنے کے قائل تھے۔ان کا انصاف بھی مثالی تھا اور اقتدار بھی نمایاں تھا۔موجودہ دور کے مسلمان غیروں کے آگے جھکنا تو پسند کرتے ہیں،لیکن اللہ کے سامنے جھکنا پسند نہیں کرتے۔
مسلمانوں کو تفرقہ بازی نے بہت ہی نقصان پہنچایا ہے۔اللہ تعالی نےارشاد فرمایا ہےکہ”اللہ کی رسی کو مضبوط سے تھامے رہواور تفرقہ میں نہ پڑو۔”لیکن مسلمان فرقوں میں تقسیم ہو چکے ہیں اور یہ تفرقہ بازی بہت بڑے نقصانات پہنچا رہی ہے۔کہیں مسلمان رنگ کی وجہ سےاختلافات کا شکار ہیں اور کہیں لسانی وجہ سےاختلافات رکھتے ہیں۔کئی مسلمان عصبیت کا شکار ہیں اور کئی دولت کے گھمنڈ میں اپنے آپ کو اعلی سمجھتے ہیں۔کئی مسلمان مسلکی اختلافات کا شکار ہیں اور کئی مسلمان قوت کومد نظر رکھتے ہیں۔ایک مسلمان پر ظلم ہوتا ہےتو دوسرے خاموشی سے تماشا دیکھتے ہیں۔اللہ تعالی نے جوبھائی چارے کا حکم دیا ہے مسلمان اس سے روگردانی کر چکے ہیں۔ارشاد باری تعالی ہے”مسلمان آپس میں ایک دوسرے کے بھائی ہیں”(الحجرات)اللہ تعالی کے حکم کو نظر انداز کیا جا رہا ہے اور بھائی چارہ اور اخوت کوپس پشت ڈال دیا گیا ہے۔اختلافات نےمسلمانوں میں بہت بڑی پھوٹ ڈال دی ہےاور اس کا فائدہ اسلام دشمن قوتیں اٹھا رہی ہیں۔بھائی چارےکےعلاوہ تمام مسلمانوں کو ایک جسم کی مانند کہا گیا ہے۔حدیث کے مطابق”مسلمان آپس میں ایک دوسرے سے محبت،ایک دوسرے کےساتھ رحم دلی اور ایک دوسرے کے ساتھ مہربانی اور نرمی برتتے ہیں اورایک جسم کی مثال ہیں کہ جب اس کے ایک عضو کو تکلیف ہوتی ہےتو باقی سارا جسم بھی بیداری اور بخار کے ساتھ اس کی وجہ سے بے چین رہتا ہے”(بخاری)مسلمان کیا کرتے ہیں؟کیا واقعی تمام امت مسلمہ ایک جسم کی مانند اپنے آپ کو سمجھتی ہے؟آج کل مخالفوں کا ساتھ دے کرمسلمانوں کا گلا کاٹا جا رہا ہےاور ان کوذلیل کر کے تسکین حاصل کی جاتی ہے۔تقسیم اور تفرقہ بازی امت مسلمہ کے لیے زہر قاتل ہے.جب تک ان فضولیات سےجان نہیں چھوٹے گی امت مسلمہ اس طرح ذلیل و خوار ہوتی رہے گی اور نقصان بھی اٹھاتی رہے گی۔
اللہ تعالی نےمسلمانوں پر بے تحاشہ کرم نوازیاں کی ہیں۔مسلمانوں کو یقین دلایا ہے کہ اگر تم مومن ہو تو تمہیں کامیابیاں ملتی رہیں گی۔ارشاد باری تعالی ہے”اور تم ہمت نہ ہارو اور نہ غم کرو اور تم ہی غالب آؤ گے اگر تم(کامل) ایمان رکھتے ہو”(العمران)اللہ تعالی کے احکامات کے مطابق ااگر غم اور سستی نہ کی جائےاور ایمان بھی مکمل رکھا جائے تو کامیابیاں حاصل ہوتی رہیں گی۔مومن تب بنا جاتا ہے جب دوسرے مسلمانوں کوبھائی عملی طور پر بھی سمجھا جائے۔موجودہ دور میں مسلمانوں کے اختلافات اس حد تک بڑھ چکے ہیں کہ ایک دوسرے کی طرف دیکھنا بھی گوارا نہیں سمجھا جاتا۔مسلمان سستی بھی نہ کریں اور نہ غم کا شکار ہوں اور مومن بھی ہوں تو غالب ہی آئیں گے۔غالب آنے کا وعدہ اللہ تعالی کر رہے ہیں اور اللہ تعالی کے وعدے سچے ہی ہوتے ہیں۔مسلمان اختلافات کا شکار ہو کرنقصانات اٹھا رہے ہیں۔علم سے دوری بھی بہت ہی نقصان دہ ثابت ہو رہی ہے۔علم جو مسلمان پر حاصل کرنا فرض ہےاور علم کی اہمیت سےآگاہ ہونے کے باوجود بھی اس کے حصول کی طرف توجہ نہیں دی جاتی،اس لیے بھی ناکامیوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ایک حدیث کے مطابق”علم حاصل کرنا تمام مسلمانوں پر فرض ہے”(حدیث)علم کےحصول کو اولین ترجیح دینی چاہیے۔جدید تحقیقات سے استفادہ حاصل کر کے اپنی قوت میں اضافہ کیا جا سکتا ہے۔علم سے جدید ہتھیار بنائے جا رہے ہیں اور مسلمانوں کی عدم توجہی بہت ہی نقصان دہ ثابت ہو رہی ہے۔اللہ تعالی چاہتے ہیں کہ مخالفوں اور دشمنوں کے لیے اسلحہ اورقوت کواکٹھا کیا جائے۔ارشاد باری تعالی ہے”اور(اے مسلمانو)ان کے(مقابلے کے لیے)تم سے جس قدر ہو سکے(ہتھیاروں اورآلات جنگ کی)قوت مہیا کر رکھواور بندھے ہوئے گھوڑوں کی(کھیپ بھی)اس(دفاعی تیاری)سے تم اللہ کے دشمن اور اپنے دشمن کو ڈراتے رہو اور ان کے سوا دوسروں کو بھی)جن کی(چھپی دشمنی) کو تم نہیں جانتے،اللہ انہیں جانتا ہےاور تم جو کچھ(بھی) اللہ کی راہ میں خرچ کرو گے تم کواس کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا اور تم سے نا انصافی نہیں کی جائے گی”(الانفال)مسلمانوں نےجواپنے اور اللہ کے دشمنوں کو ڈرانے کے لیے اسلحہ اورہتھیاراکٹھےکرنےتھے،اب ان کی بجائےعیاشی کے سامان اکٹھے کیے جا رہے ہیں۔قرآن کو چھوڑنا کتنے نقصانات کا سبب بن رہا ہے۔ب بھی وقت ہےاور اس وقت کو ضائع نہیں کرنا چاہیے۔
مسلمان جدت اور روشن خیالی کے نام پرعجیب عجیب ڈرامے کر رہے ہیں اور ان کی کچھ مدد نہیں کی جاتی جومجبور ہیں۔اللہ تعالی زکوۃ وصدقات کا حکم دیتا ہےاور زکوۃ وخیرات کے علاوہ عیاشوں پردولت خرچ کی جاتی ہے۔کئی جگہوں پر مسلمان نوالے نوالے کو ترس رہے ہیں،ان کے پاس پہننے کے لیے کچھ نہیں اور رہائش کے لیے بھی جگہوں کی عدم دستیابی ہے،ان کی مدد نہیں کی جاتی اوردوسری طرف فضول خرچیوں میں سرمایہ اڑایا جا رہا ہے۔مسلمانوں کی نااتفاقیاں دشمنوں کو مضبوط کر رہی ہیں۔مسجد اقصی اپنی بے بسی پررہی ہے اور اس کے وارثین اپنی خرافات میں کھوئے ہوئے ہیں۔او۔آئی۔سی کے نام پر ایک تنظیم بھی وجود میں آئی ہوئی ہے،لیکن اس کا ہونا نہ ہونے کے برابر ہے۔اس تنظیم کو فعال کرنے کی ضرورت ہے تاکہ امت مسلمہ کےمسائل حل ہوسکیں۔روشن خیالی اورجدت پسندی کو قبول کرنا چاہیےلیکن اس حد تک جتنی اسلام اجازت دیتا ہے۔قرآن کواپنانا ہوگا تاکہ آگے کی طرف بڑھا جا سکے۔امت مسلمہ اب بھی عروج حاصل کر سکتی ہے۔اس بات میں کوئی شک نہیں کہ اللہ کا حکم ہےکہ اگر تم مومن ہو اورہمت بھی نہ ہارواور نہ غم کھاؤ تو تم ہی غالب آؤ گے۔