سوڈان میں جاری خانہ جنگی

تحریر:اللہ نوازخان

allahnawazk012@gmail.com

میڈیا کی خبروں کے مطابق سوڈان میں ایک ہسپتال پر ڈرون حملہ ہوا،جس کے نتیجے میں 67افراد ہلاک ہوئےاور درجنوں زخمی ہو گئے ہیں۔ان ہلاک اورزخمی ہونے والوں میں بچے اور خواتین بھی شامل ہیں۔یہ واحد سعودی عرب کااسپتال تھاجہاں سرجری سمیت مزید سہولیات دستیاب تھیں۔اسپتال،عبادت گاہ یا تعلیمی درسگاہ کو نشانہ بنانا وحشیانہ پن ہےاور بدقسمتی سےایسے افعال بد درجنوں علاقوں میں ہو رہے ہیں۔سوڈان میں ابھی ک کوئی قبول کرنے کے لیے تیار نہیں کہ اسپتال کوکس نے نشانہ بنایا ہے؟سوڈان میں 80 فیصد اسپتالوں میں سہولیات کی شدید کمی ہےبلکہ سہولیات نہ ہونے کے برابر ہیں اور اسی وجہ سےہزاروں اموات ہو رہی ہیں۔بہت ہی افسوسناک بات ہے کہ سوڈان میں برسوں سے انارکی جاری ہےاورلاکھوں انسانوں کی زندگیاں داؤ پر لگی ہوئی ہیں۔سوڈان 1956 میں آزاد ہوا۔یہ رقبے کے لحاظ سےبہت بڑا اسلامی ملک تھااور اس کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ اکیلا سوڈان تمام عرب ممالک کی غذائی ضروریات پوری کرنے کے لیے کافی ہے۔اب وہ سوڈان خانہ جنگی کا شکار ہو چکا ہےاور بیس ہزار سے زیادہ افراد ہلاک ہو گئےہیں،بے شمار زخمی ہوئے،لاکھوں افراد نقل مکانی کر چکے ہیں۔خوراک کی شدید قلت ہے،ادویات اور دوسری ضروریات بھی قلت کا شکار ہیں۔سوڈان میں خانہ جنگی کافی عرصے سے جاری ہے۔ایس۔ اے۔ ایف( سوڈانی مسلح افواج)اورآر۔ایس۔ایف(ریپڈ سپورٹ فورس)کے درمیان شدت کی لڑائی جاری ہےاور یہ لڑائی کافی علاقوں تک پھیلی ہوئی ہے۔خرطوم،دارالسلام،دارفورکے علاوہ کئی علاقےجنگی صورتحال کا سامنا کر رہے ہیں۔ابو شوک اور السلام کے کیمپوں میں رہنے والے انسان شدیدانسانی بحران کا سامنا کر رہے ہیں۔اس لڑائی کا شکار ہونے والے انسان ضروریات زندگی کے لیے ترس رہے ہیں۔بےگھر ہونے والے افرادبھی مصائب زندگی برداشت کرنے پر مجبور ہیں۔تعلیم،صحت،خوراک اور دیگر بنیادی مسائل بہت حد تک خراب ہو چکے ہیں۔
سوڈان وسیع رقبے کا مالک ہے،لیکن کافی رقبہ حالات کی وجہ سے ویران پڑا ہوا ہے۔پانی کےزیرزمین ذخائر بھی بہت زیادہ ہیں۔جو رقبہ زیر کاشت نہیں اس کو قابل کاشت بنا کر دنیا میں معاشی لحاظ سےسوڈان ایک طاقتور سٹیٹ بن سکتا ہے،لیکن حالات اس بات کی اجازت نہیں دیتے کہ جو رقبہ کاشت کے قابل نہیں اس پر کاشت کی جائےاورجہاں کاشتکاری کی جا رہی ہے وہ بھی تقریبا رک چکی ہے۔تیل بھی نکل رہا ہےاور دارفور میں سونے کی کانیں بھی موجود ہیں۔اتنے وسیع ذخائر کا مالک سوڈان قحط کا شکار ہو چکا ہےاور اس کی وجہ خانہ جنگی ہے۔خانہ جنگی نےسوڈان کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا ہے۔وسیع دولت کے مالک سوڈانی شہری چند لقموں کے لیےترس رہے ہیں۔ان کے پاس نہ تو خوراک موجود ہےاور نہ رہائش سمیت ضروری سہولیات موجود ہیں۔خانہ جنگی اگر فوری طور پر ختم ہو جائے تو سوڈان تھوڑے عرصے میں اپنی حالت بہتر بنا سکتا ہے۔سوڈان کے شہری پرامن سوڈان میں بہترین زندگی گزارنےکے قابل ہو سکتے ہیں اوروہ افراد جو ہجرت کر گئے ہیں،وہ بھی واپس آکرسوڈان کوایک عظیم ملک بنا سکتے ہیں۔سوڈان کے خزانےسوڈان کے دشمن بنے ہوئے ہیں۔سونا اور دیگر دھاتوں کی لالچ دوسری طاقتوں کو متوجہ کر رہی ہے۔تیل بھی ایک بڑی دولت ہےاور یہ دولت دوسروں کی رال ٹپکا رہی ہے۔اقوام متحدہ کی طرف سےبھی سوڈان کے مسائل پرنوٹس لیا جا چکا ہے،لیکن کوئی بڑی کوشش نہیں کی گئی کہ سوڈان کے حالات بہتر ہو جائیں۔
سوڈان میں خانہ جنگی بیرونی طاقتوں کو دعوت دے رہی ہے کہ اس موقع سے فائدہ اٹھائیں۔2012 میں سوڈان کا ایک حصہ ریفرنڈم کے ذریعے علیحدہ کر دیا گیااور نئی سٹیٹ کوبڑی خوش دلی سےعالمی طاقتوں نے تسلیم کیااور اسرائیل نے زیادہ گرم جوشی دکھائی۔اسرائیل کے علاوہ دوسرے کئی ممالک سوڈان کو انتشارکاشکار دیکھنا چاہتے ہیں۔مختلف این جی اوزاور بڑی طاقتوں نے سوڈانی انتشار کو ہوا دی۔سعودی عرب اور عرب امارات بھی الزامات کا سامنا کر رہے ہیں کہ وہ بھی سوڈان میں مداخلت کر رہے ہیں۔دارفور میں سونے کی کانوں پر بھی قبضہ کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔سوڈانی مسلح افواج اور ریبپڈسپورٹ فورسز کے درمیان لڑائی پوری شدت سے جاری ہے۔اس لڑائی میں کبھی آر ایس ایف اور کبھی ایس اے ایف کا پلٹرا بھاری ہو جاتا ہے۔مخالف فریق ایک دوسرے کوتباہ کرنے کی پوری کوشش کر رہے ہیں اور بیرونی مدد بھی دونوں فریقوں کو مل رہی ہے۔اس خانہ جنگی نےسوڈان کو برباد کر کے رکھ دیا ہے۔ایک بات واضح ہےکہ سوڈان کے دو مسلح گروہوں کی لڑائی سوڈان کو نقصان پہنچانے کا سبب بنے گی اور دونوں گروہ بیرونی قوتوں کی بالادستی قبول کرنے پر مجبور ہو جائیں گے۔
سوڈان میں جاری خانہ جنگی نےبڑے بڑے جرائم کو فروغ دے دیا ہے۔ریپ اور گینگ ریپس عام ہو رہے ہیں اور ریپ کو بطور ہتھیار بھی استعمال کیا جا رہا ہے۔خواتین سے ریپ جبری طور پر کیے جا رہے ہیں،یہاں تک کہ چھوٹی چھوٹی بچیوں کو بھی جنسی تشدد کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔کئی خواتین کو اس لیے بھی جنسی تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے کہ وہ گھروں سے باہر کیوں گھوم رہی ہیں۔لا قانونیت،لوٹ مار،بھتہ خوری،ماورائے عدالت قتل،اقلیتوں سے ناروا سلوک اور دیگر کئی قسم کے جرائم بہت بڑی تعداد میں ہو رہے ہیں۔تشدد بھی عام ہےاور تشدد بھی غیر انسانی کیا جاتا ہے۔آر ایس ایف اورایس اے ایف کے درمیان جاری جنگ خونریزی میں بھی اضافہ کر رہی ہےاور نسل انسانی کو قتل کرنے کاسبب بن رہی ہے۔سوڈان جو ایک اسلامی ملک تھا اور آزادی کےبعدترقی کی طرف رواں دواں تھا لیکن خراب حالات کی وجہ سےبدترین حالت میں پہنچ چکا ہے۔عالمی برادری فوری طور پراس خانہ جنگی کوروکے،اسلامی ممالک خصوصی دلچسپی لےکراس انسانی قتل عام کو روکے۔سوڈان کی بدامنی دوسرے علاقوں کو بھی لپیٹ سکتی ہےاور اس کا دائرہ وسیع علاقوں اور خطوں تک پہنچ سکتا ہے۔دنیا میں امن بحال کرنے کے لیے سوڈان میں دہشت گردی اور خانہ جنگی روکنی ہوگی۔سوڈان کےمسلح گروپ جو ایک دوسرے سےبرسرپیکار ہیں،ان کو دانشمندی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔اس خانہ جنگی سے دوسروں کے لیے بھی ایک سبق ہے کہ جو قوم یا ملک اس طرح کے حالات کا شکار ہو جائے تو وہ بربادی کی طرف چل پڑتے ہیں۔